ولاية الرجل ليست ظلما يُسعى للخلاص منه!
ولاية الرجل ليست ظلما يُسعى للخلاص منه!

الخبر: الرياض - "وكالة أخبار المرأة" 2016/9/27: قام عدد من السعوديات برفع برقيات للديوان الملكي السعودي، للمطالبة بإسقاط ولاية الرجل على المرأة، بعد أن أكملن شهرين ونصف الشهر في محاولات حشد التأييد لحملتهن ضد الولاية المطلقة للرجل على المرأة. والديوان الملكي هو المكتب التنفيذي الرئيسي للملك سلمان بن عبد العزيز، وهو بذلك يمثل أعلى الجهات نفوذا في البلاد. وكان النشاط النسائي السعودي على الشبكات (الاجتماعية) قد تزايد في أعقاب الإعلان عن رؤية 2030 والتي لم تتطرق للأوضاع الاجتماعية للمرأة وأعلن ولي ولي العهد السعودي في المؤتمر الصحفي بعد إقرار الرؤية في مجلس الوزراء أن قضايا مثل قيادة المرأة للسيارة هي مرهونة بموافقة المجتمع عليها.

0:00 0:00
Speed:
September 28, 2016

ولاية الرجل ليست ظلما يُسعى للخلاص منه!

ولاية الرجل ليست ظلما يُسعى للخلاص منه!


الخبر:


الرياض - "وكالة أخبار المرأة" 2016/9/27: قام عدد من السعوديات برفع برقيات للديوان الملكي السعودي، للمطالبة بإسقاط ولاية الرجل على المرأة، بعد أن أكملن شهرين ونصف الشهر في محاولات حشد التأييد لحملتهن ضد الولاية المطلقة للرجل على المرأة. والديوان الملكي هو المكتب التنفيذي الرئيسي للملك سلمان بن عبد العزيز، وهو بذلك يمثل أعلى الجهات نفوذا في البلاد.


وكان النشاط النسائي السعودي على الشبكات (الاجتماعية) قد تزايد في أعقاب الإعلان عن رؤية 2030 والتي لم تتطرق للأوضاع الاجتماعية للمرأة وأعلن ولي ولي العهد السعودي في المؤتمر الصحفي بعد إقرار الرؤية في مجلس الوزراء أن قضايا مثل قيادة المرأة للسيارة هي مرهونة بموافقة المجتمع عليها.


وتركز المطالب التي تتضمنها البرقية منح المرأة صلاحية إنجاز معاملاتها الرئيسية كحق استخراج جواز سفر أو استئجار شقة أو العمل دون الحصول على إذن من رجل."

التعليق:


إن هذه العريضة تشكل تتويجا لدعوات بدأت قبل شهرين عبر مواقع التواصل الإلكتروني لإسقاط ولاية الرجل، وتداول على نطاق واسع بشكل يومي عبر موقع تويتر، وسم "#سعوديات_نطالب_بإسقاط_الولاية". واستمراراً لما يسمى بالحملة الحقوقية والإعلامية التي أطلقتها منظمة "هيومن رايتس ووتش" ضد نظام ولاية الرجل في تموز/يوليو الماضي، غزت الصور والملصقات العديد من الأماكن العامة في السعودية، متضمنةً دعوات صريحة لإسقاط ولاية الرجل.


وفي خطوة تصعيدية جديدة، تصدر وسم "#برقية_الولاية_للملك_25_سبتمبر" تويتر خلال اليومين الماضيين، بالتزامن مع إرسال أكثر من 2500 امرأة برقيات إلى مكتب الملك سلمان، للمطالبة بإسقاط الولاية. في حين بلغ عدد الموقعات على عريضة لإسقاط الولاية نحو 14 ألفاً، منهنّ من ذكرن أسماءهنّ كاملةً، بينما وقع العدد الأكبر عليها دون ذكر تفاصيل عن أنفسهن، بحسب "بي بي سي". كما انتشر وسم I'm My Own Guardian) أنا ولية على نفسي)، بجانب صور صممت خصيصاً للحملة وتظهر نساءً يغطين وجوههن "بالشماغ" السعودي، غطاء رأس الرجال التقليدي في البلاد. وتقول الناشطات إن النظام يكبل المرأة، إذ يفرض قيودا واسعة، منها على سبيل المثال أن أي امرأة تنتهي مدة محكوميتها في السجن، يتوجب عليها انتظار موافقة ولي الأمر على تسلمها، قبل الإفراج عنها.


وقد اعتبرت الكاتبة السعودية ريم سليمان أن المطالب التي تم تدوينها، وتداولها العديد من المغردين مشروعة وتدل على وعي بأهمية أن تكون للمرأة مساحة للحركة أفضل مما هي عليه في الوقت الحالي.


وقالت ريم: "أتفق مع (تعديل) الولاية وحصرها في "الزواج" فقط دون بقية الأمور والمتطلبات الحياتية الأخرى، وأرى أن نشاطاً ووعياً شعبياً كهذا قد يثمر فيما بعد نشاطات حقوقية أخرى، من الواجب أن تكون متاحة للجميع بصرف النظر عن الجنس، بالإضافة إلى حرية إبداء الرأي والتعبير كنوع من الإصلاح ليكون وطننا أكثر بريقاً وإشراقاً". وأضافت قائلة: "أعتقد أن هذه البرقيات ستسهم في تغيير بعض الأمور وليس جميعها، إلا أن الحركة الشعبية بحد ذاتها دليل على الحياة الجديدة التي تسري في مجتمعنا".


وقالت الناشطة نسيمة السادة لفرانس برس "نعاني من نظام الولاية". وانتقدت منظمة هيومن رايتس ووتش النظام، معتبرة أنه "لا يزال العائق الأبرز أمام حقوق النساء في البلاد، رغم الإصلاحات المحدودة خلال العقد الماضي".


محاولات حثيثة ومستمرة لتغريب المرأة السعودية، وهجوم متتابع على الأحكام الشرعية لاستبدال قوانين وضعية بها، هجوم يُظهر الإسلام بأنه هاضم لحقوق المرأة وطامس لشخصيتها وكينونتها، مبينا وجوب الثورة عليه والتخلي عنه حتى تنال المرأة حريتها وكرامتها!! فيدفعونها بشعاراتهم الخادعة إلى المطالبة بما يسمى بالمساواة والحقوق والتحرر من ولاية الأب والزوج الذي يصورونه على أنه خنوع وذل وتسلط بينما في الحقيقة هو رعاية ومودة... ولا ننسى أن السعودية دولة تزعم أنها تطبق الشريعة الإسلامية، فيصبح هناك خلط بين العادات والعرف المطبق فيها والذي يظلم المرأة ويحرمها من بعض حقوقها التي كفلها لها الشرع، وبين الأحكام الشرعية المتعلقة بولاية الأب على أبنائه وبطاعة الزوجة لزوجها، خاصة في ظل سوء تطبيق تلك الأحكام لغياب الدولة التي تطبقها بحقها كما وردت في القرآن والسنة بدون عادات وقوانين وضعية. فالحكم واضح كما ورد في الآية الكريمة: ﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ﴾، وهذه الآية لها اتصالٌ وثيقٌ بقوله تعالى: ﴿وَلا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبُوا وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبْنَ﴾. ولما كان الأب هو رئيس الأسرة، وهو قائدها والقوام عليها كان لا بد أن تكون له الولاية عليها، فكان هو الولي على الأولاد وله الولاية على أولاده الصغار والكبار غير المكلفين، ذكوراً وإناثاً، في النفس والمال، ولو كان الصغار في حضانة الأم أو أقاربها، والتفضيل يرجع إلى أن الله تعالى خلق الرجل لمهمة والمرأة لمهمة أخرى. ليس فيهما تعارض أو تضارب أو صراع بل كل منهما يكمل الآخر.


فلا تنجروا وراء هذه الدعوات الخادعة للتخلي عن أحكام الله وفرقوا بينها وبين العادات التي حرمت النساء من حقوقهن بدعوى أن السعودية هي دولة إسلامية تطبق شرع الله...

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
مسلمة الشامي (أم صهيب)

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست