وحده الإسلام القادر على توفير نموذج للدولة قابل للتطبيق والحياة (مترجم)
وحده الإسلام القادر على توفير نموذج للدولة قابل للتطبيق والحياة (مترجم)

الخبر:   على مدى الأسابيع القليلة الماضية، كان تركيز أوروبا على التطورات في كاتالونيا منهكا لها كون ذلك من الممكن أن يشكل سابقة قد تشجع الانفصاليين الآخرين على حذو حذوها. وتنتظر حركات الاستقلال التي تُغذي الحماسة القومية وسياسات الهوية بفارغ الصبر نتيجة الوضع في كاتالونيا.

0:00 0:00
Speed:
October 08, 2017

وحده الإسلام القادر على توفير نموذج للدولة قابل للتطبيق والحياة (مترجم)

وحده الإسلام القادر على توفير نموذج للدولة قابل للتطبيق والحياة

(مترجم)

الخبر:

على مدى الأسابيع القليلة الماضية، كان تركيز أوروبا على التطورات في كاتالونيا منهكا لها كون ذلك من الممكن أن يشكل سابقة قد تشجع الانفصاليين الآخرين على حذو حذوها. وتنتظر حركات الاستقلال التي تُغذي الحماسة القومية وسياسات الهوية بفارغ الصبر نتيجة الوضع في كاتالونيا.

التعليق:

إن العودة العدوانية للقومية في أوروبا لا تهدد بتفكك الاتحاد الأوروبي فحسب بل تهدد أيضا وعلى نحو متزايد السلامة الإقليمية لبلدان عدة. أولا، كان هناك انسحاب بريطانيا من الاتحاد الأوروبي، تلاها استعراض للقوة من قبل قوى اليمين المتطرف ذات النزعة القومية في الانتخابات العامة في جميع أنحاء أوروبا. وإلى جانب بريطانيا وهولندا وفرنسا وألمانيا فإن قوى الطرد المركزي هذه نمت بشدة في الآونة الأخيرة وأصبحت خطرا مشؤوما على معاهدة روما. وعلى الرغم من أن الانتخابات الأولى (التعاطف من أجل هوية الدولة القومية) أدت لسنوات عدة إلى انتخابات من الدرجة الثانية (تقارب للهوية الأوروبية) إلا أن عددا قليلا من السياسيين توقعوا مسار الأحداث الحالي. واعتقدت الغالبية العظمى أن التهديد يمكن أن يسيطر عليه.

إذا اعتقدت نخبة أوروبا بطريقة أو بأخرى أنها تستطيع إدارة النزعة القومية المفرطة للدول الأوروبية، فإنها تواجه اليوم الإقليمية في دول تحفزها قوى التدمير ذاتها. الانتخابات من الدرجة الثالثة - التصويت من أجل الإقليمية - يمكن أن يصبح القاعدة الأوروبية الجديدة. وتعليقا على الأحداث الأخيرة في كاتالونيا، تقول باربرا لوير، الأستاذة في المعهد الفرنسي للجغرافيا السياسية في جامعة باريس الثامنة "إن احتمال زعزعة الاستقرار [في بقية أوروبا] كبير جدا". في رأيها، فإن استخدام القوة من قبل مدريد لكبح الانفصاليين في كاتالونيا هو "هبة من أجل الإقليمية في أوروبا".

لقد أصبحت حركة استقلال كاتالونيا في طليعة العديد من الحركات الانفصالية الأوروبية. الباسك، والاسكتلنديون، والآيرلنديون، والفلمنكيون يرقبون بفارغ الصبر تكشّف الأحداث في إسبانيا ويخططون لمشاريعهم الخاصة لإقامة الدولة. إن بلقنة أوروبا هي احتمال حقيقي وحكم بالإعدام على نموذج وستفاليا للسيادة القومية.

ويرتبط مصير أوروبا بطرق عديدة بفشل نموذج ويستفاليا للسيادة القومية. ويعتمد هذا النموذج الذي ينظم العلاقات بين الدولة والناس على القومية باعتبارها القوة الملزمة للرعية من مختلف الهويات. ومع ذلك، فإن القوة الملزمة في كثير من الأحيان تقوم على هوية الأمة المهيمنة أو الناس في المجتمع. ففي بريطانيا، يأتي العِرق الإنجليزي، فوق هوية الأسكتلنديين، والأيرلنديين والويلزيين ويملي القوة القومية المهيمنة. وفي ظروف محددة، تكون هوية الدولة المهيمنة أكثر من كافية للحفاظ على الأمة معا، وحتى توفير الوقود للنزعة القومية المفرطة التي يمكن أن تسبب احتكاكا خارجيا شديدا بين الدول، ما قد يؤدي إلى حرب عالمية - الحرب العالمية الأولى والثانية.

وخلال فترات السلم أو الفترات الطويلة من الركود الاقتصادي والتراجع، يمكن للقومية أن تتحول في الغالب إلى الداخل وتسبب مصادمات في الهوية مع الناس من مناطق أخرى داخل الدولة. وبالتالي، فقد كافح الإسبانيون منذ فترة طويلة مع دولة الباسك وكاتالونيا. وقد انخرط الإنجليز في مناوشات مطولة مع الأيرلنديين والأسكتلنديين. وتواجه بلدان أوروبية عدة توترات مماثلة. وإلى جانب القارة الأوروبية، يمكن العثور على قوى إقليمية مماثلة في أمريكا. ففي أمريكا العديد من الحركات الانفصالية التي تشكل نذيرا لما يشبه نموذج ويستفاليا، لا سيما في ولاية كاليفورنيا.

وفي مكان آخر يواجه نموذج الدولة القومية أزمة أكثر خطورة. فالإسلام يقوض نموذج الدولة القومية المصدَّرة بشكل مصطنع في العالم الإسلامي، والهند - أكبر ديمقراطية في العالم - تقاتل باستمرار العديد من حركات الاستقلال للحفاظ على فكرة (الهند الأم) حية.

وباختصار، فإن أيام نموذج وستفاليا معدودة، والمطلوب طريقة جديدة لتنظيم العلاقات بين الناس والدولة. إن الاتحاد الأوروبي، وهو شكل سري للإمبراطورية المقنعة كتجربة ما بعد الحداثة هو الوقوع كفريسة في يد قوى الطرد المركزي المتمثلة في القومية والإقليمية. إن فترة ما قبل العصر الحديث - من الإمبراطورية - وفرت قرونا من الاستقرار ولكنها مهدت الطريق للدولة الحديثة على أساس القومية. وبالتالي، فإن العالم يحتاج إلى بدائل للإمبراطورية والدولة القومية والاتحاد الأوروبي، كوسيلة لتنظيم العلاقات بين الناس والدولة، وتهميش القوى القومية والإقليمية بشكل دائم.

في الإسلام، الخالق عز وجل وليست القومية المهيمنة هو الذي يوفر الدافع اللازم لربط رعايا الدولة. لقد قضى الإسلام لقرون عدة على القوى القومية والإقليمية بشكل طبيعي من خلال منح رعايا دولة الخلافة على اختلاف مشاربهم وأعراقهم القدر ذاته من الحقوق - الحياة الآمنة والرفعة وحماية الممتلكات وسبل العيش والعبادة دون اضطهاد ومن ثم حمايتهم من التهميش والاضطهاد. وإذا ما تعدت دولة الخلافة على الحقوق، قام رعاياها بتصحيحها وتقويمها. واليوم، فإن الإسلام هو الحل الشافي الوحيد للاحتكاك الخطير فيما يتعلق بسياسات الهوية الذي يظهر على هيئة قومية وإقليمية في جميع أنحاء العالم.

يقول الله تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد المجيد بهاتي

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست