يا أهل الكنانة! هذا هو نظام الفساد الذي يحكمكم ولا يقتلعه من جذوره ويخلصكم من شروره إلا الخلافة على منهاج النبوة
يا أهل الكنانة! هذا هو نظام الفساد الذي يحكمكم ولا يقتلعه من جذوره ويخلصكم من شروره إلا الخلافة على منهاج النبوة

الخبر:   نقلت وسائل الإعلام ومنها الجزيرة والأناضول في 2016/4/6، نبأ إقالة المستشار هشام جنينة رئيس المركزي للمحاسبات وتعيين هشام بدوي خلفا له، بعد تصريحاته عن حجم الفساد البالغ 600 مليار جنيه حسب ما ذكرته المصري اليوم في 21 كانون الثاني/يناير الماضي، فيما بين 2011 إلى 2015 وما تلا ذلك من حظر للنشر في ملفات الفساد بأمر من النائب العام ثم تشكيل لجنة للتقصي حول التقرير نفسه وفي النهاية إقالته ثم تغريمه بمبلغ 20 ألف جنيه بتهمة السب والقذف.

0:00 0:00
Speed:
April 12, 2016

يا أهل الكنانة! هذا هو نظام الفساد الذي يحكمكم ولا يقتلعه من جذوره ويخلصكم من شروره إلا الخلافة على منهاج النبوة

يا أهل الكنانة! هذا هو نظام الفساد الذي يحكمكم

ولا يقتلعه من جذوره ويخلصكم من شروره إلا الخلافة على منهاج النبوة

الخبر:

نقلت وسائل الإعلام ومنها الجزيرة والأناضول في 2016/4/6، نبأ إقالة المستشار هشام جنينة رئيس المركزي للمحاسبات وتعيين هشام بدوي خلفا له، بعد تصريحاته عن حجم الفساد البالغ 600 مليار جنيه حسب ما ذكرته المصري اليوم في 21 كانون الثاني/يناير الماضي، فيما بين 2011 إلى 2015 وما تلا ذلك من حظر للنشر في ملفات الفساد بأمر من النائب العام ثم تشكيل لجنة للتقصي حول التقرير نفسه وفي النهاية إقالته ثم تغريمه بمبلغ 20 ألف جنيه بتهمة السب والقذف.

التعليق:

هكذا هي مصر الكنانة في ظل الرأسمالية الحاكمة وطغمة العملاء والنخبة الفاسدة التي تحكمها وتشكل المناخ السياسي فيها، وهكذا تنتهي كل مشاريع الإصلاح الداخلي أو الترقيعي لهذا النظام الفاسد، وكما قلنا ونكرر فإن إصلاح الفساد لا يقضي عليه بل يطيل عمره ويعطيه فرصة للنمو، وقد رأينا ما صار لكل محاولات الإصلاح لهذا النظام والتي لم تنته بالفشل فقط وإنما رأينا انتكاسات كبرى ورأينا هؤلاء المُصلحين يقبعون في سجون النظام الفاسد الذي يأبى إلا أن يحيط نفسه بكل من هم على شاكلته، ورأينا كيف تم الزج بالأبرياء في غياهب السجون بل والحكم عليهم بأحكام تعسفية وصلت إلى الإعدام، بينما يبرئ النظام رموزه السابقين من جرائمهم التي لا تحتاج إلى دليل إثبات بل هي واضحة وضوح الشمس في رابعة النهار، نعم فهو نظام لا يستحي من كونه نظاما قمعيا عميلا يرعى مصالح أمريكا في بلادنا، ولعل هذا ما أشار إليه نبيل فهمي عندما كان وزيرا لخارجية هذا النظام بأن العلاقة بين مصر وأمريكا ليست علاقة عابرة وإنما هي زواج كاثوليكي، في تعبير واضح عن مستوى انحدارهم في مستنقع الخيانة والعمالة، وأنهم على أتم استعداد لتنفيذ كل ما يمليه عليهم السيد في البيت الأبيض ولو كلفهم الأمر أن يسيروا على جثث أهل الكنانة بالدبابات والمجنزرات.

نعم يا أهل الكنانة هؤلاء هم حكامكم، طغمة من العملاء والخونة، مهمتهم هي حماية الفساد والمفسدين ورعاية مصالح الغرب التي تقوم على نهب خيراتكم وثرواتكم، ولا يتم هذا إلا بهذا التشكيل العصابي الذي يحكمكم ويتسلط على رقابكم، وقد جربت محاولات كثيرة لإصلاح هذا الفساد، إلا أنها كانت بعمومها لا ترقى إلى مستوى الحل الجذري الذي يقتلع الفساد من جذوره ويقضي على كل محاولات عودته مرة أخرى، بل كلها كانت معالجات من داخل النظام ولم تخرج عن كونها حلولاً ترقيعية للنظام نفسه وإن قام ببعضها من ينتسبون إلى التيار الإسلامي بدون رؤية إسلامية صحيحة أو واضحة، فما الذي تحتاجه الكنانة لترتقي وتقتلع النظام الفاسد من جذوره وتلقي به إلى هاوية سحيقة إلى غير رجعة؟!

إن أي بناء معوج متهدم الأركان غير ثابت الأسس لا يصلح معه ترميم من الداخل وإنما يحتاج إلى إزالة كاملة مع تنظيف الآثار ثم تأسيس جيد لبناء جديد متين، وهذه هي الطريقة المثلى للإصلاح وتبدأ بإزالة النظام الفاسد من جذوره وإزالة كل آثاره في الدولة العميقة، وهدم كل الأفكار التي تخدم سياساته، وبناء أفكار جديدة لها أساس ثابت قوي ينبثق عن عقيدة الأمة التي توافق فطرتها، وهي العقيدة الإسلامية وما تفرع عنها من أحكام شرعية هي حلول جذرية لكل مشكلات الناس في الحياة، وهي عين ما قام به النبي r، فرسول الله لم يعالج مشكلات أهل مكة وإنما كانت دعوته انقلابية على هذا الواقع الفاسد بكل ما فيه، وقد رأيناه r يخاطب الناس ويبين فساد معالجاتهم ويضع أمامهم المنهج الرباني الذي بعثه الله به فعادوه وآذوه وقالوا فيه ما قالوا، حتى هموا بقتله فأخرجه الله إلى أرض نصرته فكانت الدولة التي حملت الإسلام للعالم بالدعوة والجهاد.

يا أهل الكنانة! هذا هو واقعكم الذي تعانون فيه كل ذل وهوان، لا تحتاجون إلى ترقيع هذا النظام بل إلى اقتلاعه بطريقة رسول الله r والتي بها فقط يكون الإصلاح ففيها نظام حقيقي واضح وبديل جاهز للتطبيق عوضا عن هذا النظام الرأسمالي الذي يكرس الفساد ويؤسس له ويحميه فيها الخلافة على منهاج النبوة جربناها وجربنا عدلها فرأينا عمر وعدله وسمعنا مقولته لعمرو بن العاص رضي الله عنهما (متى استعبدتم الناس وقد ولدتهم أمهاتهم أحرارا) ولم يكن عمرو يستبيح الدماء والأعراض ولم ينهب الثروات والخيرات، فلو كان فينا عمر لعلق رؤوس هؤلاء الحكام على الطرقات وفي الميادين عبرة لكل ظالم متجبر.

نعم يا أهل الكنانة، هذا ما تحتاجونه فقط؛ خلافة على منهاج النبوة تطبق الإسلام بأحكامه كاملة في الداخل على الحاكم والمحكوم فلا يقوم للفساد فيها قائمة، بل تقتلع الفساد من جذوره وتجفف كل منابعه، وبينكم يا أهل الكنانة إخوانكم شباب حزب التحرير يحملون هذه الطريقة ويعملون معكم ولكم وبكم لإقامة الخلافة على منهاج النبوة فكونوا معهم لترتقي مصر والأمة وتكون بكم جميعا حاضرة الخلافة القادمة ودرعها الحامي، اللهم اجعله قريبا وبأيدينا.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست