وقف إطلاق النار في سوريا
وقف إطلاق النار في سوريا

الخبر: تحت عناوين مختلفة ذكرت رويترز 2016/12/30 الأخبار التالية: حثت روسيا مجلس الأمن الدولي التابع للأمم المتحدة يوم الجمعة على دعم وقف إطلاق النار الهش في سوريا وعقد مجلس الأمن الدولي اجتماعا مغلقا لمدة ساعة لبحث مشروع القرار المقترح لدعم وقف إطلاق النار الذي أعلنته روسيا وتركيا يوم الخميس. من جهة أخرى ذكرت رويترز بأن وزارة الخارجية الروسية قالت "إن وزير الخارجية سيرجي لافروف ونظيره التركي مولود تشاووش أوغلو تحدثا هاتفيا وبحثا أمورا تتعلق بالوثائق التي وقعتها الحكومة السورية والمعارضة". وكذلك أوردت انتقاد فصائل في سوريا للاتفاق وإصدار فتح الشام بياناً يصف الحل السياسي في ظل هذا الاتفاق بأنه "يثبت أركان النظام". وأضاف المتحدث في البيان "الحل هو بإسقاط النظام المجرم عسكريا".

0:00 0:00
Speed:
December 31, 2016

وقف إطلاق النار في سوريا

وقف إطلاق النار في سوريا

الخبر:

تحت عناوين مختلفة ذكرت رويترز 2016/12/30 الأخبار التالية:

حثت روسيا مجلس الأمن الدولي التابع للأمم المتحدة يوم الجمعة على دعم وقف إطلاق النار الهش في سوريا وعقد مجلس الأمن الدولي اجتماعا مغلقا لمدة ساعة لبحث مشروع القرار المقترح لدعم وقف إطلاق النار الذي أعلنته روسيا وتركيا يوم الخميس.

من جهة أخرى ذكرت رويترز بأن وزارة الخارجية الروسية قالت "إن وزير الخارجية سيرجي لافروف ونظيره التركي مولود تشاووش أوغلو تحدثا هاتفيا وبحثا أمورا تتعلق بالوثائق التي وقعتها الحكومة السورية والمعارضة".

وكذلك أوردت انتقاد فصائل في سوريا للاتفاق وإصدار فتح الشام بياناً يصف الحل السياسي في ظل هذا الاتفاق بأنه "يثبت أركان النظام". وأضاف المتحدث في البيان "الحل هو بإسقاط النظام المجرم عسكريا".

التعليق:

فشلت كل مشاريع أمريكا لوقف الثورة السورية عبر وقف إطلاق النار في سوريا، وإن نجحت في كسر المحرمات، أي جعل التفاوض بين القاتل والمقتول ممكناً، وقد استعملت أمريكا لذلك أوراقاً خبيثة، كان منها السعودية وتأسيس هيئة المفاوضات لمفاوضة النظام على حل في جنيف، وأخيراً عبر تركيا وتشديد ضغطها على الفصائل الموالية لها لمفاوضة العدو الروسي في أنقرة.

وبالنظر في حقيقة المواقف حول الاتفاق وتنفيذه، فهو يحمل بذور فشله فيه، فالفصائل الموالية لتركيا تعلن أنه شامل ولا يستثني إلا المقار العسكرية لتنظيم الدولة، وتعلن سوريا وروسيا أنه يستثني الجماعات "الإرهابية" كتنظيم الدولة والنصرة ومن تحالف معها، بل ومن لم يوقع وقف إطلاق النار. وسوريا التي تعج ساحتها بالفصائل والألوية والكتائب لم يوقعه منها إلا سبعة فصائل، بل إن تلك الفصائل لا تلتزم بعض أجنحتها به.

ولعل هذه المخاطر الكبيرة هي التي دفعت وزير خارجية تركيا للاتصال بنظيره الروسي لبحث ما استجد، وتأكيدهم على أن الفصائل الموقعة يجب أن تثبت حسن نيتها قبل الذهاب إلى أستانة عاصمة كازاخستان. وإذا كان الأهل في سوريا يتطلعون إلى وقف المذبحة الدولية التي تشارك فيها تركيا ضدهم، وأنهم بحاجة إلى استراحة المحارب، كما كان الوضع قبل شهر آب الماضي، أي قبيل معركة الراموسة وفك الحصار عن حلب، فإن دعوة روسيا لقرار من مجلس الأمن تشير وبقوة إلى خوف روسيا الكبير من صمود وقف إطلاق النار هذا لن يكون بأحسن من سابقه.

بل إن روسيا مع الإعلان عن وقف إطلاق النار في ظل الضمانات التركية لقادة الفصائل التي باعت دينها وشعبها في أنقرة، روسيا هذه تستعجل وقف المعارك وقد أعلن وزير دفاعها شويغو عن توفر الظروف لبدء رحيل القوات الروسية عن سوريا. ولعله صدق ضمانات أردوغان، بأن الشعب السوري لا يريد إسقاط النظام، غير ملتفت إلى المظاهرات العارمة التي تعم سوريا وتطالب بإسقاط النظام ورموزه وإقامة حكم الإسلام في عقر داره (الشام).

ولعل البعض يتوهم، كما المتحدثة باسم الخارجية الأمريكية التي ردت على مسؤول غربي طالب بتنحي الأسد، فقالت "هذه تصريحات عتيقة". لعل هؤلاء قد توهموا بأن أهل الشام قد بدلوا وغيروا. وذلك بعد أن رأوا قادة بعض الفصائل قد انصاعت لهم أمام عروض المال القذر المقدمة من السعودية وتركيا. فهؤلاء يظنون أن خيانة البعض تعني أن الشعب قد غير وبدل، وإلى هؤلاء نقول بأن أهل الشام قد ضحوا بالغالي والنفيس من أجل ثورتهم، وأن مسألة التخلي عنها غير واردة بتاتاً، وأنها كما كان أولها "هي لله ... هي لله" فهو آخرها، ولن ينتج عنها إلا ما يسوء وجوه روسيا وإيران وتركيا وأمريكا، فهي الكاشفة الفاضحة عبر سنواتها، ولن تتغير، وما يسمع من مظاهرات الأهالي وحركة تصحيح مسار قادة الفصائل لتدل بما لا يدع مجالاً للشك بأنها وإن استغلت "استراحة المحارب" فإنها نفسها، لا تغيير ولا تبديل. وأن هذه الثورة التي ثارت ضد ظلم المجرم الأسد، قادرة على صب نيرانيها على كل متخاذل يلتف عليها في غرف فنادق أنقرة، والمظاهرات العارمة فيها هي طلقات تحذير قبل العاصفة التي لن تبقي ولن تذر.

ولن يستمر مبعوث أمريكا الدولي في تبجحه بأنه لولا جهوده لوصلت الرايات السود إلى دمشق. فإنا نبشره بأنها واصلة إلى دمشق وعموم الشام، وفيها ستستقر الرايات السود، رايات محمد r. وأما وسائل الإعلام العربية الخبيثة من فضائيات الخليج والتي تبحث في الشام في كومة المظاهرات المعتزة براية نبيها، عن واحدة تحمل علماً آخر للاستعمار، فنقول لن يستمر خبثكم، ولن تتمكنوا من الاستمرار في طمس الإسلام، وإظهار ما يريده سادة أسيادكم، فالشمس في الشام لن يغطيها غربالكم، بل ويجب عليكم أن تعلموا بأن دين الله ظاهر بقوة صاحبه ذي الجلال والإكرام، وقد اخترتم بأن لا يكون لكم من النصر القادم حظ، بل لكم ولأسيادكم ولأسيادهم في الغرب من السوء ما تستحقون من زلزال الشام القادم، فهيهات هيهات أن ينطلي على أهل الشام ما كان ينطلي على عموم الناس قبل الثورة، فقد بددت الدماء والإيمان كل غشاوة صممتها أجهزة إعلامكم، بل وتبدد من الطريق الضباب الذي وضعه من يضع لكم سياساتكم الإعلامية، ويشير على أجهزة أمنه بقذف الثوار بنقودكم المخزية، فأهل الشام يقولون لتركيا والسعودية وقطر لا بارك الله في دعمكم، وسيكون عليكم وعلى سادتكم حسرة، ثم تغلبون.

وسينبلج من الشام نور الإسلام، ونحن بهذا واثقون، وبربنا ثم بأمتنا مطمئنون.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عصام البخاري

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست