وأخيراً.. تمكين المرأة السعودية من الخدمات دون إذن ولي أمرها
وأخيراً.. تمكين المرأة السعودية من الخدمات دون إذن ولي أمرها

الخبر: وجه العاهل السعودي الملك سلمان بن عبد العزيز بعدم مطالبة المرأة بالحصول على موافقة ولي أمرها حال تقديم الخدمات لها، ما لم يكن هناك سند نظامي لهذا الطلب وفقا لأحكام الشريعة الإسلامية. وتشمل الخدمات التي تتطلب سنداً نظامياً كلاً من التعليم الجامعي، حيث تشترط بعض الجامعات موافقة ولي الأمر، واستخراج تصريح السفر، واستخراج وتجديد جواز السفر، والابتعاث. وجاء ذلك في تعميم "على جميع الجهات الحكومية المعنية، بعد الموافقة على المقترحات التي رفعتها الأمانة العامة لمجلس الوزراء لحل الإشكالات فيما يتعلق بحقوق المرأة، نشرته هيئة حقوق الإنسان على موقعها".

0:00 0:00
Speed:
May 06, 2017

وأخيراً.. تمكين المرأة السعودية من الخدمات دون إذن ولي أمرها

وأخيراً.. تمكين المرأة السعودية من الخدمات دون إذن ولي أمرها

الخبر:

وجه العاهل السعودي الملك سلمان بن عبد العزيز بعدم مطالبة المرأة بالحصول على موافقة ولي أمرها حال تقديم الخدمات لها، ما لم يكن هناك سند نظامي لهذا الطلب وفقا لأحكام الشريعة الإسلامية. وتشمل الخدمات التي تتطلب سنداً نظامياً كلاً من التعليم الجامعي، حيث تشترط بعض الجامعات موافقة ولي الأمر، واستخراج تصريح السفر، واستخراج وتجديد جواز السفر، والابتعاث. وجاء ذلك في تعميم "على جميع الجهات الحكومية المعنية، بعد الموافقة على المقترحات التي رفعتها الأمانة العامة لمجلس الوزراء لحل الإشكالات فيما يتعلق بحقوق المرأة، نشرته هيئة حقوق الإنسان على موقعها".

وأشارت التوجيهات الأخيرة إلى دعم هيئة حقوق الإنسان لتتولى بالتنسيق مع الجهات الحكومية المعنية وضع ما يلزم من برامج للتعريف بالاتفاقيات الدولية التي انضمت لها المملكة، وذلك من خلال وضع خطة شاملة للتوعية بحقوق المرأة من خلال وسائل الإعلام والمؤسسات التعليمية والتدريبية، على أن يشمل ذلك توضيح البنود التي تحفظت عليها المملكة في تلك الاتفاقيات وطبيعة التزامات المملكة بهذه الاتفاقيات. (سكاي نيوز - العربية - عكاظ - الحياة 2017/5/4).

التعليق:

تبع تداول خبر المرسوم الملكي تدشين وسم (#تمكين_المراة_بلا_ولي) وتصدر الوسم الأول سعوديا والثالث عالميا في قائمة الأكثر تداولا. واحتفل البعض بالمرسوم الملكي بعدم مطالبة النساء بموافقة ومرافقة ولي الأمر في حال طلب الخدمات واعتبروه بادرة طيبة وبداية لعهد جديد. بينما اعتبره آخرون انتصارا للحملة التي أطلقتها في تموز/يوليو من العام 2016 ناشطات سعوديات بدعم من منظمة هيومن رايتس ووتش لحقوق الإنسان حيث أصدرت المنظمة تقريرًا بعنوان "كمن يعيش في قفص"، رصدت خلاله معاناة النساء السعوديات من خلال شهادات ممن يعشن تحت وصاية الرجل وهيمنة نظام الولاية، ووفقًا للتقرير فإن عشرات النساء قلن للمنظمة إن نظام الولاية هو أهم عقبة أمام حرية المرأة، ويجعل النساء البالغات قاصرات من الناحية القانونية، ولا يستطعن اتخاذ أي قرار لأنفسهن. وفي أيلول/سبتمبر من العام نفسه وقعت قرابة 14 ألف امرأة سعودية عريضة للحكومة تطالب بإنهاء نظام ولاية الرجل على المرأة، صاحبها هاشتاج انتشر على مواقع التواصل الإلكتروني بعنوان "أنا ولية أمري" للتخلص من نظام الولاية. ودعت الناشطات في حملة رفض الولاية عن المرأة للتفريق بين مصطلحات (الولاية - والقوامة - الوصاية) وأن اللبس في مدلولات هذه المصطلحات أدى للإضرار بالمرأة في السعودية وحدَّ من نشاطها ومساهمتها في المجتمع، كما أدى إلى ممارسات فردية مشينة وتعطيل للمصالح وانتهاك لحقوقها واستغلال المرأة اقتصاديا بشتى الطرق.

وقد سبق إعلان المرسوم الملكي انضمام السعودية للجنة حقوق المرأة في الأمم المتحدة في  2017/04/19 وهي اللجنة التي تقوم على وضع التقييمات للتحديات التي تحول دون المساواة بين الجنسين وتشرف على تطبيق ومتابعة الاتفاقيات الأممية الخاصة بالمرأة. وقد أثار انتخاب السعودية لهذه اللجنة حفيظة المتابعين الغربيين بسبب ملف المرأة في السعودية خصوصا وأن الاختيار أتى بعد تصويت سري خلال انعقاد المجلس الاقتصادي والاجتماعي للأمم المتحدة. وكما هو معروف التصويت في لجان الأمم المتحدة يخضع لاعتبارات سياسية بالدرجة الأولى كما ذكر موقع صحيفة "بيلد" الألمانية "إن منظمات حقوق الإنسان والمنظمات المدافعة عن حقوق المرأة شعرت بالذهول حين علمت باختيار السعودية لقيادة لجنة شؤون المرأة في الأمم المتحدة".

لم تحسم السعودية ملف المرأة ولا زال الصراع بين التيار الليبرالي العلماني والتيار القبلي المحافظ على أشده. وبالرغم من أن الأمر لم يحسم إلا أن التغييرات السياسية الأخيرة موجهة لكسب رضا الغرب بالدرجة الأولى ومنسجمة مع "رؤية السعودية 2030" والتي تضمنت تعهد السعودية بتحسين أوضاع المرأة. وقد عبر عن ذلك الأمير محمد بن سلمان في لقائه مع شبكة بلومبيرغ "أنا فقط أريد أن أذكر العالم بأن النساء الأمريكيات كان عليهن الانتظار طويلاً قبل أن يأخذن حقهن في التصويت. لذا نحن أيضا بحاجة لبعض الوقت. أخذنا العديد من الخطوات. وفي عهد الملك سلمان النساء أصبحن قادرات على التصويت لأول مرة، و20 سيدة فزن في تلك الانتخابات. النساء يستطعن العمل الآن في أي قطاع، في التجارة والأعمال والمحاماة والمجال السياسي وكل القطاعات. النساء يستطعن أيضاً تولي أية وظيفة يردنها. ونحن ندعم النساء في المستقبل ولا أعتقد بأن هناك عقبات لا يمكن حلها. (نص الحوار مع شبكة بلومبيرغ نشرته العربية 2016/4/6)

إن زمرة الإجراءات والإصلاحات التي تقوم بها السعودية حق يراد به باطل وما هو إلا إفراط في التبعية والتودد للغرب، وقد كان الأولى أن يكون الحكم لله والمرجعية لكتاب الله وسنة رسوله فالحق أحق أن يتبع. وقد أقر الإسلام للمرأة بالحقوق التي تستجديها بعض الناشطات النسويات اليوم عبر هيئات دولية منذ أكثر من 14 قرنا، فاعتبروا يا أولي الألباب.

عجباً لمن يزعم أن العمل لاستئناف الحياة الإسلامية وتطبيق شرع الله عودة للوراء ودعوة للعيش في عصر بدائي... ألا يرى حال من يعطي بمرسوم ملكي حقاً وهبه ملك الملوك العزيز الجبار قبل 1400 عام ويعترف بأهلية المرأة؟! وعجبا لمن يغفل عن النظام الاجتماعي في الإسلام وطرحه المتفرد لمعالجة علاقة المرأة والرجل في المجتمع وما ينتج عنها بنظام رباني بعيداً عن مهاترات وعقم وضيق أفق سيداو وأخواتها!

﴿وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا اكْتَسَبْنَ وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِن فَضْلِهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

هدى (أم يحيى بنت محمد)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست