ولي الأمر الشرعي لا يحكم بالرأسمالية ولا يطرح معالجاتها الفاسدة
ولي الأمر الشرعي لا يحكم بالرأسمالية ولا يطرح معالجاتها الفاسدة

الخبر:   ذكرت جريدة المصري اليوم على موقعها الجمعة 2022/12/02م، أن مفتي مصر شوقي علام، أكد خلال لقائه مع الإعلامي حمدي رزق ببرنامج "نظرة" على قناة صدى البلد أنه لا مانع من اتِّخاذ ولي الأمر أو الدولة ما تراه من وسائل وتدابير لتنظيم عملية النسل وترغيب الناس فيه؛ فإنه ليس منعاً من الإنجاب مطلقاً، فالمحظور هو المنع المطلق، وهذا ليس منه، وإنما هو طلب الدولة الحياة الكريمة لشعوبها، وحرصٌ منها على الموازنة بين المواردِ وعدد السكان الذين ينتفعون بهذه الموارد، ...

0:00 0:00
Speed:
December 06, 2022

ولي الأمر الشرعي لا يحكم بالرأسمالية ولا يطرح معالجاتها الفاسدة

ولي الأمر الشرعي لا يحكم بالرأسمالية ولا يطرح معالجاتها الفاسدة

الخبر:

ذكرت جريدة المصري اليوم على موقعها الجمعة 2022/12/02م، أن مفتي مصر شوقي علام، أكد خلال لقائه مع الإعلامي حمدي رزق ببرنامج "نظرة" على قناة صدى البلد أنه لا مانع من اتِّخاذ ولي الأمر أو الدولة ما تراه من وسائل وتدابير لتنظيم عملية النسل وترغيب الناس فيه؛ فإنه ليس منعاً من الإنجاب مطلقاً، فالمحظور هو المنع المطلق، وهذا ليس منه، وإنما هو طلب الدولة الحياة الكريمة لشعوبها، وحرصٌ منها على الموازنة بين المواردِ وعدد السكان الذين ينتفعون بهذه الموارد، وتابع أن هناك اتساقاً بين جميع النصوص الشرعية التي تدعو إلى رخاء الإنسان وتحقيق استقراره، ولا تتعارض مع التوازن بين عدد السكان وتحقيق التنمية، حتى لا تؤدي كثرة السكان إلى الفقر، وأشار علام إلى أن إضاعة المرء لمن يعول ليس فقط بعدم الإنفاق المادي، بل يكون أيضاً بالإهمال في التربية الخُلقية والدينية والاجتماعية، فالواجب على الآباء أن يحسنوا تربية أبنائهم دينياً، وجسمياً، وعلمياً، وخُلُقياً، ويوفروا لهم ما هم في حاجة إليه من عناية مادية ومعنوية، وهذا من تمام المسؤولية الملقاة على عاتق رب الأسرة.

التعليق:

عندما ترتدي العمامة وتفكر على أساس الرأسمالية ونفعيتها يكون هذا تصورك للواقع وحكمك عليه ومن هذا المنطلق تخرج فتواك، هذا هو واقع مفتي مصر وكثير من مشايخها الذين أشربوا الرأسمالية حتى الثمالة وأصبحوا يفتون الناس في دينهم على أساس وجهة نظرها ونفعيتها.

تحدث المفتي عن ولي الأمر والدولة واتخاذه ما يراه من تدابير أو ما يسمى شرعا بتبني ولي الأمر للأحكام الشرعية وسنها دستورا وقوانين، وهذا وإن كان حكما شرعيا إلا أن واقعه غير متحقق فهو حكم شرعي متعلق بالخليفة ولي الأمر الشرعي الذي يحكم بالإسلام، وحاكم مصر ليس خليفة المسلمين ولا هو ولي أمرهم ولا يحكم بالإسلام أصلا، فلماذا تلصق به حكما شرعيا وتخدع الناس لتوجد مبررا لما يطرح من معالجات رأسمالية فاسدة تخالف مفهوم الإسلام عن الرزق والأجل؟! فضلا عن أن طاعته لا تجب؛ فلا طاعة لمن لم يحكم بالإسلام ولا طاعة لمن عصا الله وأوغلت يداه بدماء المسلمين.

ولي الأمر الشرعي واجب الطاعة، هو من يحكم بالإسلام كاملا، ورئاسته عامة لجميع المسلمين، ووصل للحكم ببيعة شرعية صحيحة، هذا فقط من يحق له تبني الأحكام الشرعية وسنها دستورا وقوانين، وله مطلق الصلاحية في رعاية شؤون الناس حسب رأيه واجتهاده، وله أن يتبنى من المباحات كل ما يحتاج إليه لتسيير شؤون الدولة ورعاية الناس، ولكن لا يجوز له أن يخالف أي حكم شرعي بحجة المصلحة، فلا يمنع الأسرة الواحدة من إنجاب أكثر من ولد واحد بحجة قلة المواد الغذائية وفقر الدولة وضعف مواردها، وليس للرئيس المصري أن يتبنى من الأحكام الشرعية ولا أن يلصق نفسه بالشرع، بل ليشرع كما يفعل ويخرج قوانينه من بوتقة نظامه الرأسمالي، فلا طاعة له في كل الأحوال، كما أن معالجاته كلها على أساس وجهة النظر الرأسمالية بحلولها الفاسدة التي تعالج الفقر بقتل الفقراء لا إحسان توزيع الثروات.

إن علاج الأزمة يتطلب أولا فهما صحيحا لواقعها وأسبابها حتى يمكن علاجها وهو ما يملكه الإسلام بنظامه وتفتقده الرأسمالية التي يحكم بها الرئيس المصري ويفكر على أساسها وعلى نهجه المفتي والنخب الفاسدة، وأزمة مصر لم تكن أبدا أزمة زيادة سكان بل إنهم طاقة منتجة إذا حسن التعامل معها وتمكينها من استغلال موارد البلاد وإنتاج الثروة منها، حينها لن يكفي عدد السكان بل ستستقدم الدولة من يساعدون في العمل على استغلال الموارد.

أما حسب مفهوم الإسلام الذي كان ينبغي للمفتي أن يتكلم به فالرزق مكفول والطفل يولد برزقه بل إن الأولاد هم رزق من الله عز وجل يجب أن نحمده عليهم لا أن نقتلهم أجنة خشية الفقر! ﴿وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئاً كَبِيراً﴾ بل قد يكونون سببا في زيادة الرزق بما يجلبون من أرزاقهم لوالديهم وأهليهم.

أما عن الحياة الكريمة التي يدندن حولها النظام ويمنّي الناس بها، فمن المستحيل أن تتحقق في ظل الرأسمالية وحلولها الفاسدة التي تخرج من بوتقة فاسدة وتفسير خاطئ وفهم مغلوط لواقع الناس ومشكلاتهم، ولا حل إلا بإزالة هذا النظام بكل أدواته فتزول آثاره التي أوجدت تلك الأزمات، وتطبيق الإسلام الذي يعالج هذه الأزمات علاجا حقيقيا في ظل دولة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة التي تشجع على زيادة المواليد وترعى الناس رعاية صحيحة، وتمكنهم من الانتفاع بموارد البلاد الهائلة فينتجون غذاءهم ويصنعون سلاحهم ودواءهم ولا يكون للغرب سلطان عليهم، هذه هي الحياة الكريمة التي يرضى الله عنها، وهذه هي دولته التي ترعى الناس رعاية صحيحة وتضمن لهم مأكلهم وملبسهم ومسكنهم وأمنهم وتعليمهم وصحتهم.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد فضل

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست