مغربی تصادم کی وحشیانہ روش
خبر:
یوکرینی ڈرون طیاروں کے اچانک حملوں نے سائبیریا کی گہرائی میں واقع اہم روسی اسٹریٹجک فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، بنیادی طور پر "ٹی یو-95" اور "ٹی یو-22 ایم" بمبار طیاروں پر توجہ مرکوز کی گئی۔ (الجزیرہ نیٹ، 2025/06/06)
تبصرہ:
یہ کارروائی یوکرین نے برطانویوں کی مدد سے بہت احتیاط سے منصوبہ بندی کے ساتھ انجام دی ہے، جنہوں نے 50 ہزار سے زائد یوکرینی فوجیوں کو تربیت دی اور ڈرون طیارے بنانے کے لیے 2 بلین پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کی اور یوکرین کو ہزاروں طیارے فراہم کیے اور آئندہ عرصے میں اسے 100,000 طیارے فراہم کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں، اور برطانوی وزیر نے کہا کہ "روس کے ساتھ ہماری جنگ ایک اسٹریٹجک جنگ ہے"، "ہم یوکرین کو شکست نہیں دے سکتے"، برطانویوں نے اس جنگ کو اپنی جنگ سمجھا ہے اور خود کو یوکرین کا پہلا محافظ سمجھا ہے، اور انہوں نے اس کارروائی کی منصوبہ بندی 17 ماہ پہلے کی تھی یعنی ٹرمپ اور ان کی حکومت کے وجود سے پہلے، اور امریکہ کو اس واقعے کا علم ہو گیا لیکن تاخیر سے، اور یہ ایک بین الاقوامی موقف ہے جس میں یوکرین کے حوالے سے کسی حد تک اختلاف ہے، امریکہ اپنی سرزمین میں موجود قیمتی دھاتوں کو تقسیم کرنے کا مطالبہ کر کے اسے بلیک میل کر کے روس کی طرف مائل ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے، اور یہ بین الاقوامی موقف اگرچہ میڈیا میں سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا گیا، لیکن اس کے بارے میں براہ راست واقعات کی سطروں کے درمیان بات کی گئی، برطانیہ روس کو کمزور کرنے کے لیے اس جنگ کو طویل عرصے تک جاری رکھنا چاہتا ہے، اور امریکہ یوکرین کی دھاتوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، لہذا مغرب کے ممالک میں یہ بین الاقوامی موقف مختلف ہیں، ان کے درمیان بڑے تنازعات ہیں اور امریکہ اور یورپ کے درمیان بہت بڑا خلا ہے۔
یہ کافر مغرب صرف اپنے مادی مفادات کے لیے جو اس کے بنائے ہوئے نظام سے پیدا ہوتے ہیں، کسی ملک کو تباہ کرنے، لوگوں کو مارنے اور قوموں کو غریب کرنے کے لیے تیار ہے۔ اے اللہ، اس ریاست کے قیام میں جلدی فرما جس کے زیر سایہ کوئی بھوکا نہ رہے اور نہ ہی کوئی بے گھر ہو، اس ریاست کے قیام میں جلدی فرما جو جنگیں تو لڑے لیکن کسی بوڑھے، عورت کو قتل نہ کرے، نہ درخت کاٹے اور نہ ہی کھانے کے علاوہ کسی جانور کو ذبح کرے، اس کی واحد فکر لوگوں کو بندوں کی عبادت سے نکال کر رب العباد کی عبادت کی طرف لانا ہے۔
یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔
خدیجہ صالح