وقف إطلاق النّار لن يوقف الإبادة الجماعية في فلسطين
وقف إطلاق النّار لن يوقف الإبادة الجماعية في فلسطين

الخبر:   في السادس من حزيران/يونيو، أصدرت 17 دولة بياناً مشتركاً لدعم أحدث اتفاق لوقف إطلاق النار في غزة الذي أعلنه بايدن في الحادي والثلاثين من أيار/مايو. كما حثّت الولايات المتحدة أعضاء مجلس الأمن التابع للأمم المتحدة على دعم وقف إطلاق النار في غزة على ثلاث مراحل. ووفقاً للاتفاق، ...

0:00 0:00
Speed:
June 12, 2024

وقف إطلاق النّار لن يوقف الإبادة الجماعية في فلسطين

وقف إطلاق النّار لن يوقف الإبادة الجماعية في فلسطين

(مترجم)

الخبر:

في السادس من حزيران/يونيو، أصدرت 17 دولة بياناً مشتركاً لدعم أحدث اتفاق لوقف إطلاق النار في غزة الذي أعلنه بايدن في الحادي والثلاثين من أيار/مايو. كما حثّت الولايات المتحدة أعضاء مجلس الأمن التابع للأمم المتحدة على دعم وقف إطلاق النار في غزة على ثلاث مراحل. ووفقاً للاتفاق، سيكون هناك توقف لمدة ستة أسابيع في القتال تنسحب خلالها قوات كيان يهود من المناطق المأهولة بالسّكان في غزة ويتمّ تبادل بعض الأسرى اليهود مقابل مئات السجناء الفلسطينيين؛ كما ستكون هناك زيادة في تسليم المساعدات إلى القطاع. وسيتبع ذلك مرحلتان أخريان يتمّ خلالهما التفاوض على "إنهاء دائم للأعمال العدائية" بين الطرفين، وهو ما تزعم الولايات المتّحدة أنّه سيمكن من إعادة بناء القطاع الذي دمّره هجوم كيان يهود المجرم تماماً.

التعليق:

لا شكّ أن من الواضح لكل ذي ضمير حي ويفهم طبيعة وتاريخ كيان يهود الإجرامي، أنّه لن تكون هناك نهاية لإبادة غزّة ولا إبادة الفلسطينيين بشكل عام طالما بقي شبر واحد من هذا الاحتلال قائماً. لقد تأسّس هذا الكيان على العنف والإرهاب، ونشر مخالبه في أنحاء فلسطين باستخدام العنف والإرهاب، ويستمر في الوجود على أساس العنف والإرهاب. وبالتالي فإن وقف إطلاق النار لن ينهي وحشيته وذبحه للمسلمين الفلسطينيين أو تمكينهم من العيش بكرامة. إنّ كيان يهود مجرد من أي إنسانية أو أخلاق، ولا يحترم أي اتفاق أو معيار أو قانون دولي، ولا يتعامل مع الفلسطينيين إلاّ من خلال عدسة الإذلال والذبح والتدمير والإبادة. ولن ينهي وقف إطلاق النار أياً من هذا! وحتى في خضمّ مفاوضات وقف إطلاق النار المزعومة، كثف كيان يهود قصفه لقطاع غزة، بما في ذلك تنفيذ مذبحة في مخيم النصيرات للاجئين حيث استشهد أكثر من 270 شخصاً، معظمهم من النساء والأطفال، وحوالي 700 جريح. لقد أعلن نتنياهو نفسه بعد يوم واحد من إعلان بايدن عن الاتفاق، أن أي وقف دائم لإطلاق النار "غير وارد" وأنّ "الحرب لن تنتهي". وفي هذه الإبادة الجماعية، لم تخدم ما يسمى "محادثات وقف إطلاق النار" إلاّ في شراء الاحتلال القاتل وداعمه الأمريكي المزيد من الوقت لتنفيذ حملة الإبادة هذه بينما يحاولون تقديم أنفسهم على المسرح العالمي باعتبارهم "صانعي السلام". إنهم تجسيد لكلمات الله سبحانه وتعالى: ﴿وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لاَ تُفْسِدُواْ فِي الأَرْضِ قَالُواْ إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ * أَلا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَـكِن لاَّ يَشْعُرُونَ﴾.

علاوةً على ذلك، فإن محاولات بايدن لتسريع وقف إطلاق النار لا تنبع من ذرة من التعاطف أو الاهتمام بأرواح سكان غزة، بل هي ببساطة أداة انتخابية لحشد الدعم من ساحات المعارك الرئيسية في الانتخابات الأمريكية ومحاولة إسكات الأصوات المنتقدة لتمويله وتسليحه والوقوف إلى جانب هذه الإبادة الجماعية. إنها تعكس الطبيعة الساخرة للسياسة العلمانية المكيافيلية. وهي أيضاً نتيجة لاعتراف الولايات المتحدة بالعزلة الدولية المتزايدة لكيان يهود وحقيقة أن استمرار وجود هذا الاحتلال أصبح غير مقبول في نظر الجمهور في دول العالم، بما في ذلك في الغرب. وفقاً لاستطلاع أجرته YouGov مؤخراً، أعرب 16٪ فقط من الجمهور البريطاني عن تضامنهم مع (إسرائيل)، بينما كشف استطلاع آخر أجرته UnHerd أنّ غالبية الشباب البريطانيين لا يعتقدون أن (إسرائيل) يجب أن توجد؛ كان لدى 54٪ من المستجيبين الذين تتراوح أعمارهم بين 18 و24 عاماً هذا الرأي، بينما عارضه 21٪ فقط.

إنّ المذبحة لا بدّ أن تتوقف ولكنها لن تنتهي ولن ينعم الفلسطينيون بيوم واحد من الأمن أو الحياة الكريمة أو يشهدوا نهاية النكبة المستمرة إلا بتحرير كامل أرض فلسطين المباركة من هذا الاحتلال السرطاني الدّموي وكل شبر منها، وبدون ذلك فإنّ المسلمين في فلسطين محكومٌ عليهم بحياة الذلّ والهوان في ظلّ هذا الكيان المجرم في انتظار الهجمة القادمة. ثمّ إنّ الله سبحانه وتعالى لا يقبل أقلّ من تحرير فلسطين كاملةً فهي أرض المسرى وأرض الأقصى وأرضٌ خضعت لحكم الإسلام فهي ملك للأمة الإسلامية إلى يوم القيامة! يقول الله تعالى: ﴿سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلاً مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا﴾. وهذا هو السبب في أن خليفة القرن التاسع عشر، السلطان عبد الحميد الثاني، قال للصهاينة الذين كانوا يحاولون "شراء" فلسطين من خلال عرض سداد ديون الخلافة في مقابل دعم السلطان لإنشاء "وطنهم اليهودي": "لن أبيع ولو شبراً واحداً من الأراضي التي دخلت ضمن دولتنا ودفع أجدادنا دماءهم ثمناً لها، هذه الأرض ليست ملكي، بل ملك أمتي التي دفعت دماءها ثمناً لهذه الأرض، فلن أبيعها لكم ولو بمال الأرض ذهباً".

لذلك فإن الدعوة إلى وقف المذابح في غزة وفي أنحاء فلسطين يجب أن تسير جنباً إلى جنب مع الدعوة إلى التحرير الكامل لهذه الأرض المباركة، وهو ما لا يمكن تحقيقه باتفاقيات السلام أو وقف إطلاق النار، بل فقط من خلال تعبئة جيوش البلاد الإسلامية. وهذا لن يتحقق أبداً في ظلّ الحكام والأنظمة الحالية الخائنة والجبانة في البلاد الإسلامية، الذين عملوا كحراس خط المواجهة لكيان يهود، باتفاقيات السّلام والتطبيع والتعاون الاقتصادي مع الاحتلال المجرم، وفي الوقت نفسه قيّدوا جيوشهم في ثكناتهم ومنعوهم من الدفاع عن أمّتهم وتحريرها. لا يمكن وضع حدّ لهذه الإبادة الجماعية التي استمرت سبعة عقود وأكثر ضدّ الفلسطينيين إلاّ من خلال الدعوة إلى إقامة القيادة الإسلامية ونظام الله سبحانه وتعالى، الخلافة على منهاج النبوة التي وصفها نبينا ﷺ بأنها حارسة المسلمين ودرعهم. وهذه الدولة وحدها هي التي ستحشد جنودها للقتال في سبيل الله تعالى، استجابةً لقوله تعالى: ﴿وَإِنِ اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ﴾. وحتى تتم إقامة هذه الدولة فإن المسلمين سيظلّون ضحايا الإبادة الجماعية - دون أن يأتي أحد لمساعدتهم - ليس في فلسطين فحسب بل في جميع أنحاء العالم.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أسماء صديق

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست