واجب العلماء هو استنهاض الأمة لإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة
واجب العلماء هو استنهاض الأمة لإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة

ذكرت جريدة الشروق الأربعاء 2015/11/25م، أن الأزهر وعلى رأسه أحمد الطيب شيخ الأزهر قد أدان بشدة قصف الطائرات الفرنسية لمدرسة فاطمة الزهراء الابتدائية في منطقة الزهور شرقي مدينة الموصل بمحافظة نينوى العراقية

0:00 0:00
Speed:
November 28, 2015

واجب العلماء هو استنهاض الأمة لإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة

واجب العلماء هو استنهاض الأمة لإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة

الخبر:

ذكرت جريدة الشروق الأربعاء 2015/11/25م، أن الأزهر وعلى رأسه أحمد الطيب شيخ الأزهر قد أدان بشدة قصف الطائرات الفرنسية لمدرسة فاطمة الزهراء الابتدائية في منطقة الزهور شرقي مدينة الموصل بمحافظة نينوى العراقية، والذي أسفر عن استشهاد ثمانية وعشرين طفلًا، وإصابة خمسة وعشرين آخرين، حيث أكد في بيان الأربعاء، أن استهداف الأطفال الأبرياء لن يقضي على الإرهاب بل يوسع دائرته ويزيد من تمدده وانتشاره، مجددًا تحذيره من أن المعالجات الخاطئة وردود الفعل العشوائية وعدم تحري الدقة في استهداف معاقل الإرهابيين بما يؤدي إلى سقوط مدنيين أبرياء، يعد شكلا آخر من أشكال الإرهاب، وطالب «الأزهر»، في بيانه، السلطات الفرنسية بفتح تحقيق عاجل في الحادث لتحديد أسبابه ومحاسبة المسؤولين عنه، وإعلان ذلك، كما طالب بتحرك جماعي منظم وفق رؤية موحدة للقضاء على التنظيمات المتطرفة وتخليص العالم من شرورها.

التعليق:

في عهد رسول الله e عهد التشريع أجلى e بني قينقاع عن المدينة جراء اعتدائهم على امرأة مسلمة، لأن المسلمين أمة واحدة من دون الناس يجير عليهم أدناهم ويرد عنهم أقصاهم وهم يد على من سواهم، وكان بعد ذلك رد رسول الله e على عمرو بن سالم عندما أتاه يشكو غدر قريش ونقض العهد وقتل خزاعة في حجر الكعبة (نصرت يا عمرو بن سالم)، وسمعنا ما كان من المعتصم وفتح عمورية نصرة لامرأة مسلمة واحدة في أسر الروم. لم يشجب رسول الله فعل يهود ولم يصرح ببيانات الإدانة لقتل بني بكر لخزاعة، بل حرك جيش المسلمين نصرة للمستضعفين، ولم يجلس المعتصم في قصره ولم يكلف وزراءه وعلماءه بكتابة بيانات الإدانة لفعل الروم ولم يرسل للروم طلبا للتحقيق في الواقعة، وإنما جيش جيشه وقال والله لا أذوق الماء حتى أنتصر لهذه المرأة، هكذا كانت الردود وهكذا كان الغضب لله ورسوله وحرماته التي تنتهك، غضب تتحرك معه الجيوش وتفتح البلدان ويُنصر المستضعفون.

أما ما نرى ونسمع من رجال الأزهر متصدري مجالس العلم فعجب عجاب، فالعلماء هم ورثة الأنبياء وما رأيناه هو فعل النبي صاحب السنة ومن تلقينا عنه التشريع والذي ما تحرك قيد شعرة بما يخالف أوامر الله ونواهيه، فأين أنتم يا علماء الأزهر منه ومن سنته؟! ألم يكن جديرا بكم أن تحرضوا جيش الكنانة على نصرتهم والرد على فرنسا قاتلة أطفالنا في العراق وقبلها في الجزائر وتونس ومالي بل وقديما في مصر أم هل تراكم نسيتم ما فعلوه بسليمان الحلبي عندما غضب لقتلهم علماء الكنانة؟! ربما لا تعلمون فهذه أشياء منع الحكام الخونة تدريسها في مدارسنا والغرب وعملاؤه هم من يكتبون تاريخنا ومناهجنا التي ندرسها.

إن أفعال فرنسا وما سفكته من دماء المسلمين يا علماء الأزهر موثق رغم هذا الكم الهائل من تزييف التاريخ وإظهارها في ثوب المدافع عن الحرية وحاملة لواء المساواة والعدالة، وستحاسب عليه كله قريبا أمام خليفة المسلمين القادم إن شاء الله، كما ستحاسبون أنتم، لا على تهاونكم في حقوق الأمة بل على تواطؤكم مع عدوها عليها وتبرير قتله وسفكه دماءها والاكتفاء بتنديد وشجب ما هو إلا لذر الرماد في العيون.

إن الواجب الشرعي يا علماء الأزهر يقتضي منكم وأنتم في ميراث النبوة مؤتمنون من الأمة  وتضعكم موضع الريادة فيها، واجبكم أولا هو قيادة الأمة للعمل لإقامة الخلافة على منهاج النبوة تحرك الجيوش الرابضة في ثكناتها لنصرة المستضعفين في العراق والشام وبورما وغيرها من بلاد الإسلام، ودعوة أبناء الأمة في الجيوش إلى فك ارتباطهم بحكامنا العملاء وجعل ولائهم لله أولا وأخيرا ووضعهم أمام ما فرضه الله عليهم من نصرة الحق وأهله وتذكيرهم أنه لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق، وأن الطاعة الواجبة عليهم هي لله ولرسوله ولمن تعطيه الأمة سلطانها عن رضا واختيار ببيعة شرعية صحيحة كي يحكمها بالإسلام كاملا شاملا في دولة الخلافة على منهاج النبوة.

وإننا ندعوك ومن خلفك يا شيخ الأزهر للعمل للخلافة مع العاملين واحتضان فكرتها وحث الجيوش على احتضان العاملين لها، فإنها قائمة لا محالة بكم أو بغيركم فركبها قد أوشك على المسير والغرب أدرك ذلك جيدا، وما تصعيد حربه على الإسلام إلا نتيجة هذا الإدراك، فلا تصفوا في صفوف أعداء أمتكم فقريبا ينفضّون عنكم ولن ينفعكم الفرار ولا الاعتذار يومها وستحاسبكم الأمة حسابا عسيرا، فلا تكونوا من الذين باعوا دينهم بدنيا الحكام وأعوانهم وأسيادهم فخسروا خسرانا مبينا، واعلموا أنه لن يستوي العاملون للخلافة مع المصفقين لها حال قيامها، فكيف بمن عاداها وحاربها وظاهر أعداء الأمة عليها؟!

يا علماء الأزهر وشيخه! إن الخيار في أيديكم الآن فلا تضيعوه وفوتوا الفرصة على عدوكم واحملوا همّ أمتكم التي ائتمنكم ربكم عليها وبلغوا رسالة ربكم التي ورثتم عن رسوله r وكونوا في طليعة العاملين مع حزب التحرير لاستئناف الحياة الإسلامية من خلال خلافة على منهاج النبوة تنتصر فعلا وبشكل كامل لأطفال العراق وكل المستضعفين من أبناء المسلمين بل ومن كل الناس، بهذا فقط نفلح وتفلحون وتفوزون فوزا عظيما وتكونون مع خيار الأولين من الصحب الكرام والصديقين الأبرار.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست