يا أهل الكنانة إن حل كل مشاكلكم يكمن فقط في الإسلام وأحكامه
يا أهل الكنانة إن حل كل مشاكلكم يكمن فقط في الإسلام وأحكامه

الخبر:   نقل موقع صدى البلد على الإنترنت الأربعاء 2016/6/8م، الحوار الذي أجرته فضائية أبو ظبي مع شيخ الأزهر في برنامج الإمام الطيب والذي تكلم فيه عن المعوقات التي تواجه تجديد الخطاب الديني. وفي معرض حديثه تكلم عن المعاملات البنكية الحديثة مشيرا إلى وجود خلاف على حكمها، كما أشار إلى أن النبي لو عاش في زماننا لواكب العصر، وقال إن الأمور المتغيرة مثل الاقتصاد والسياسة والحكم والفن، لم يعط الإسلام فيها أحكامًا محددة، وإنما أعطى فيها مقاصد عامة لضبطها، وأضاف الطيب، أن الثوابت الدينية لا يحق لأحد تغييرها.

0:00 0:00
Speed:
June 17, 2016

يا أهل الكنانة إن حل كل مشاكلكم يكمن فقط في الإسلام وأحكامه

يا أهل الكنانة إن حل كل مشاكلكم يكمن فقط في الإسلام وأحكامه

الخبر:

نقل موقع صدى البلد على الإنترنت الأربعاء 2016/6/8م، الحوار الذي أجرته فضائية أبو ظبي مع شيخ الأزهر في برنامج الإمام الطيب والذي تكلم فيه عن المعوقات التي تواجه تجديد الخطاب الديني. وفي معرض حديثه تكلم عن المعاملات البنكية الحديثة مشيرا إلى وجود خلاف على حكمها، كما أشار إلى أن النبي لو عاش في زماننا لواكب العصر، وقال إن الأمور المتغيرة مثل الاقتصاد والسياسة والحكم والفن، لم يعط الإسلام فيها أحكامًا محددة، وإنما أعطى فيها مقاصد عامة لضبطها، وأضاف الطيب، أن الثوابت الدينية لا يحق لأحد تغييرها.

التعليق:

محاولات مستمرة لمحو هوية أهل الكنانة وطمس فطرتهم، بعد الثورة الدينية التي تبناها السيسي والتي دعا من خلالها إلى تجديد الخطاب الديني بما يلائم العصر ولا يصطدم مع الآخر، والتي حشد فيها كل أدواته من إعلاميين وسياسيين وشيوخ علمانيين تمسحوا بمسوح الإسلام، فشيخ الأزهر ربيب السوربون والذي زار البابا في معقله في الفاتيكان مؤخرا، ثم عرج على فرنسا وزار مسرح باتكلان في باريس وقرأ الفاتحة على أرواح أصحاب الرسوم المسيئة لنبينا e، يأتينا مجدِّدا للخطاب الديني بما يرضي السادة في الغرب الكافر ويطمئنهم على مصالحهم وبقائهم في بلادنا ناهبين ثرواتنا وخيراتنا، مدعيا أن الإسلام لم يتكلم في الاقتصاد والسياسة والحكم والفن، ولعله لم يسمع من أساتذته في السوربون عن رسائل النبي e إلى الملوك في زمانه ودعوتهم إلى الإسلام.

يا شيخ الأزهر، إن محمدا e أتى متحديا سافرا واضحا كل الوضوح، وهدم كل أفكار المجتمع الذي كان يعيش فيه وغير الواقع بالكلية وبنى المجتمع كله على أساس أفكار الإسلام والتي ظلت تحكم الدنيا قرابة ثلاثة عشر قرنا من الزمان، ولو عاش النبي e عصرنا هذا لما واكبه كما تدعي، بل لاصطدم مع كل ما فيه من أفكار الكفر، ولعمل على تنقية الإسلام منها، ولكان شغله الشاغل هو تغيير الواقع تغييرا جذريا شاملا وَفْقَ أحكام الإسلام، وهذا ما يجب أن يقوم به المخلصون من أبناء الأمة الواعين على مشاكلها الحاملين لقضاياها، وهو عين ما يقوم به حزب التحرير، الذي حمل هم الأمة وعمل على تنقية الإسلام من كل ما لوثه من أفكار الغرب الرأسمالية وتوعية الأمة وتعريفها بما في الإسلام من حلول ومعالجات كاملة لكل مشاكلها، وأنظمة تنجيها مما هي فيه من تيه وتعيدها إلى سابق عزها ومجدها، وتعريف الأمة بحقوقها وحثها على المطالبة بها كاملة وعلى رأسها أن تستأنف الحياة الإسلامية من خلال الخلافة على منهاج النبوة.

يا شيخ الأزهر، إن الإسلام حرم الربا كله وتسميتك له بغير اسمه لا يعنينا ولن يبيحه، ومقاصد الشريعة التي تحدثت عنها بين الإسلام أحكاما شرعية محددة للحفاظ عليها ولم يجعل تحقيقها منوطا بالعقل البشري العاجز؛ فحفظاً للدين جعل القتل عقوبة المرتد، وحرم قتل النفس إلا بالحق، وحرم الخمر التي تذهب العقل وحرم الزنا حفظا للنسب والنسل، ولحفظ الدولة والأمة وبقاء وحدتها حرم علينا أن يكون للأمة كلها حاكمان في زمان واحد مهما اتسعت رقعة بلاد الإسلام، ولحفظ المال وضع إطارا وأحكاما شرعية تحدد كيفية كسب المال وكيفية إنفاقه وسيسأل العبد عنها يوم القيامة، أليست هذه هي المقاصد التي تتحدث عنها يا شيخ الأزهر؟! وتقول إن الإسلام لم يتكلم في السياسة والاقتصاد والحكم والفن، فيم تكلم إذن؟! وكيف ستتحقق تلك المقاصد؟! من وحي الله أم من وحي الغرب؟! إن مقاصد الشريعة ليست عللا للشريعة بل هي أحكام تترتب على تطبيق الشريعة، أما أن تكون تلك المقاصد مصدرا للتشريع يعود على ما شرعه الله بالنقض والإلغاء فهذا أمر لا يعرفه الإسلام ولا علماء الإسلام المخلصون، بل يعرفه أعداء الإسلام. فمن قال إن مقاصد الشريعة تجعل الربا حلالا، ومن قال إن مقاصد الشريعة جعلت مَنْ سبَّ الرسول e صاحب رأي ووجهة نظر وبيننا وبينه ود ورحمة؟!

يا شيخ الأزهر كان الأولى بك أن تنحاز إلى أمتك وما يلبي طموحها ويعيد لها سابق عزها ومجدها لا أن تنحاز إلى عدوها منفذا مشاريعه، وأن تكون أداة في يدها تذكرها بما في الإسلام من أحكام شرعية ثابتة كفيلة بعلاج كل مشاكلها لا أن تكون أداة لتركيعها للغرب الكافر وأفكاره وأنظمته.

يا علماء الأزهر إنكم مسؤولون أمام الله عز وجل وهو محاسبكم، وستحاسبكم الأمة وشيخَكم هذا قريبا إن شاء الله مع خليفة المسلمين القادم فاختاروا لأنفسكم لأي فسطاط ستنحازون، واعلموا أنه كان قبلكم في ساحات الأزهر رجال ما خافوا في الله لومة لائم، فخلد التاريخ ذكراهم وستظل الألسنة تلهج داعية لهم بكل خير وحسبكم قول النبي e «سيد الشهداء حمزة بن عبد المطلب، ورجل قام إلى إمام جائر فأمره ونهاه فقتله» فنعم الميتة ما كانت لله وعلى ما يرضيه، نعم القتلة ما كانت سبيلا وطريقا للفردوس الأعلى مع سيد الأولين والآخرين فمن يبايع عليها ويرفع صوته عاليا أن أعلنوا من مصر خلافة على منهاج النبوة، من ينطلق محرضا أبناء الأمة المخلصين في جيش الكنانة لاقتلاع نظام الخسة والعمالة وتسليم الحكم لحزب التحرير القادر على تطبيق الإسلام من فور استلامه للحكم والعبور بالكنانة والأمة من كبوتها، وإظهار ما في الإسلام من معالجات ليرى الناس الإسلام واقعا عمليا مطبقا فيدخلوا في دين الله أفواجا، فأي فوز حينها فوزكم وأي عز عزكم وقد نصرتم الله ورسوله وأولياءه، إننا والله نرجوها منكم ولكم فأنتم أحق بها وأهلها، يا علماء الأزهر ويا جند الكنانة المخلصين، من للإسلام إن لم يكن أنتم ومن ينصره غيركم؟! الله الله في دينكم وعلمكم، الله الله في أمتكم التي تثق بكم.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست