وما تحالفكم إلا باطل سيزهق ولو بعد حين
وما تحالفكم إلا باطل سيزهق ولو بعد حين

قال وزير الخارجية السعودي عادل الجبير إن هذا التحالف غير مسبوق وتشكيله إشارة واضحة وقوية إلى التزام "الدول الإسلامية" ضد الإرهاب والتطرف،

0:00 0:00
Speed:
December 17, 2015

وما تحالفكم إلا باطل سيزهق ولو بعد حين

وما تحالفكم إلا باطل سيزهق ولو بعد حين

الخبر:

قال وزير الخارجية السعودي عادل الجبير إن هذا التحالف غير مسبوق وتشكيله إشارة واضحة وقوية إلى التزام "الدول الإسلامية" ضد الإرهاب والتطرف، وأبدى ثقته بأن عدد الدول المعنية والذي يبلغ حاليا 34 سيزيد في الأسابيع المقبلة.

كما أوضح أن التحالف سيعمل على "تبادل المعلومات والمساعدة في التدريب وتسليم المعدات وإرسال قوات إذا كان ذلك ضروريا"، كما سيسعى إلى "محاربة الفكر المتطرف" بحيث يشمل المسؤولين الدينيين والمربين والقادة السياسيين "لنشر رسالة تسامح واعتدال" و"حماية شبابنا" من التطرف.

وطالب أيضاً ببذل "جهد دولي متناغم" لمواجهة تهديد الإرهاب، مشيرا إلى أن الجهود يجب أن تركز أيضا على تمويله، وأكد أن التحالف الإسلامي سيعمل على التنسيق مع الدول الكبرى لمكافحة الإرهاب.

التعليق:

لقد تحالف حكام البلاد الإسلامية على محاربة الإرهاب وأعلنوا إنشاء تحالف عسكري، وهم بذلك أعلنوا جهارا وقوفهم إلى جانب أعداء الإسلام وأهله بعد أن كانوا يوارون عمالتهم العمياء للغرب من أجل إبقائهم في السلطة وليحافظوا على كراسيهم المتزعزعة.

لقد تحالفتم أيها الحكام على محاربة الإرهاب!! أنفهم من هذا التحالف أنكم ستحررون الأقصى من رجس يهود؟! هل ستنظرون لاحتلال يهود للأراضي المقدسة وقتلهم الأطفال والنساء أنه إرهاب ويجب إعلان الحرب وإرسال جيوش المسلمين موحدين تحت راية الجهاد؟ وهل ستعلنون الحرب على نظام بشار الطاغية وتعاقبونه على استخدام آلته الحربية الهمجية ضد شعبه الأعزل لأنه قال هي لله هي لله؟؟ وهل ستوقفون غارات الطائرات الروسية على المدنيين العزل في سوريا والتي تستهدف المدارس والمستشفيات والأسواق باعتبارها دولة إرهابية؟ وهل سترسلون من يقضي على البوذيين الذين أذاقوا أهلنا الروهينجيا كل أصناف العذاب من حرق وتقطيع وتشريد؟ وفي العراق واليمن وليبيا وغيرها من البلدان، هل ستعاملون كل من حمل السلاح فيها أنه إرهابي أم أنكم ستكيلون بمكيالين كما يفعلون أسيادكم بتصنيف المقاتلين بجدول إما الاعتدال وإما التطرف؟

أسئلة نضعها برسم إجابتكم يا من لا تملكون زمام أمركم فكيف بزمام أمر شعوبكم، يا من تغاضيتم عما يحصل طوال هذه السنوات الخمس في سوريا من مجازر دموية، ولكن ما فتئتم تستعملون المال السياسي لحرف الثورة والالتفاف عليها بما يناسب مصالح أسيادكم... يا من تواطأتم مع يهود وعقدتم معهم معاهدات الخيانة والذل والتطبيع وسكتم عن الحروب المتتالية على غزة والحصار المفروض عليها وعلى أهلها طوال هذه السنوات الطوال، وشاركتم في غرس هذا الاحتلال الإرهابي في قلب عالمكم الإسلامي وأجبرتم الأمة على البقاء في هذا الحال الذليل...!! يا من ترسلون المساعدات الإنسانية والخيم للروهينجيا في حين إنهم كانوا بحاجة لهذا التحالف العسكري لترسلوا الطائرات للدفاع عنهم كما تفعل الدول الكبرى عندما تتعرض إحدى مصالحها للخطر وكما فعلت فرنسا بعد التفجيرات في عقر دارها؛ إذ قبل أن تمضي 24 ساعة على فاجعتهم سارعت بإرسال قواتها الفرنسية لتبدأ حربها على "الإرهاب" وخاصة في سوريا للقضاء على ثورتها المباركة.

 عن أي إرهاب تتكلمون وأي إرهاب ستعلنون الحرب عليه!! أهو الإرهاب الذي تحاربه الدول الغربية الكافرة بعد أن ربطته بالإسلام والمسلمين؟ فمنعوا الحجاب والنقاب وإطلاق اللحى وبناء المساجد، وتدخلوا في مناهج التعليم لإعادة تشكيل الخطاب الديني بما يناسبهم ويناسب ديمقراطيتهم. فالحرب هم أعلنوها على كل من يرفع راية لا إله إلا الله ويطالب بتحكيم شرع الله، وها أنتم أيها الحكام قد وقفتم في الخندق نفسه وأعلنتموها صراحة أن لا حكم إلا حكم العلمانية والديمقراطية وستذودون عنه بكل قوتكم العسكرية بعد أن كان يقتصر الأمر على قوتكم السياسية بإرضاخ شعوبكم والتجسس عليها.

لقد صدق في هؤلاء اللئام من الحكام حديث المصطفى r «سيأتي على الناس سنوات خداعات يؤتمن فيها الخائن ويخوّن فيها الأمين، ويُصدّق فيها الكاذب، ويكذّب فيها الصادق، وينطق الرويبضة»، قالوا: وما الرويبضة؟!، قال: «الرجل التافه ينطق في أمر العامة»... وحديث رسول الله r «سيلي عليكم أمراء يقضون لأنفسهم ما لا يقضون لكم، فإن أطعتموهم أذلّوكم وإن عصيتموهم قتلوكم»، قالوا فما تأمرنا يا رسول الله قال: «كونوا كأصحاب عيسى عليه السلام نُشّروا بالمناشير وحمّلوا على الخشب، فوالذي نفسي بيده لموتةٌ في سبيل الله خير من حياة في معصيته».

إن الأمة الإسلامية تواقة لتتوحد على كلمة واحدة وتحت راية واحدة، وذلك بعد أن قسمتهم هذه الحدود وأضعفتهم تلك الرابطة الوطنية التي حلًّت مكان عقيدتهم الإسلامية، فسوء الأوضاع التي تمر بها البلاد الإسلامية من حروب مدمرة وتشريد وتهجير حركت في عروق الأمة دماء العزة والكرامة، بعد أن شعرت بالذل والهوان، فوقفت على أقدامها تصرخ بأعلى صوتها: (ارحلوا عنا أيها الحكام).. كفانا ذلاً وهواناً وصغاراً.. ارحلوا عن أرض المسلمين، فقد أصبحت الحجارة تشتكي من ظلمكم، والبهائم العجماء تتأذى من وجودكم؛ حتى الطيور في السماء والحيتان في البحار!!.. ولم تكتف الأمة بالصراخ وإعلاء الصوت، بل إنها وقفت وقفة رجل واحد تدفعهم للرحيل دفعا، تُقدم الشهداء تلو الشهداء غير خائفة ولا آبهة بكم!!

إن تحالفكم المخزي هذا لا يُعد انتصاراً للأمة الإسلامية ولا حتى لأوطانكم التي كرستم القضاء على هويتها الإسلامية، فالانتصار الحقيقي بالنسبة لنا يكون عندما تتحد جيوش هذه الأمة الكريمة، تحت راية "لا إله إلا الله محمد رسول الله"، وشعار "الله أكبر والعزة للإسلام"، وتسير هذه الجيوش تفتح الأمصار تلو الأمصار كما فعل سلفها في عهد الخلفاء الأبرار!! فتدوس الأمة على هذه الحدود والسدود التي تمزق بلاد المسلمين وتشتت شملهم وتفرق جماعتهم، وتحتفل الجيوش في ساحات المسجد الأقصى المبارك بعد أن تحرره، وهي تهتف بأعلى صوتها "الله أكبر والعزة للإسلام"، ﴿وَقُلْ جَاء الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا﴾!!

عندها تفرح الأمة جميعاً بنصر الله: ﴿... وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ * بِنَصْرِ اللَّهِ يَنصُرُ مَن يَشَاء وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ * وَعْدَ اللَّهِ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رنا مصطفى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست