(وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ)!
(وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ)!

الخبر:   في 3 نيسان/أبريل، بدأ الجيشان الروسي والطاجيكي تدريبات مشتركة عبر حدود أفغانستان تستمر حتى 7 نيسان/أبريل، حسبما ذكرت وكالة أنباء تاس الروسية يوم الاثنين. تجري التدريبات في ساحة تدريب خرب ميدون في طاجيكستان، على بعد 20 كيلومتراً من حدود أفغانستان. ستمارس روسيا وطاجيكستان التحضير لعملية مشتركة وتنفيذها على التضاريس الجبلية للقضاء على الجماعات المسلحة الخارجة عن القانون التي تتدخل في أراضي دولة حليفة، ...

0:00 0:00
Speed:
April 09, 2023

(وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ)!

﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ قَالُوا سَمِعْنَا وَهُمْ لَا يَسْمَعُونَ!

(مترجم)

الخبر:

في 3 نيسان/أبريل، بدأ الجيشان الروسي والطاجيكي تدريبات مشتركة عبر حدود أفغانستان تستمر حتى 7 نيسان/أبريل، حسبما ذكرت وكالة أنباء تاس الروسية يوم الاثنين. تجري التدريبات في ساحة تدريب خرب ميدون في طاجيكستان، على بعد 20 كيلومتراً من حدود أفغانستان. ستمارس روسيا وطاجيكستان التحضير لعملية مشتركة وتنفيذها على التضاريس الجبلية للقضاء على الجماعات المسلحة الخارجة عن القانون التي تتدخل في أراضي دولة حليفة، وكذلك ممارسة القيادة والسيطرة على القوات المشتركة لعرقلة وتدمير تشكيل مسلح غير قانوني. منذ أن استعادت طالبان السيطرة على البلاد، انخرط الجيشان الروسي والطاجيكي مراراً في مناورات مماثلة على طول الحدود الأفغانية. ومع ذلك، فقد رفض مسؤولو طالبان باستمرار المخاوف بشأن تهديدات "الإرهابيين" التي تنطلق من أفغانستان إلى الدول الأعضاء في منظمة معاهدة الأمن الجماعي.

التعليق:

لا شك في أن نصر الله سبحانه وتعالى مكّن المجاهدين الأفغان من التغلب على قوات أمريكا وحلف شمال الأطلسي في أفغانستان. لكن هذا الانتصار تحقق لأن المجاهدين الأفغان حاربوا الكفار الأجانب المتغطرسين بأيد فارغة على أساس الإسلام من خلال الثبات والصبر والتحمل على طول الطريق. ومع ذلك، بعد استعادة السيطرة، أقامت طالبان علاقات دبلوماسية مع جميع جيران أفغانستان، وحتى مع أعداء محاربين مثل الصين وروسيا بناءً على المصالح الوطنية، بالإضافة إلى تقديم تأكيدات بأنه لن يتمّ توجيه أي تهديدات من أفغانستان تجاههم. وعلى الرغم من ذلك، لا تزال هذه الدول لا تشعر بالأمان وتتخذ إجراءات مختلفة استجابةً لمخاوفها، والتي تعد التدريبات العسكرية المشتركة بين روسيا وطاجيكستان مجرد مثال على ذلك.

ولو ألقى المرء نظرة فاحصة على صراع المجاهدين الذي دام 20 عاماً ضد الاحتلال الصليبي لأفغانستان، فسيجد أنه يشبه إلى حد كبير الصراع الذي حصل في معركة بدر التي شهدت قتال طرفين غير متكافئين. وعلى غرار المسلمين في معركة بدر الذين كانوا يمتلكون مثل هذا النوع البسيط من الأسلحة وكانوا أقل بثلاث مرات من قريش، كذلك واجه المجاهدون الأفغان أمريكا وحلف شمال الأطلسي بمعدات بسيطة جداً وعدد قليل من الجنود. ومع ذلك، فقد نجحوا في هزيمة الكفار وقتلهم وأسرهم ومقايضة الأسرى. في النهاية، ومن خلال نصر الله، أجبر الكفار على الفرار من أفغانستان. لذا يجب على المجاهدين الأفغان تقييم أنفسهم في ضوء سورة بدر أو الأنفال في هذا الصدد.

 يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَى وَلِيُبْلِيَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ بَلَاءً حَسَناً إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ﴾، وبنبرة مماثلة، يربط الله سبحانه وتعالى النصر بنفسه فقط، فيقول سبحانه: ﴿وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِندِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾.

يذكر الله سبحانه وتعالى بوضوح في الآية التاسعة والثلاثين من السورة نفسها أن هذه المعركة لن تقتصر على بدر بل ستستمر بقدر ما تستمر الفتنة على وجه الأرض (أي حتى يوم القيامة). فاستعدوا للحروب الكبرى بين الكفر والإسلام، كما قال الله سبحانه وتعالى في منتصف سورة الأنفال أن هذه المعركة لا تقتصر على بدر فحسب، بل ستستمر حتى يوم القيامة، ما لم يتم القضاء على الفتنة (أي الكفر).

﴿وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ﴾.

وبحسب سورة الأنفال، يجب على المجاهدين الأفغان اختيار مصالح الأمة الإسلامية على أساس الإسلام فوق المصالح الوطنية المحرمة، والتحلي بجميع الصفات الروحية التي ذكرت في بداية سورة الأنفال عن المؤمنين الحقيقيين؛ والاستعداد للحروب الكبرى بين الكفر والإسلام بكامل طاقتهم وقدراتهم وتنظيمهم، والاستعداد مادياً لكل الصفات المشار إليها في آيات سورة الأنفال الأخيرة: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَّنَصَرُوا أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقّاً لَّهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ﴾.

ويمكن هذا فقط إذا قامت أفغانستان وغيرها من البلاد الإسلامية بإلغاء الحدود الوطنية، وأن يصبح بعض المجاهدين الحاليين (المهاجرين) والمجاهدون الأفغان (الأنصار)؛ وإقامة الخلافة الراشدة الثانية، ومواصلة الجهاد لاستئصال الفتنة (أي الكفر).

إن النصر والقوة والسلطة التي أوكلت إليكم (أي إلى المجاهدين الأفغان) هي "وصاية"، يجب الحفاظ عليها وفقاً للعهد وليس كما حدث مع بني إسرائيل حين نقضوه. وهذا العهد يقتضي تطبيق الإسلام داخليا وحمله للناس خارجيا بالدعوة والجهاد، والظهور كأمة الخير والشهادة والعدل وفقا للسياسة الخارجية للدولة الإسلامية. وإذا فشلتم في ذلك من خلال الاستمرار في إشغال أنفسكم بغنائم الحرب التي خلفها الغزاة الصليبيون؛ واستمريتم بالمطالبة بالاعتراف بكم من جانب الكفار؛ والسيطرة على أراضي أفغانستان فقط، واستخدام الحكم للتركيز فقط على الأمن الجيد والاقتصاد وإعادة الإعمار مع التنافس أيضاً مع الدول القومية الأخرى، فإن الآية التالية من سورة الأنفال سوف تنطبق عليكم: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَخُونُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ وَتَخُونُوا أَمَانَاتِكُمْ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾.

وتنص السنة النبوية على أن لكل خائن لواءً مثبتا في ظهره في الآخرة، ويكون ارتفاعه متناسباً مع غدره وخيانته، ويكون لواء القائد (أمير العامة) هو الأعلى.

لذلك يجب أن تدركوا أن الكفار حذرون منكم ولن يثقوا بكم إلا إذا قبلتم دينهم (القوانين الدولية، النظام العالمي، الاقتصاد العالمي، قرارات الأمم المتحدة، حقوق الإنسان، حقوق المرأة، إلخ)؛ ولكنكم، إذا فعلتم ذلك، فسوف تفقد الأمة إيمانها بكم وستتوقف عن توقع الخير منكم.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سيف الله مستنير

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست