وباء كوفيد-19 اختبار الحمض على الحكومة لضمان سلامة الأمر
وباء كوفيد-19 اختبار الحمض على الحكومة لضمان سلامة الأمر

الخبر:   في 26 حزيران/يونيو 2021، تخضع ماليزيا للإغلاق التام (أمر التحكم في الحركة 3.0) منذ ما يقرب من شهر حتى الآن. يشمل الإغلاق حظراً عاماً للحركة والتجمعات الجماهيرية في جميع أنحاء البلاد، فالمساجد مغلقة، وجميع المؤسسات التعليمية مغلقة. وتم إغلاق الأعمال غير الأساسية. لقد تسبب كوفيد-19 بالتأكيد في خسائر فادحة على الجميع منذ أن بدأت الحكومة في فرض أوامر مختلفة للسيطرة على الحركة على البلاد. في مرحلة ما، عرضت الشرطة بفخر إحصائياتها التي تفيد بأن معدل الجريمة في البلاد انخفض بنسبة 46.7٪ خلال أول 84 يوماً من صدور أمر مراقبة الحركة. أمر التحكم في الحركة اليوم يقلل هذا مقارنة بالزيادة المستمرة في معدلات الانهيار العقلي وفقدان الوظائف وتأثيرات كوفيد-19 الأخرى على المجتمع. في الواقع، تم الإبلاغ عن أنه في مناطق معينة، أظهر معدل السرقة زيادة حادة خلال فترات أمر الحركة.

0:00 0:00
Speed:
June 29, 2021

وباء كوفيد-19 اختبار الحمض على الحكومة لضمان سلامة الأمر

وباء كوفيد-19 اختبار الحمض على الحكومة لضمان سلامة الأمر

(مترجم)

الخبر:

في 26 حزيران/يونيو 2021، تخضع ماليزيا للإغلاق التام (أمر التحكم في الحركة 3.0) منذ ما يقرب من شهر حتى الآن. يشمل الإغلاق حظراً عاماً للحركة والتجمعات الجماهيرية في جميع أنحاء البلاد، فالمساجد مغلقة، وجميع المؤسسات التعليمية مغلقة. وتم إغلاق الأعمال غير الأساسية. لقد تسبب كوفيد-19 بالتأكيد في خسائر فادحة على الجميع منذ أن بدأت الحكومة في فرض أوامر مختلفة للسيطرة على الحركة على البلاد. في مرحلة ما، عرضت الشرطة بفخر إحصائياتها التي تفيد بأن معدل الجريمة في البلاد انخفض بنسبة 46.7٪ خلال أول 84 يوماً من صدور أمر مراقبة الحركة. أمر التحكم في الحركة اليوم يقلل هذا مقارنة بالزيادة المستمرة في معدلات الانهيار العقلي وفقدان الوظائف وتأثيرات كوفيد-19 الأخرى على المجتمع. في الواقع، تم الإبلاغ عن أنه في مناطق معينة، أظهر معدل السرقة زيادة حادة خلال فترات أمر الحركة.

التعليق:

منذ بداية الوباء، نفذت الحكومة الماليزية أوامر مختلفة للتحكم في الحركة اعتماداً على مدى الإصابة بكوفيد-19. في البداية، كان الناس بشكل عام داعمين بشدة لهذه السياسات. ومع ذلك، بعد عامين من الاختلافات المختلفة في أمر تقييد الحركة، لم يتحسن الوضع على الإطلاق. في الواقع، إنها من إحدى الدول التي أظهرت أدنى معدلات إصابة بكوفيد-19، تجاوزت ماليزيا الهند الشهر الماضي في عدوى كوفيد-19 لكل مليون من السكان. للأسف، لا يتجلى تأثير أمر تقييد الحركة على المجتمع فقط من خلال الأصوات الغاضبة من الجمهور ولكن أيضاً من خلال الأعداد الحقيقية للأشخاص المتضررين. فقد كشفت دراسة استقصائية حديثة أجرتها جوبستريت أن ما يصل إلى 20 في المائة من المستجيبين قد تم تسريحهم. كما أشار المسح إلى أن واحداً من كل خمسة ماليزيين كانوا يعملون سابقاً فقدوا وظائفهم بسبب الوباء. وكشفت أيضاً أنه من المتوقع أن ينتهي الأمر بأكثر من مليوني ماليزي إلى البطالة إذا استمر تطبيق أوامر تقييد الحركة. كما أثر الوباء على الحالة العقلية للسكان، فقد تضاعف خط المساعدة للدعم النفسي والاجتماعي الذي تديره وزارة الصحة وميرسي ماليزيا حتى الآن في هذا العام مقارنة بالعام الماضي. 63.7٪ من المتصلين طلبوا دعماً عاطفياً بسبب الشعور بالتوتر والقلق والحزن واليأس والعجز بسبب الخوف من المستقبل. تتجلى هذه الحالة العاطفية المتدهورة أيضاً في زيادة معدل الانتحار بين السكان خلال أمر تقييد الحركة.

وبالفعل، فقد أثر الوباء على ماليزيا والعالم بأسره. يزيل الوباء الرضا الذي يشعر به البشر عن هذا العالم، وكمسلمين، نعلم أن هذا هو شكل من أشكال الاختبار من الله سبحانه وتعالى لعباده. الاختبار يعني الاستجابة، وشكل هذه الاستجابة سيحكم عليها الله سبحانه وتعالى يوم القيامة. من أجل اختبار بهذه الأهمية، يتحمل من هم في السلطة العبء الأكبر على أكتافهم. لم يجعل القادة الماليزيون الإسلام حقاً الأساس الذي يتخذون على أساسه قراراتهم وصياغة سياساتهم. وبالتالي، ليس من المتوقع أن يلعب الإسلام دوراً كبيراً في أي سياسات حكومية تتعلق بالتعامل مع الوباء. وهذا ليس بعيداً عن الحقيقة، لكي نكون منصفين للحكومة، تم تنفيذ تدابير التحفيز الاقتصادي والمساعدة الإنسانية للفئات الضعيفة. ومع ذلك، فإن هذه الجهود، بكل تطبيقاتها الإشكالية، لا تتوافق مع الأرقام القاتمة التي تم عرضها سابقاً. بسبب التركيز على الاقتصاد، فإن إغلاق المساجد، على سبيل المثال، يبدو تافهاً مقارنة بإغلاق مراكز التسوق. الاعتماد المفرط على اللقاحات الأجنبية، والبطء الشديد والرضا عن النفس في تطوير اللقاحات المحلية ومعدل التطعيم المنخفض للسكان، يظهر بوضوح ضعف الحكومة وعدم الاهتمام وبذل الجهد في إيجاد علاج للوباء والسماح لأنفسهم بالتخويف من شركات الأدوية متعددة الجنسيات والغرب. ومما يؤسف له إحجام الحكومة عن السماح باستخدام الأدوية المضادة للفيروسات المعاد استخدامها بشكل آمن، والتي يمكن أن تنقذ الأرواح، على الرغم من ضغوط المهنيين الطبيين. لا تشكل هذه القضايا سوى غيض من فيض، واليوم، فإن النقد الموجه لسياسات الحكومة بشأن التعامل مع كوفيد-19 أمر ساحق.

هناك من يأتون للدفاع عن الحكومة بالقول إن ما يفعله القادة هو "إسلامي" بقدر ما يمكنهم الحصول عليه، لكن هناك فرق كبير! إن القيادة الإسلامية الحقيقية، الخلافة، ستتعامل مع الوباء لضمان رفاهية الأمة باعتبارها واحدة من مسؤولياتها في الوفاء بأوامر الله سبحانه وتعالى. سيكون الإسلام باعتباره مبدأ أساس كل القرارات والسياسات. وتتحمل هذه القيادة مسؤولية إنقاذ الأمة من الوباء، بدلاً من تكرار حصار الأمة في عمليات الإغلاق والإحباط. تعرف الأمة أن هذا الوباء يكشف شرور الحكم الرأسمالي العلماني. إن الأمة تعلم أن قيادة مخلصة، صادقة، مسؤولة، عقلانية، تخشى الله، ستكون قادرة على تحريرهم من براثن الوباء. ولن نجد مثل هذه القيادة إلا في الخلافة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد – ماليزيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست