وزير الطاقة القرغيزي يدعو إلى الاقتصاد في استخدام الكهرباء!
وزير الطاقة القرغيزي يدعو إلى الاقتصاد في استخدام الكهرباء!

  الخبر: صرح وزير الطاقة تالايبك إبريف في مؤتمر صحفي عقد في 2 آب/أغسطس بأن استخدام الكهرباء في أشهر الصيف وصل إلى مستوى قياسي، في قرغيزستان. وبحسبه، يصل استهلاك الطاقة الكهربائية يوميا في هذه اللحظة إلى 40 مليون كيلوواط في الساعة. وكان استهلاكها قبل ذلك 32-35 مليون كيلوواط في الساعة. وقال إبريف: "أدعو المستهلكين إلى الاقتصاد في استخدام الكهرباء. كلما زاد استهلاكنا للطاقة الكهربائية، تم إهدار المزيد من المياه. نحن بحاجة إلى الماء للتدفئة في فصل الشتاء. إذا لم نقتصد في استخدام المياه، فقد نواجه مشاكل في الشتاء".

0:00 0:00
Speed:
August 08, 2024

وزير الطاقة القرغيزي يدعو إلى الاقتصاد في استخدام الكهرباء!

وزير الطاقة القرغيزي يدعو إلى الاقتصاد في استخدام الكهرباء!

الخبر:

صرح وزير الطاقة تالايبك إبريف في مؤتمر صحفي عقد في 2 آب/أغسطس بأن استخدام الكهرباء في أشهر الصيف وصل إلى مستوى قياسي، في قرغيزستان. وبحسبه، يصل استهلاك الطاقة الكهربائية يوميا في هذه اللحظة إلى 40 مليون كيلوواط في الساعة. وكان استهلاكها قبل ذلك 32-35 مليون كيلوواط في الساعة. وقال إبريف: "أدعو المستهلكين إلى الاقتصاد في استخدام الكهرباء. كلما زاد استهلاكنا للطاقة الكهربائية، تم إهدار المزيد من المياه. نحن بحاجة إلى الماء للتدفئة في فصل الشتاء. إذا لم نقتصد في استخدام المياه، فقد نواجه مشاكل في الشتاء".

التعليق:

لقد قامت الحكومة بزيادة سعر الكهرباء بمقدار 10.8 مَلّيما اعتباراً من 1 أيار/مايو، لمن يستهلك ما يصل إلى 700 كيلوواط في الساعة من الكهرباء. ولمن يستهلك أكثر من 700 كيلوواط شهرياً تمت إضافة 23.3 مَلّيما. وبالنسبة للمستهلكين الذين يريدون استخداماً غير محدود، فقد ارتفع السعر بمقدار 35.4 مَلّيما. وكان سعر كيلوواط/ساعة من الكهرباء 1 سوم، في قرغيزستان، بعد ارتفاع سعر الكهرباء بمقدار 23 مَلّيما، في العام الماضي. والمستهلكون الذين يستهلكون أكثر من 700 كيلوواط في الساعة يدفعون 2 سوم و16 مَلّيما. كما توجد تعرفة سعرها 5 سوم و4 مَلّيم لمن يرغب في استخدام الكهرباء دون قيود.

وعلى الرغم من الزيادة المنتظمة في تعرفة الكهرباء في البلاد، إلا أن إمدادات الكهرباء غير كافية للسكان في موسم البرد. حتى إن هناك انقطاعات متكررة في التيار الكهربائي. والآن يدعو الوزير الناس إلى الاقتصاد في استخدام الثلاجات ومكيفات الهواء في ظل حرارة الصيف!

وفي المقابل، يشتري الرأسماليون في البلاد كهرباء رخيصة لتشغيل مناجم التعدين. فعلى سبيل المثال، استثمرت شركة MBT Stroy 1.5 مليار سوم في محطة قمبر-أوتا-2 للطاقة الكهرومائية، وتستعيدها بالكهرباء. وتخطط هذه الشركة لشراء الطاقة من محطة الطاقة الكهرومائية بخمسين أو ستين مَلّيما لمدة 5-10 سنوات من أجل استخدام استثمارها في قمبر-أوتا-2. ومن المعروف أن الحكومة تقول دائما إن تكلفة الكهرباء هي 2 سوم و38 مَلّيما، لكن عندما يتعلق الأمر بمصالح الرأسماليين، فإن هذه التكاليف تنخفض إلى أقل من 60 مَلّيما!

في الواقع، إن السبب وراء عدم قدرة قرغيزستان على الخروج من أزمة الطاقة ليس انخفاض أسعار تعرفة الكهرباء، بل السبب الحقيقي هو الفساد في قطاع الطاقة والحيل المختلفة للرأسماليين. فعلى سبيل المثال، يكسب المسؤولون المال عن طريق بيع المياه لأوزبيكستان وكازاخستان أثناء الري، ثم يبرمون عقداً لشراء الكهرباء لفصل الشتاء ويأكلون منه. والحكومات المتعاقبة تحاول نهب الشعب أكثر وأكثر، من خلال زيادة أسعار تعرفة الكهرباء، بدلاً من القضاء على مثل هذه المخططات الفاسدة الملتوية من جذورها. وعلى الرغم من أن شعاراتهم الانتخابية الفارغة مجرد خداع عابر، إلا أن الشعب لا يزال ينخدع بالسياسي الخائن التالي بالأمل الأخير لهم!

كل رئيس يأتي لديه سبب لرفع أسعار الكهرباء. لاختلاس مبالغ كبيرة ترد لهذا القطاع بوسائل فاسدة. لقد أنفقت قرغيزستان أكثر من 2 مليار دولار في قطاع الطاقة، منذ عام 1992. ومعظم هذه الأموال هي أموال متلقاة من منظمات مالية أجنبية في شكل قروض ومنح واعتمادات إضافية، وكلما وقعت اتفاقية يتم تقديم "تحديث" الشبكة كذريعة. ومع ذلك، وعلى الرغم من هذا المبلغ الكبير من القروض، فإن قطاع الطاقة في البلاد لا يزال في حالة سيئة! بالإضافة إلى ذلك، يتم تقديم هذه القروض من قبل المنظمات المالية الدولية مع المطالبة برفع سعر الكهرباء. فعلى سبيل المثال، عندما خصص البنك الدولي 20 مليون دولار لقرغيزستان، في العام الماضي، قالت آنّا بيردي، نائبة رئيس بنك أوروبا وآسيا الوسطى: "إن التعريفات الرخيصة تشجع على الاستهلاك المفرط للكهرباء. نحن نؤيد تغييرها".

ليس هناك شك في أن البنك الدولي وغيره من المنظمات المالية الدولية هي أدوات في أيدي المستعمرين، وهم يستخدمونها لتحقيق مصالحهم السياسية والاقتصادية من خلال الإغراق في الديون. وبناء على توصيات البنك الدولي هذا، بدأ تحويل قطاع الطاقة الكهرباء المملوك للدولة إلى الأفراد. كما يريدون زيادة تكلفة المنتجات المحلية من خلال الخصخصة وزيادة أسعار الكهرباء. ونتيجة لذلك، لن يتمكن رجال الأعمال المحليون من منافسة السلع الرخيصة التي يملكها الرأسماليون الأجانب.

وفي الختام، فإن السبب الرئيسي للمشكلة هو النظام الرأسمالي الذي أصبح سحابة سوداء فوق رؤوسنا والمخططات الفاسدة في صناعة الطاقة. إنهم يحققون أرباحاً ضخمة من خلال خصخصة الطاقة والكهرباء التي هي حاجة أساسية للناس.

في الواقع، الكهرباء في الإسلام هي ملكية عامة لا يمكن أن تملكها الدولة ولا الشركات الخاصةُ أو العامة. فهي ودخلها ملك للناس ويجب توزيعها على كل فرد. عن أنس رضي الله عنه أن النبي ﷺ قال: «الْمُسْلِمُونَ شُرَكَاءُ فِى ثَلاَثٍ فِى الْمَاءِ وَالْكَلَإِ وَالنَّارِ». وقد روى أنس رضي الله عنه هذا الحديث أيضاً عن ابن عباس رضي الله عنه بلفظ: «وَثَمَنُهُ حَرَامٌ». وبالتالي تقع على عاتق الدولة الإسلامية مسؤوليةُ ضمان وصول الملكية العامة ومنفعتها أو الدخل الناتج عنها إلى كل فرد.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

ممتاز ما وراء النهري

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست