وعود زائفة بتحقيق المساواة وتمكين النساء موفى 2030!!
وعود زائفة بتحقيق المساواة وتمكين النساء موفى 2030!!

بتاريخ 27/09/2015 عقد في الأمم المتحدة اجتماع رفيع المستوى ضمّ نحو 80 من قادة العالم  تمحور حول المساواة بين الجنسين وتمكين النساء.

0:00 0:00
Speed:
September 30, 2015

وعود زائفة بتحقيق المساواة وتمكين النساء موفى 2030!!

وعود زائفة بتحقيق المساواة وتمكين النساء موفى 2030!!


الخبر:


بتاريخ 27/09/2015 عقد في الأمم المتحدة اجتماع رفيع المستوى ضمّ نحو 80 من قادة العالم  تمحور حول المساواة بين الجنسين وتمكين النساء.


ويأتي اللقاء في إطار الحملة العالمية التي أطلقتها الأمم المتحدة لتجديد التزام الدول بـ"المساواة بين الجنسين" على أسس إعلان بكين. كما يأتي أيضا في سياق إعلان الهيئة الأممية أهدافها الإنمائية المستدامة  2030 ومبادرة "كوكب 50-50: "نتصور عالما تتمتع فيه جميع النساء والفتيات بتكافؤ الفرص والحقوق بحلول عام 2030. إنها خطوة لندفع الحكومات لتقديم التزامات وطنية من شأنها أن تسد الفجوة في مجال المساواة بين الجنسين".

التعليق:


إنّ اللافت في هذا الاجتماع وما يميزه عن الاجتماعات الكثيرة التي تعقدها الأمم المتحدة في نفس السياق هو زعمهم هذه المرة إصدار إجراءات ملموسة وقابلة للقياس لبدء التغيير السريع في بلدان العالم وإحداث النقلة النوعية في موفى 2030!!  حتى عُدّ الأمر عندهم  حدثا تاريخيا استبشروا به وبالتعهدات التي قدمها رؤساء الدول والحكومات على الهامش.


كما زعموا أيضا أنّ قضية تمكين النساء وتحقيق المساواة احتلت ما لم تحتله قضية أخرى على مستوى الاهتمام السياسي في قمة الأمم المتحدة المنعقدة في الفترة 25-27 أيلول/سبتمبر لاعتماد جدول أعمال عام 2030، وأهداف التنمية المستدامة. وهو أمر عندهم يبشر بكل خير!!


قالت مزيلي ملامبو نوكا المديرة التنفيذية لهيئة الأمم المتحدة أنّ "تلك التعهدات ستكون الخطوات الأولى باتجاه تحقيق أجندة التنمية المستدامة لعام 2030، والمستقبل الذي نريده للفتيات والنساء. المستقبل الذي ناضل المجتمع المدني والحركات النسائية من أجله. إن هيئة الأمم المتحدة للمرأة تتشرف بأن تكون جزءا من هذه اللحظة المهمة."


المؤسف حقا أنّ مثل هذه الكلمات تذكرنا كثيرا بتلك التي قيلت تزامنا مع إصدار وثيقة بكين؛ فحينها صرحوا أيضا أنه "إعلان تاريخي يمتلك رؤية واضحة لتمكين النساء ويجسد الإطار الأكثر شمولاً للسياسة العالمية، وبرنامج عمل… لتحقيق المساواة بين الجنسين وحقوق النساء والبنات في كل مكان"!!


ورغم مرور عشرين عاما كاملة على إصدار تلك الوثيقة والفشل الذريع في إيجاد المساواة على أرض الواقع والذي اعترفت الأمم المتحدة نفسها به على لسان بان كي مون والمديرة التنفيذية التي بينت "أن العالم لا يزال بعيدا عن تحقيق المساواة بين الرجل والمرأة والفتيان والفتيات"، رغم ذلك يخرجون علينا بزعمهم امتلاك القدرة على تحقيق ما عجزوا عنه في عشرين سنة في الخمسة عشر سنة المقبلة، ويكأنهم باتوا يمتلكون عصا سحرية تحقق المعجزات!!!


سنكتفي لبيان زيف ادعاءاتهم بذكر أمور ذكرت في بعض دراساتهم ودراسات منظمات تابعة لهم وصحف على سبيل التذكير؛ فالواقع يثبت يقينا أن وعودهم سراب بقيعة يحسبه الظمآن ماء حتى إذا جاءه لم يجده شيئا:


جاء في دراسة للاتحاد البرلماني الدولي وهيئة الأمم المتحدة للمرأة أنّ نصيب المرأة من المقاعد البرلمانية عالميا قد ارتفع من %1.5 ليصل إلى %21.8 منذ عام 1995 أي ما يعادل المثلين تقريبا وأنه وفقا لهذا المعدل قد يستغرق الأمر عقودا للوصول إلى تكافؤ الجنسين فى البرلمانات!!!


 كما نشرت صحيفة "الجارديان" البريطانية تقريراً أجراه معهد الأبحاث السياسية للمرأة جاء فيه "أنه إذا ارتفع معدل المساواة في الأجور بين الجنسين بالولايات المتحدة بنفس الوتيرة الحالية، فلن تتحقق العدالة في الأجور قبل عام 2058".. كما كشفت الدراسة أن أميركا  التي تشهد أكبر معدلات للنمو في أجور المرأة لا تزال على بعد عشرات السنين قبل حدوث التكافؤ مع الرجل ولكن لن تتحقق المساواة قبل عام 2038!!


ووفقًا لتقرير نشره الاتحاد البرلماني الدولي  (IPU)فإنّ عدد النساء في العالم اللواتي يترأسن دولة أو يتولين منصب أعضاء برلمان سجّل ارتفاعًا قليلًا منذ إعلان بكين، وما زال بعيدًا جدًا عن الهدف بأن يكون عددهن متساويًا مع الرجال في المناصب السياسية الكبيرة، وحسب بيانات "IPU" فإنّه حتى تاريخ الأول من كانون الثاني/يناير عام 2015، هناك 19 امرأة فقط ممن شغلن مناصب رئاسة دول وحكومات، من بين 193 الدول الأعضاء في الأمم المتحدة.


بدورها، قالت رئيسة "IPU" ‫سايبر تشودهوري‬ في السياق ذاته "ما زلنا بعيدين عن المكان الذي يجب أن يكون العالم فيه في موضوع المساواة بين الجنسين ومشاركة المرأة في السياسة".


بعد ما ذكر آنفا نزيد عليه أنه ليس هناك مجال للشك أنّ زعم الأمم المتحددة امتلاك استراتيجية واضحة وإجراءات عملية توصلها لتحقيق المساواة والتمكين للنساء في العالم هي محض وعود زائفة سيثبت الزمن أنها ستخلف كما أخلفت قبلها أماني بكين ووعوده فلطالما وعدوا وأطنبوا وأخلفوها جميعها. وكما بان بالكاشف إخفاقهم في تأمين حقوق المرأة سيكتشف العالم يوما "ولعله سيكون عاجلا" مدى متاجرة تلك الاتفاقيات والمقررات بهموم النساء ومعاناتهنّ واعتمادها فقط من أجل ضمان مصالح دولية معينة تتجمل بمساحيق الحقوق والإنسانية لتغطية وجهها القبيح الشرير الانتهازي. وإنّ غدا لناظره لقريب.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
هاجر اليعقوبي - تونس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست