وزيرة الداخلية تيريزا ماي تصبح رئيسةً للوزراء في بريطانيا (مترجم)
وزيرة الداخلية تيريزا ماي تصبح رئيسةً للوزراء في بريطانيا (مترجم)

الخبر:   أصبحت وزيرة الداخلية تيريزا ماي رئيسة للوزراء في بريطانيا يوم الأربعاء، مع مهمة قيادة وتوجيه انسحابها من الاتحاد الأوروبي. "يشرّفني وبكل تواضع أنه تم اختياري من قبل حزب المحافظين لأصبح رئيسها" هكذا قالت ماي التي تفضّل البقاء في الاتحاد الأوروبي، إلاّ أنها أوضحت بأنه لا عودة إلى الوراء عن نتيجة الاستفتاء الذي جرى في 23 حزيران/يونيو. حيث قالت "استفتاء Brexit يعني Brexit وسوف نشق طريقنا إلى النجاح من خلال ذلك". (رويترز)

0:00 0:00
Speed:
July 18, 2016

وزيرة الداخلية تيريزا ماي تصبح رئيسةً للوزراء في بريطانيا (مترجم)

وزيرة الداخلية تيريزا ماي تصبح رئيسةً للوزراء في بريطانيا

(مترجم)

الخبر:

أصبحت وزيرة الداخلية تيريزا ماي رئيسة للوزراء في بريطانيا يوم الأربعاء، مع مهمة قيادة وتوجيه انسحابها من الاتحاد الأوروبي.

"يشرّفني وبكل تواضع أنه تم اختياري من قبل حزب المحافظين لأصبح رئيسها" هكذا قالت ماي التي تفضّل البقاء في الاتحاد الأوروبي، إلاّ أنها أوضحت بأنه لا عودة إلى الوراء عن نتيجة الاستفتاء الذي جرى في 23 حزيران/يونيو. حيث قالت "استفتاء Brexit يعني Brexit وسوف نشق طريقنا إلى النجاح من خلال ذلك". (رويترز)

التعليق:

يرى الكثيرون في أحداث الأسابيع القليلة الماضية أنها دليل على الديمقراطية في بريطانيا. حيث صوت الشعب لمغادرة الاتحاد الأوروبي وتتعهد الحكومة الآن بتنفيذ ذلك. إلاّ أن الحقيقة هي أن الديمقراطية مجرد سراب كاذب لا يمكن أبداً أن يوجد عملياً. وأعمال بريطانيا في الأسابيع الأخيرة هي أبعد ما تكون عن السماح حقاً بأن يتحكم صوت الشعب في شؤونها.

يحمل الاستفتاء حدثاً نادراً للغاية في السياسة البريطانية، حيث يتم تحديد السياسات من قبل الحكومة والبرلمان من دون الحاجة إلى الرجوع للشعب في مثل هذه الأمور. وهذا يتفق مع فكرة "ممثل الديمقراطية" وهو ما يتم تنفيذه فعلياً في عالم اليوم. لكن ممثل الديمقراطية ليس هو الديمقراطية، خاصةً وأنّ الناس لا يستطيعون اختيار ممثليهم بحرية ولكن يجب أن يختاروا بين الخيارات المحدودة التي تسيطر عليها الأحزاب السياسية الرائدة. ويتم تأمين المشهد السياسي الواسع عن طريق سيطرة مؤسسة الإعلام والقضاء ومصالح الشركات.

لا تنشأ الحاجة إلى الاستفتاء إلاّ عندما تشعر المؤسسة بأنها تخسر السيطرة على الطبقة السياسية وتحتاج إلى إعادة تنظيم السياسيين مع السياسات الرئيسية. لم يجر الاستفتاء لأخذ رأي الشعب بل أجري لتوحيد الطبقة السياسية خلف سياسة المؤسسة. ولقد تم انقسام الطبقة السياسية بشأن هذه المسألة، لا سيما في حزب المحافظين منذ عهد مارغريت تاتشر. إن سبب الانقسام هو في الواقع سياسة المؤسسة نفسها. حيث تطمح المؤسسة إلى مشاركة جزئية في شؤون أوروبا ولا تريد مشاركة كاملة ولا تريد أيضاً عدم المشاركة بتاتاً. ولذلك فمثل هذه السياسة لا يمكن إلغاؤها سياسياً، لذا كان من الطبيعي بالنسبة للسياسيين بأن يكونوا مشوشين حول هذه المسألة، مما أدى إلى نشوء معسكرين مختلفين حول قضية أوروبا. حيث أصبح مثل هذا الموقف لا يمكن الدفاع عنه، ولذلك استخدمت المؤسسة الاستفتاء لتوحيد الطبقة السياسية في هذا الشأن.

إن من المتوقع أن المؤسسة كانت تفضل صوت البقاء في الاتحاد الأوروبي، ولكن على أي حال، فإن حزب المحافظين الآن قادر على التوحد خلف قيادة تيريزا ماي، وهي السياسية البارزة الموالية للمؤسسة. ولقد تم استبعاد أندريا ليدسوم بسهولة كبيرة من التنافس على القيادة من خلال حملة إعلامية مضللة. تماماً كما تم سابقاً وبسلاسة استبعاد بوريس جونسون من الترشح بواسطة أعمال مايكل غوف الموالي للمؤسسة. إن من السهل على المؤسسة في بريطانيا اختيار رئيس الوزراء من اختيارهم، حيث إنه لا يتم انتخاب قادة الحزب مباشرة من قبل الشعب.

الديمقراطية هي فكرة خيالية غير قابلة للتطبيق، إن الناس بشكل عام غير مؤهلين لاتخاذ قرار بشأن القوانين والسياسات المعقدة. إن السياسات والقوانين في الغرب ليست مصنوعة من قبل ناس عاديين. ولقد كان الاستفتاء فقط عبارة عن تصويت إما إلى "ترك" أو "البقاء" في الاتحاد الأوروبي. حيث لم يكن ولا يمكن أن يستشار الناس حتى في أبسط القرارات: الشروط التي في البقاء أو التي في المغادرة.

لقد فشلت النصرانية في الغرب في صراعها مع الإلحاد، ويقع على عاتق المسلمين الآن فضح الواقع الحقيقي للحرية والديمقراطية. مثل أي شيء مصنّع، فإن الإنسان لا يستطيع ابتكار نظامه الخاص، حتى الملحدون الماديون لا يدعون أن الإنسان خلق نفسه. إن الإنسان لا يمكنه أن يؤدي دوره بشكل صحيح إلا إذا اتبع نظام خالقه الذي أنزله له. يجب على المسلمين إظهار هذا عملياً من خلال إقامة دولة الخلافة على منهاج النبوة وإعادة بناء الحضارة العالمية استناداً إلى عبادة الخالق.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

فائق نجاح

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست