وزارة الأوقاف الأردنية تغتال العقول
وزارة الأوقاف الأردنية تغتال العقول

الخبر: طالب عدد من خطباء المساجد في لواء القصر في الكرك بضرورة المحافظة على نعمة الأمن والأمان والاستقرار التي أنعم الله بها على الأردن وتفويت الفرص على أعداء الوطن والدين.   وأضافوا خلال خطبة الجمعة أن الله ميز الأردن بقيادة حكيمة وشعب متعلم منتمٍ لوطنه ودينه فعلى الجميع التكاتف والتعاضد لحماية منجزات الوطن من خوارج العصر وقوى الظلام والشر التي لا تميز بين الحق والباطل.   لافتين إلى أن نعمة الأمن والأمان وتحقيق الاستقرار مسؤولية أبناء المجتمع جميعا بالتوعية والتثقيف بمخاطر الفوضى والإرهاب والقوى الظلامية الهدامة التي أصبحت تعيث بعدد من الدول المجاورة نهبا وفسادا.

0:00 0:00
Speed:
June 12, 2016

وزارة الأوقاف الأردنية تغتال العقول

وزارة الأوقاف الأردنية تغتال العقول

الخبر:

طالب عدد من خطباء المساجد في لواء القصر في الكرك بضرورة المحافظة على نعمة الأمن والأمان والاستقرار التي أنعم الله بها على الأردن وتفويت الفرص على أعداء الوطن والدين.

وأضافوا خلال خطبة الجمعة أن الله ميز الأردن بقيادة حكيمة وشعب متعلم منتمٍ لوطنه ودينه فعلى الجميع التكاتف والتعاضد لحماية منجزات الوطن من خوارج العصر وقوى الظلام والشر التي لا تميز بين الحق والباطل.

لافتين إلى أن نعمة الأمن والأمان وتحقيق الاستقرار مسؤولية أبناء المجتمع جميعا بالتوعية والتثقيف بمخاطر الفوضى والإرهاب والقوى الظلامية الهدامة التي أصبحت تعيث بعدد من الدول المجاورة نهبا وفسادا.

ودعا الخطباء إلى اليقظة والانتباه إلى الإشاعات والفتن ومروجيها الذين يسعون إلى خلق حالة الفوضى بين أبناء الأسرة الواحدة وضرورة التصدي لهم بكافة الوسائل والسبل. (وكالة بترا الأردنية)

التعليق:

دأب النظام في الأردن منذ أن أعلن الحرب على الإسلام تنفيذا للمطالب الأمريكية، باغتيال عقول المسلمين في الأردن في أمور كثيرة أذكر منها ثلاثة أمور:

1-  تفسير الآيات والأحاديث تفسيرا يتفق مع مصالحه ويضفي الشرعية عليه باعتباره نظاما إسلاميا وملكه حاكما شرعيا وولي أمر للمسلمين تجب طاعته، وأنه من آل البيت الواجب محبتهم.

2-  التركيز على تهمة خوارج العصر لكل من يدعو للخروج على النظام ويسعى لتغييره.

3-  إضفاء الشرعية على الثورة العربية الكبرى واعتبارها منقذة العرب من ظلم الخلافة العثمانية.

وقد وكل ذلك إلى وزارة الأوقاف خاصة وإلى وزارتي التربية والإعلام عامة.

أما الأمر الأول فيجب أن يكون معلوما أن الحاكم الشرعي هو من جاء باختيار الأمة له ومبايعتها إياه على العمل بكتاب الله وسنة رسوله، وما عدا ذلك لا يعتبر حاكما شرعيا، وليس ولي أمر تجب طاعته؛

فحاكم الأردن جاء بقرار بريطاني، وحكم بالدستور العلماني الذي وضعه كلوب باشا البريطاني، فلا الأمة اختارته ولا حكم بالكتاب والسنة، فمن أين جاءت شرعيته؟!

أما انتسابه لآل البيت إن صح فهو ليس مزية، فأبو لهب هو عم الرسول ﷺ ومصيره جهنم، وأبو طالب عم الرسول ﷺ ومصيره جهنم.

وإذا كان من آل البيت حقا فقد انطبق عليه قول رسولنا الكريم ﷺ «هلاك أمتي على يدي أغيلمة سفهاء من قريش» وقد كانت مصيبة الأمة بالثورة العربية التي أطلقها الحسين بن علي، وضياع فلسطين على يد حسين بن طلال.

والشعب السوري يقتل ويذبح من الوريد إلى الوريد وللنظام الأردني دور كبير في ذلك.. وما زال سلاح الجو الذي يأتمر بأمر "الهاشميين" يقتل المسلمين في سوريا واليمن.

أما الأمر الثاني المتعلق بخوارج العصر، هذه التهمة التي بدأت الأنظمة العربية تطلقها على المقاتلين خاصة النظامين الأردني والسعودي فهي تهمة باطلة لا أساس شرعياً لها.

ذلك أن الخوارج هم من خرجوا على علي كرم الله وجهه الحاكم الشرعي الذي اختارته الأمة بإرادتها وحكمها بالكتاب والسنة، وهذان الشرطان لا يتوفران في أي حاكم على وجه الأرض اليوم، دلوني على حاكم اختارته الأمة، فكل حكامنا قد نصبوا من قبل الكافر المستعمر، فكلمة الخوارج لا تنطبق على أحد اليوم.

أما الأمر الثالث وهو محاولة إضفاء الشرعية على الثورة العربية، وأنها ثورة خرجت ضد الظلم الذي حرمه الله وأنها خرجت ضد مصطفى كمال وجمال باشا السفاح، والحقيقة أن تلك الثورة كانت طبخة إنجليزية، خرجت ضد الخلافة العثمانية، بقيادة الحسين بن علي من الجنوب، ومصطفى كمال من الشمال، فكلاهما أدى الدور المطلوب منه، وكان حسين بن علي يدرك عظم الذنب الذي وقع فيه فقد كتب لبريطانيا: لقد وضعت نفسي وأولادي في نار جهنم من أجل بريطانيا العظمى.

فلا يتشدقن أحد بأنه خرج ضد الظلم والطغيان، وإنما خرج تنفيذا لمطالب بريطانيا التي دعمته بالسلاح والمال، ولو كان حقا يريد رفع الظلم عن المسلمين لما مد يده لعدوها، ولكنها الخيانة والتآمر على الإسلام وأهله.

ولنفرض أنه خرج ضد الظلم، ألا يعتبر من الخوارج هو وأبناؤه، فإذا كان مؤسس الأردن خارجياً، فلماذا هذه الحرب الشعواء على الخوارج... أليس حكام الأردن قدوة لهم؟!

وأخيرا نعمة الأمان التي طالب خطباء الجمعة بالمحافظة عليها، فهل كلف خطباء الجمعة أنفسهم بالبحث عن أسباب بقاء الأمن وأسباب انعدامه فيدلوا الأمة على أسباب بقائه، وأسباب انعدامه.

قال تعالى: ﴿وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً قَرْيَةً كَانَتْ آَمِنَةً مُطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَداً مِنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ اللَّهِ فَأَذَاقَهَا اللَّهُ لِبَاسَ الْجُوعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ﴾ [النحل: 112].

إن النظام في الأردن قد كفر بنعم الله، فانتشر الفساد في بره وبحره، وارتفع صوت العهر والفجور والدفاع عن المثليين والدعوة إلى إعطائهم الحق في ممارسة شذوذهم، والصد عن سبيل الله، واعتقال الدعاة إلى الله، والحيلولة دون عودة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، بإفساد الثورة الشامية... فهل سيبقى الأمن والأمان... وهل يظن من قتل الناس ظلما في سوريا سينجو من دعاء المظلومين عليه، ألا يخاف الله؟!، ألا يخشى أن يفعل به وبأهله كما فعل بالشام وأهله...

على خطباء المساجد قبل أن يكونوا أبواقاً للنظام في إضفاء الشرعية عليه وتجريم العنف الصادر من البعض أن يحاسبوه على ظلمه الذي أنتج هذه الظواهر، ويوقفوه عند حده.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أميمة حمدان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست