ولا تزال معركة غزة مستمرة وصمت الأمة مطبقاً!
ولا تزال معركة غزة مستمرة وصمت الأمة مطبقاً!

بعد أكثر من 5 أشهر على حرب غزة لا تزال الآلة العسكرية لكيان يهود تعمل تقتيلا وتشريدا وتجويعا لأبناء غزة، ولا تزال الأمة الإسلامية تقف موقفا لا يعدو الشجب والاستنكار والبكاء والدعاء للأهل في غزة.

0:00 0:00
Speed:
February 23, 2024

ولا تزال معركة غزة مستمرة وصمت الأمة مطبقاً!

ولا تزال معركة غزة مستمرة وصمت الأمة مطبقاً!

الخبر:

بعد أكثر من 5 أشهر على حرب غزة لا تزال الآلة العسكرية لكيان يهود تعمل تقتيلا وتشريدا وتجويعا لأبناء غزة، ولا تزال الأمة الإسلامية تقف موقفا لا يعدو الشجب والاستنكار والبكاء والدعاء للأهل في غزة.

التعليق:

مضى على حرب غزة حوالي 140 يوما ولا تزال آلة الحرب لكيان يهود تعمل بكل قواها تدميرا وقتلا وتشريدا لعشرات الآلاف من أبناء غزة المسلمين. وما تعلنه دولة الكيان عن أهدافها النهائية للحرب والتي ليست لها مقاييس محددة يعني أن الكيان ماض في حربه ما لم يتم إيقافه قسرا. وتعلن عن المرحلة الأخيرة من الحرب في هجوم قادم على رفح وقد تجمع فيها ما يزيد على مليون ونصف المليون ممن تم تهجيرهم من شمال ووسط غزة. وكما هو ديدن الكيان المحتل فإنه لا يقيم وزنا لا لرأي عام دولي، ولا لقرارات دولية سواء من الأمم المتحدة أو مجلس الأمن أو المحكمة الدولية. فكيان يهود قام بقرار من كبرى الدول الاستعمارية بريطانيا، ولا يزال يحصل على الدعم من بريطانيا وأمريكا وباقي الدول الأوروبية. وما مطالبة هذه الدول الكيان بتخفيف الضغط والقتل الجماعي لأهل غزة إلا ذرا للرماد في العيون، ومحافظة على ما تبقى لديهم من ماء وجه أمام الرأي العام العالمي أو الإسلامي. وأما الحقيقة فهي ما نطق به بايدن بقوله "لو لم تكن (إسرائيل) موجودة لأوجدناها"، ما يبين حقيقة وجود الكيان ودوره المهم في تمكين الغرب الكافر من بسط النفوذ والهيمنة على منطقة الشرق الأوسط واستعماله أداة مهمة لإبقاء دول المنطقة في حالة خوف دائم، وتبعية عمياء، وابتعاد عن الحل الجذري لقضيتها والخاصة بإعادة بناء كيان الدولة الإسلامية والتي بدونها لا يمكن تحقيق نهضة ولا تسلم زمام المبادرة في المنطقة أو العالم.

وإزاء كل ذلك فإن موقف الأمة الإسلامية أفرادا وشعوبا لا يزال يراوح مكانه من أعمال تظاهر، وشجب واستنكار وبكاء ودعاء مع تمنيات حصول نصر يطيح بكيان دولة الاحتلال في فلسطين، من دون التفكير في آليات النصر ومقدماته، والأعمال المواكبة للنصر. فالنصر لا يكون بدون إعداد القوة المناسبة لمواجهة العدو والله تعالى يقول: ﴿وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَا اسْتَطَعْتُمْ مِنْ قُوَّةٍ...﴾، والله تعالى يطلب من المسلمين أن يرابطوا في موقع القتال بقوتهم وعتادهم مع الصبر والمصابرة، ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا﴾. والنصر لا يكون في غير ساحة المعركة، فساحة المعركة الآن في فلسطين وفي غيرها من المناطق، فما لم تكن القوة الخاصة بالأمة في ساحة المعركة فلا يطلب النصر هناك. نعم إن الإخوة المجاهدين في غزة يقاتلون بأنفسهم وأموالهم، ولكن الحقيقة هي أن هذه الفئة المجاهدة لا تمثل الأمة الإسلامية بل تمثل فئة محدودة جدا من الأمة، فإن أوفت هذه الفئة بواجبها، وأفضت إلى الله ما لها وما عليها، فالأمة لم توف الله ما طلبه منها ليوفي لها بالنصر المبين.

الأمة الإسلامية مطلوب منها بحيث إنها بمجموعها محل الخطاب من الله العلي القدير بالإعداد للقتال، والمرابطة على جبهات القتال، وعدم التولي يوم الزحف، وردع كل معتد على أرض وعرض ومال وحياة المسلمين، بل بحمل راية الجهاد مطلقا ودائما للحفاظ على الدين الذي أوكلها به الله تعالى ورفع راية الإسلام في العالم أجمع.

لا يختلف اثنان على أن الأمة الإسلامية اليوم لم تخذل أبناءها في غزة فقط، بل خذلت كل قضايا الأمة في جميع بقاع الأرض؛ فهي لم تمنع الهندوس من إقامة معبد الشرك على أنقاض مسجد بابري في الهند، ولم تمنع سفك الدماء المتواصل منذ أكثر من 10 أشهر في السودان، ولا سفك الدماء في ليبيا الذي لم يتوقف منذ الثورة التي أطاحت بطاغوت ليبيا القذافي، ولم تمنع احتلال سوريا مباشرة من قبل أمريكا وروسيا مع قتل وتشريد أكثر من 5 ملايين من أبناء الأمة في سوريا. وقبل ذلك كله، تخلّيها المستمر عن إعادة بناء دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة لاستئناف الحياة الإسلامية بدل ما غرقوا به من تيه وركام جاهلية العلمانية والمدنية والرأسمالية والديمقراطية والقومية وغيرها من الترهات.

لقد آن الأوان لأمة الإسلام التي أوكل الله إليها رسالة الإسلام بعد انتقال رسول الله ﷺ للرفيق الأعلى، وقد حمل الرسالة بكل أمانة وصدق وإخلاص رجال لم تلههم تجارة ولا بيع ولا مال ولا مصالح عن ذكر الله. وحملته الأمة بمجموعها دون كلل أكثر من 13 قرنا، إلى أن ﴿خَلَفَ مِن بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ﴾، وتركوا الجهاد وتخلوا عن خلافة الإسلام، وتبعوا في حياتهم وحكمهم طواغيت العصر كلها، ونتج عن كل ذلك هذا العجز المطبق حيال ما يجري في فلسطين على أيدي أجبن خلق الله، وأكثرهم حقدا على الإسلام والمسلمين.

إن ما يجري في غزة اليوم ومع تحرك الرأي العام العالمي، واستفزاز مشاعر المسلمين وغيرهم، لا بد أن يتحول إلى طوفان حقيقي يطيح بأنظمة السوء، ويطلق طاقات الأمة من عقالها، ويكسر القيود المكبِّلة لجنودها، ﴿وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللهِ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ﴾.

﴿وَاللهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد جيلاني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست