وزير الأوقاف المصري يفتي خزعبلة ويقول ضلالة
وزير الأوقاف المصري يفتي خزعبلة ويقول ضلالة

الخبر: نقلت بوابة الأهرام الأحد 2020/4/12م، تصريح وزير الأوقاف المصري، بأن إقامة صلاة الجمعة تدخل في إطار الولايات العامة التي لا تنعقد إلا بإذن ولي الأمر، أو من ينوب عنه، وفي المساجد التي تحددها جهة الولاية المختصة، ولا تنعقد في غير المساجد الجامعة التي تحددها جهة الاختصاص، وهي في عصرنا الحاضر وزارات الأوقاف والشئون الإسلامية، أو الجهة التي تسند إليها إدارة شئون المساجد في الدول التي ليس بها وزارات أوقاف أو شئون إسلامية، وإقامة الجمعة بالمخالفة لذلك افتئات على الدين والدولة، والذي تابع، أما إقامتها في الظروف الراهنة في الشوارع أو الطرقات أو بدرومات المنازل أو أسطحها بالمخالفة لجهة الاختصاص فإثم ومعصية بإجماع المؤسسات الدينية ورأي كل من يعتد برأيه من أهل العلم المعتبرين.

0:00 0:00
Speed:
April 17, 2020

وزير الأوقاف المصري يفتي خزعبلة ويقول ضلالة

وزير الأوقاف المصري يفتي خزعبلة ويقول ضلالة


الخبر:


نقلت بوابة الأهرام الأحد 2020/4/12م، تصريح وزير الأوقاف المصري، بأن إقامة صلاة الجمعة تدخل في إطار الولايات العامة التي لا تنعقد إلا بإذن ولي الأمر، أو من ينوب عنه، وفي المساجد التي تحددها جهة الولاية المختصة، ولا تنعقد في غير المساجد الجامعة التي تحددها جهة الاختصاص، وهي في عصرنا الحاضر وزارات الأوقاف والشئون الإسلامية، أو الجهة التي تسند إليها إدارة شئون المساجد في الدول التي ليس بها وزارات أوقاف أو شئون إسلامية، وإقامة الجمعة بالمخالفة لذلك افتئات على الدين والدولة، والذي تابع، أما إقامتها في الظروف الراهنة في الشوارع أو الطرقات أو بدرومات المنازل أو أسطحها بالمخالفة لجهة الاختصاص فإثم ومعصية بإجماع المؤسسات الدينية ورأي كل من يعتد برأيه من أهل العلم المعتبرين.

التعليق:


لا ندري من أي فقه يستقي وزير الأوقاف المصري فتاواه، اللهم إلا إن كانت على مذهب مصطفى كمال وفقهاء البيت الأبيض والعلمانيين المضبوعين بثقافة الغرب، والذين وجدوا في كورونا فرصة سانحة لحرب الإسلام وتدمير ما بقي من أركانه، فمنعوا الناس من صلاة الجماعة في المسجد والجمع معتبرين مخالفة ذلك إثما ومعصية وافتئاتاً على الدين والدولة، مستدلين على ذلك بقولهم إنه إجماع المؤسسات الدينية ورأي كل من يعتد برأيه من أهل العلم المعتبرين، بعد أن أدخلوا صلاة الجمعة في إطار الولايات العامة ولا تنعقد إلا بإذن ولي الأمر أو من ينوب عنه، حسب زعمهم، فهل في الإسلام مؤسسات دينية؟! وهل يعتبر رأيٌ مخالفٌ لنصٍ قطعي؟! وهل صلاة الجمعة من الولايات العامة التي تحتاج لإذن ولي الأمر؟ وهل يأثم من يخالفهم؟ ومن هو ولي الأمر الشرعي الذي يحق له أن يتبنى في الولايات العامة؟!


يتكدس الناس في القطارات والمواصلات، ويترأس البابا قداس جمعة ختام الصوم في 2020/4/10م، بينما يمنع الناس، لا من صلاة الجماعة فقط بل من صلاة الجمعة في المسجد، وهي الصلاة الجامعة الثابت وجوبها قطعا بقوله تعالى ﴿يَا أيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ فهي واجبة على كل مسلم لاقترانها بترك البيع المباح من أجلها، ولا يجوز منع الناس منها، وإغلاق المساجد ومنع الناس منها إثم كبير يقع على الدولة التي تقوم به، وكان الأولى أن تنفذ الدولة الإجراءات الوقائية لتطهير المساجد قبل وبعد الصلاة وأن يمتنع المرضى من الحضور للمسجد أو حتى مخالطة الناس في الأسواق والمواصلات وغيرها، أما غلق المساجد أمام الناس فإثم عظيم ﴿وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن مَّنَعَ مَسَاجِدَ اللّهِ أَن يُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ وَسَعَى فِي خَرَابِهَا﴾ ولا يجوز القول بأن الأصحاء قد يكون بينهم مرضى بالكورونا ولذا نمنع الجميع، بل من يغلب على الظن أنه مصاب يمتنع أو يُمنع ويصلي الآخرون.


وكان الواجب والإجراء الجامع الذي يمزج بين العقيدة والعمل أن تقام الجمعة وتبث مباشرة في وسائل الإعلام ليراها الناس ويحضرها العدد المشروط لصحتها عل الأقل ويتقدمها المشايخ والعلماء مطبقين الإجراءات الوقائية من التطهير والتعقيم والاصطفاف متباعدين، تبيانا لمعنى التوكل على الله ﴿قُلْ لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾، جامعين بين الجانب العقدي والعملي، فيضربون للناس مثلا عقديا ويذكرونهم بالله واللجوء إليه متضرعين أن يرفع عن الأمة البلاء والوباء رحمة بالناس...


ليس في ديننا مؤسسات دينية توقع عن الله أو تحتكر الإسلام، بل عندنا علماء وفقهاء ومحدّثون، والإجماع الوحيد المعتبر هو إجماع الصحابة لأنهم جميعا عدول يستحيل أن يجتمعوا إلا على خير وإجماعهم يكشف عن دليل، ومن قال أجمعت الأمة بعدهم وبعد إجماعهم فهو كاذب، ولا يعتد بأي رأي يخالف النص ولو كان صاحبه كائنا من كان، وهذا ما قال به الأئمة الأربعة، وهذا قول الشافعي "إذا خالف قولي قول رسول الله فاضربوا بقولي عرض الحائط"، وصلاة الجمعة واجبة بنص قطعي لا يحتاج لاستنباط حكمها ولا يعتد برأي من يقول بمنعها خشية الكورونا ولو أسموه علّامة وقلدوه المناصب، ولم يقل بأن صلاة الجمعة تحتاج لإذن السلطان أو من ينوب عنه إلا الأحناف وقالوا إذا لم يوجد أحدهما، لموت أو فتنة أو ما شابه ذلك، وحضر وقت الجمعة كان للنّاس حينئذ أن يجتمعوا على رجل منهم ليتقدّمهم فيصلّي بهم الجمعة، وهو ما يشبه حال بلادنا لخلوها من سلطان المسلمين، إذ غاب سلطان المسلمين منذ إسقاط دولتهم على يد الهالك مصطفى كمال.


كل حكام زماننا تجوز طاعتهم في المعروف فقط ولا تجب على الناس طاعتهم ولا يأثم من يخالفهم، لأنهم لا شرعية لحكمهم فلا يحكمون بالإسلام ولم يحصلوا الحكم ببيعة شرعية صحيحة ورئاستهم محددة بأقفاص سايكس بيكو وليست عامة لجميع المسلمين، هذا بخلاف كونهم جميعا عملاء للغرب يأتمرون بأمره ويحاربون الأمة ودينها نيابة عنه، فكل ما يتفرع عنهم من قرارات وفتاوى وأحكام وغيرها، باطل كبطلان ولايتهم لأمر الأمة، ولهذا فلا يجوز لمثلهم أن يتبنى أو يأذن في أمر الولايات العامة والخاصة أو ما يخص الأمة ودينها. ولا يتخذ هذا الإجراء فيتبنى ويأذن في مصالح الأمة ودينها ويصبح رأيه حكما شرعيا مطاعا هو من تبايعه الأمة بيعة شرعية صحيحة عن رضا واختيار، ليحكمها بالإسلام كاملا غير منقوص وتكون رئاسته عامة لجميع المسلمين في دولة واحدة تجمع شتاتهم وتوحد بلادهم، خلافة راشدة على منهاج النبوة، هذا فقط هو ولي الأمر الذي تجب طاعته.


يا أهل الكنانة شعبا وجيشا، إن الكورونا بريئة من قرارات غلق المساجد ومنع الجمع، ولو أراد النظام أن يجعل من المساجد دور توعية يواجه بها الكورونا لفعل ولكان لها عظيم الأثر، ولكنه كمن وجد فيها بغيته كي يستمر في طمس دينكم وأحكامه ما استطاع إلى ذلك سبيلا، فواجهوا حربه على دينكم بقربة من الله ورسوله وعملا لتطبيق شرعه في دولة تطبقه عليكم وترعاكم به في الداخل وتحمله للعالم رسالة بيضاء نقية يعم خيرها الناس جميعا؛ خلافة راشدة على منهاج النبوة... اللهم عجل بها واجعلنا من جنودها وشهودها.


﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ﴾


كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير
سعيد فضل
عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر


#كورونا | #Covid19 | #Korona

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست