وقت القدر ولكن لمن؟
وقت القدر ولكن لمن؟

الخبر:   أوضح الممثل الخاص للأمم المتحدة في سوريا دي ميستورا بشأن العملية السياسية في سوريا التي سيتم إجراؤها في 10-11 أيلول في مدينة جنيف السويسرية بين الهيئات من تركيا وروسيا وإيران، أنها ستكون "وقت القدر"، حيث قال دي ميستورا إن "المحادثات بين تركيا وروسيا يمكنها أن تقدم حلاً لمسألة إدلب دون سفك الدماء". واكتفى دي ميستورا المعني بإجراء مشاورات مع الوفود التركية والروسية والإيرانية في 10-11 أيلول، ومشاورات مشتركة في 14 أيلول مع "المجموعة المصغرة" المتكونة من وفود مصر وفرنسا وألمانيا والأردن والسعودية وإنجلترا وأمريكا؛ اكتفى بقوله: "وفقا لرأيي الخاص، نحن نقف على عتبة بضعة أسابيع مهمة". (2018/09/04 وكالة الأناضول).

0:00 0:00
Speed:
September 18, 2018

وقت القدر ولكن لمن؟

وقت القدر ولكن لمن؟

الخبر:

أوضح الممثل الخاص للأمم المتحدة في سوريا دي ميستورا بشأن العملية السياسية في سوريا التي سيتم إجراؤها في 10-11 أيلول في مدينة جنيف السويسرية بين الهيئات من تركيا وروسيا وإيران، أنها ستكون "وقت القدر"، حيث قال دي ميستورا إن "المحادثات بين تركيا وروسيا يمكنها أن تقدم حلاً لمسألة إدلب دون سفك الدماء". واكتفى دي ميستورا المعني بإجراء مشاورات مع الوفود التركية والروسية والإيرانية في 10-11 أيلول، ومشاورات مشتركة في 14 أيلول مع "المجموعة المصغرة" المتكونة من وفود مصر وفرنسا وألمانيا والأردن والسعودية وإنجلترا وأمريكا؛ اكتفى بقوله: "وفقا لرأيي الخاص، نحن نقف على عتبة بضعة أسابيع مهمة". (2018/09/04 وكالة الأناضول).

التعليق:

منذ أن بدأت الثورة السورية وحتى يومنا هذا، تم إجراء عشرات المحادثات في الشأن السوري؛ سلسلة محادثات جنيف الثماني، وسلسلة محادثات الأستانة السبع، ومحادثات سوتشي، وأخيرا قمة طهران في 7 أيلول، وذلك لضمان بقاء النظام السوري، وإعادة الحياة إليه، وتعزيز قوته. وكان الانتقال السياسي والانتخابات والدستور وإصلاحات القضاء التي تم بحثها في محادثات جنيف 1 في 30 حزيران 2012، أهم المسائل التي وقف عليها الغرب وأمريكا خلال الـ7 سنين الماضية. وهذه المسائل تعد بمثابة ضمان لوجود النظام وعلمانيته، حيث كان قرار مجلس الأمن 2254 بشأن سوريا، بمثابة تحويل هذه العملية إلى عملية رسمية في نظر جميع الدول. الحركات "الدبلوماسية المكوكية" بشأن إدلب وسوريا بين أمريكا وروسيا وتركيا وإيران تعد إشارة على اقتراب العملية من الانتهاء في نظرهم، إذ تشكل إدلب آخر عائق لأمريكا في سوريا، لذلك تقوم بتحريك كل البيادق من أجل حل المسألة فيها بأسرع وقت ممكن.

وبينما تخوض روسيا وإيران حرب الوكالة باسم أمريكا على الصعيدين العسكري والسياسي من جهة، تقف تركيا في "وجه" النظام إلى جانب المعارضة وتنفذ سياسة أمريكا وحرب الوكالة باسمها في هذا الجانب. وحتى تمضي الأمور بسلاسة بعيداً عن أعين الناس، لذلك جاءت مطالبة أردوغان "بوقف إطلاق النار" بعد صياغة البيان الختامي لمؤتمر قمة طهران المتكون من 12 بنداً، رغم علمه بعدم إمكانية إضافة شيء على الاتفاقية؛ وهي تعبر عن مكر أردوغان، ومحاولته الظهور بريئاً من المجازر التي ستحصل في إدلب. وبذلك يتمكن من ضمان استمرار ثقة المسلمين به في وقت يضمن فيه استمرار علاقاته مع الكفار الظلمة مقابل مصالح بسيطة.

وهكذا تقوم روسيا وإيران والنظام السوري بهجماتها الوحشية التي لا تستثني سلاحاً ولا تميز صغيرا أو امرأة أو شيخاً فانياً وتتبع سياسة الأرض المحروقة وتقتل مئات آلاف المدنيين، وتقوم بإبادة جماعية هي الأسوأ والأبشع في التاريخ، وتقوم تركيا بسحب الفصائل الموسومة بالاعتدال خلف خطوط الدفاع، وتتجول بهم في الأراضي كالثيران المجنونة حتى تسقط القلاع واحدة بعد الأخرى، وها هي الآن إدلب آخر قلاع الثورة في سوريا في المرمى، والإعلام الغربي يهيئ الرأي العام الآن للمجازر وحمامات الدماء والأسلحة الكيماوية، في حملة سياسية أخيرة لتركيع من لم يركع حتى الآن. وتخويف أهالي إدلب بحملات الإبادة، والرسالة الحقيقية هنا هي للجماعات التي لم تقبل الركوع، فإما أن يضطروها للخضوع بالضغط من الأهالي، وإلا يصبح جميع الأهالي مستهدفين. فجميع الهجمات الجوية المنفذة قبل وبعد قمة طهران الأخيرة تصب في الاتجاه نفسه. وقد تمت في قمة طهران بلورة العمليات التي ستتم في إدلب بذريعة (الإرهاب) والإعداد لجنيف، وتنظيم الاتفاق في 12 بنداً نشر في وسائل الإعلام تكراراً إرضاءً لأسيادهم، وبث الرعب في قلوب أهالي إدلب. فالنتائج المحصودة من هذه القمة ليست سوى تتمة لما قبلها من القمم والمحادثات.

المتمعن في النظرة السياسية لهذا التقرير المكون من 12 بنداً، يرى أن هذه البنود تحمل نتائج تفوق قدرات الدول المشاركة في القمة. وإذا كانت القمة عقدت في طهران؛ فإن مكان تطبيق وتصديق قرارات القمة ستكون في جنيف (وفي الحقيقة في أمريكا). حيث إنه من المتوقع أن تكون المحادثات التي سيجريها دي ميستورا مع ممثلي قمة طهران في جنيف بتاريخ 10-11 أيلول، تتعلق بعملية إدلب، كما ستكون المحادثات في 14 أيلول التي سيجريها مع "المجموعة المصغرة" مصر والسعودية والأردن وفرنسا وإنجلترا وألمانيا وأمريكا، تتعلق بالدستور الجديد لسوريا والعملية السياسية فيها. ووفقا للصورة التي ستظهر في إدلب، سيتم في العمليات اللاحقة جمع المعارضة المتعاونة والنظام على طاولة واحدة.

وبالتأكيد ستكون التهديدات المطروحة من المنصة الأعلى والقادة الخونة الجبناء والعملية السياسية المعد لها "وقت القدر" باسم أهالي إدلب. طبعا هذه في النهاية خطط الكفار الخونة. ولكن إن تبرأت فصائل الثورة من حكام تركيا وقطر والسعودية الذين خدعوا المسلمين في كل مرة، وقامت بإطلاق شعارات "الشعب يريد إسقاط النظام" وتتويج الثورة بإقامة نظام الخلافة، وبذلت الجهد في الوقوف في وجه النظام وزبانيته؛ عندذاك سيكون "وقت القدر" قد حان على أمريكا وحلفائها.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّهَ يَنصُرْكُمْ وَيُثَبِّتْ أَقْدَامَكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أحمد سابا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست