وزير الإرشاد.. يتبع سنن أمريكا وبريطانيا
وزير الإرشاد.. يتبع سنن أمريكا وبريطانيا

الخبر:   أوردت صحيفة الصيحة الصادرة في الخرطوم صباح الأربعاء 2016/08/17م، خبراً تحت عنوان: (وزير الإرشاد: الخطاب الديني بالأسواق مادة فاسدة ومخالفة للشريعة)، وجاء في متن الخبر ما نصه: (أعلن وزير الإرشاد والأوقاف عمار ميرغني نية وزارته إصدار قرار (لتنظيم) العمل الدعوي بالمساجد، بحيث يمنع الحديث فيها إلا بعد أخذ إذن مسبق، كاشفاً عن إجراءات تتخذها وزارته، بالتعاون مع المجلس الوطني، والأجهزة الأمنية (والعدلية)، لتطبيق قرار منع الحديث الديني في الأسواق، والأماكن العامة، معتبراً الخطاب الديني في هذه الأماكن العامة مخالفاً للقرآن الكريم، وواصفاً إياها بالفاسد).

0:00 0:00
Speed:
August 19, 2016

وزير الإرشاد.. يتبع سنن أمريكا وبريطانيا

وزير الإرشاد.. يتبع سنن أمريكا وبريطانيا

الخبر:

أوردت صحيفة الصيحة الصادرة في الخرطوم صباح الأربعاء 2016/08/17م، خبراً تحت عنوان: (وزير الإرشاد: الخطاب الديني بالأسواق مادة فاسدة ومخالفة للشريعة)، وجاء في متن الخبر ما نصه: (أعلن وزير الإرشاد والأوقاف عمار ميرغني نية وزارته إصدار قرار (لتنظيم) العمل الدعوي بالمساجد، بحيث يمنع الحديث فيها إلا بعد أخذ إذن مسبق، كاشفاً عن إجراءات تتخذها وزارته، بالتعاون مع المجلس الوطني، والأجهزة الأمنية (والعدلية)، لتطبيق قرار منع الحديث الديني في الأسواق، والأماكن العامة، معتبراً الخطاب الديني في هذه الأماكن العامة مخالفاً للقرآن الكريم، وواصفاً إياها بالفاسد).

التعليق:

تصر وزارة (الإرشاد) السودانية، وعلى رأسها وزيرها عمار ميرغني على مناطحة الأمة الإسلامية، ومخالفة كتاب الله سبحانه وتعالى، وسنة رسوله e، تماشياً مع الحملة الأمريكية للقضاء على الإسلام، والتي من عناوينها محاربة الإرهاب والتطرف، ففي الوقت الذي شهدت فيه العاصمة السودانية الخرطوم يوم الخميس 18 آب/أغسطس 2016م، انعقاد ورشة عمل موسعة حول "دور الخطاب الديني في التصدي لظاهرة الإرهاب"، بمشاركة الجامعة العربية، وعدد من وزراء الإعلام العرب، وممثلي المؤسسات الإعلامية العربية، وتأتي هذه الورشة تنفيذا لقرار مجلس وزراء الإعلام العرب الصادر في 25 أيار/مايو 2016م في إطار تنفيذ التوجيهات الأمريكية الإرهابية لمحاربة الإسلام، ها هو وزير الإرشاد ينشط هذه الأيام في إصدار عدد من القرارات اتباعا لسنن أمريكا بريطانيا، خدمة للحملة التي يقودها بارونات البيت الأبيض لمحاصرة المد الإسلامي، ومحاولة خنق الأصوات التي تدعو لتحكيم الإسلام من خلال تجفيف منابع التعبئة في الأمة، وملاحقة الخطاب الإسلامي أينما وجد بغية اجتثاثه.

وحيال هذه القرارات؛ التي تعتبر عربدة شيطانية، تمارسها وزارة الإرشاد، فإننا نذكر الجميع بالحقائق التالية:

أولاً: إن الدعوة إلى الله عز وجل سواء أكانت في الطرقات، أو في الأماكن العامة، أو الخاصة، هي فرض على كل مسلم ومسلمة، وهي أشرف عبادة يباشرها المسلم، قال الله تعالى: ﴿وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّن دَعَا إِلَى اللَّهِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾، فالدعوة إلى الله هي أحسن كلمة تقال في الأرض، وتصعد في مقدمة الكلم الطيب إلى السماء مع العمل الصالح...

ثانياً: إن الدعوة إلى الله هي مهمة الأنبياء والرسل، ويأتي من بعدهم من انتدبهم الله لهذا الأمر من العلماء والدعاة، ولنتأمل كيف أن الله سبحانه وتعالى قد أمر نبيه eبالقيام بهذا الأمر على سبيل الإلزام لا الندب، ويبرز ذلك من خلال قوله تعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ * قُمْ فَأَنْذِرْ * وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ * وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ * وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ * وَلا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ * وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ﴾. ولقد عرف النبي eحقيقة الأمر فقام إلى الدعوة ولسان حاله يقول: مضى عهد النوم، وما عاد منذ اليوم إلا السهر والتعب، والجهاد الطويل الشاق والدعوة إلى الله عز وجل. إنه رسول الله قائدنا وقدوتنا، فكيف يطالبنا هذا الوزير بالنوم على خطوط النار، ونحن ننتمي لأمة الحبيب المصطفى e؟! كيف يطالبنا الوزير بالتوقف عن الدعوة إلى الله ونحن أمة تعاني الاستعباد والاستعمار بكل أشكاله؟! فأنى لنا التحرر إذا لم نتواصل مع الأمة تفاعلاً وتعبئة وتوعية وتذكيراً لدينها في كل مكان متاح؟َ!

ثالثاً: إن الهدف والغاية من الدعوة إلى الله هي: هداية الخلق إلى عبادة الله تعالى، وتعريفهم بما في الرسالة الإلهية من أوامر ونواهٍ، وشرائع وتنفيذها عليهم؛ لأن الله تعالى يقول لنبيه e: ﴿يا أيها المدثر * قم فأنذر﴾، والإنذار هو أظهر ما في الرسالة، فهو تنبيه للخطر القريب الذي يترصد الغافلين السادرين في الضلال وهم لا يشعرون، وفيه تتجلى رحمة الله بالعباد وهم لا ينقصون من ملكه شيئاً حين يضلون، ولا يزيدون في ملكه شيئاً حين يهتدون؛ غير أن رحمته سبحانه اقتضت أن يمنحهم كل هذه العناية ليخلصوا من العذاب الأليم في الآخرة.

إن أمريكا وربائبها يعلمون خطورة الدعوة إلى الله على نفوذهم في المنطقة، ولهذا يتحركون للصد عن سبيل الله، فهم لا يريدون هداية الناس وإنما يريدونهم خدما وعبيداً في مجتمعات رأسمالية علمانية يفصل فيها الدين عن السياسة في حياة الناس.

رابعاً: إن محاربة الإسلام وحملته، والحيلولة دون وصول الثقافة الإسلامية للناس، هو مخطط أمريكي للحيلولة دون ظهور الأمة مرة أخرى على الشعوب والأمم، لأن الاتصال الحي بالجماهير هو الذي يوجد الوعي، ويمكّن من تنظيم صفوف الأمة الإسلامية، وقيادتها بفكرة مبدئية تخلصهم من هذا الواقع الرأسمالي المرير، وهذا ما تخشاه أمريكا وأدواتها، ولذلك تسخر عبيدها في المنطقة لتقوم بهذا الدور الخبيث نيابة عنها.

خامساً: إن أكبر دليل على أن وزير الإرشاد يسترشد بمنهج الشيطان وليس القرآن، هو تلك الفلسفة التشريعية التي يستند إليها لمعرفة الخير والشر وكيفية استنباط القوانين، فقد ذكر الوزير أنه سيتم تطبيق القانون وأنهم سيرون هل وجد القانون حالة رفض من جماهير كثيرة في الأمة، فإذا كان عدد الرافضين كثيراً يقول الوزير عندها سنبطل قرار عدم التحدث في المساجد ونعتبره مرفوضاً جماعياً!

إن هذه المنهجية في سن القوانين والتشريعات هي التي نرفضها لأنها مخالفة صريحة لكتاب الله وسنة رسوله، فالقوانين والتشريعات في الإسلام لا تؤخذ بأغلبية الأصوات وإنما بقوة الدليل، هذا لأن (سعادة) الوزير يسترشد بدين غير دين الإسلام، ولهذا نحن نرفض الخضوع لكل الأديان الوضعية ونرفض ما يفعله بيادق أمريكا في المنطقة، وندعو لخلع هذا النظام الموالي لأعداء الأمة وإقامة نظام الإسلام؛ الخلافة الراشدة على منهاج النبوة، نقيمها على أنقاض النظام العلماني الذي يبشر به الوزير، ولمثل هذا فليعمل العاملون.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

الأستاذ/ عصام أحمد أتيم

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية السودان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست