اے اہل شام اپنی تحریک میں سے جو بچا ہے اسے بچا لو
اے اہل شام اپنی تحریک میں سے جو بچا ہے اسے بچا لو

خبر:

0:00 0:00
Speed:
June 13, 2025

اے اہل شام اپنی تحریک میں سے جو بچا ہے اسے بچا لو

اے اہل شام اپنی تحریک میں سے جو بچا ہے اسے بچا لو

خبر:

شام میں قائم مقام انتظامیہ کی جانب سے اسد کے غنڈوں کو رہا کرنے اور ملک میں بعض کو اثر و رسوخ دینے کا سلسلہ جاری ہے، جب کہ سابقہ ​​آزاد کرائی گئی جیلیں اب بھی انقلابیوں، مجاہدین اور سیاسی قیدیوں سے بھری ہوئی ہیں۔

تبصرہ:

اہل شام جن پر بشار الاسد کی فوج کے افسروں اور سپاہیوں کو یہ کہہ کر چھوڑ دینے کا منظر گراں گزرا کہ ”جاؤ تم سب آزاد ہو!“ حالانکہ ابھی جنگ اپنے اختتام کو نہیں پہنچی تھی، اور بعض نے اسے اپنے پیچھے والوں کو منتشر کرنے اور انہیں ہتھیار ڈالنے پر آمادہ کرنے کی ایک تدبیر سمجھا، ایک بار پھر مجرموں کو معاف کرنے کی پالیسی کے تسلسل پر صدمہ پہنچا، بلکہ انہیں قریب کیا جا رہا ہے اور سابقہ ​​نظام کے لوگوں کو نئے سرے سے گھما کر ریاست کا حصہ بنایا جا رہا ہے!

یہاں ہمیں درج ذیل نکات کو نوٹ کرنا چاہیے:

اول: موجودہ عبوری انتظامیہ کو لوگوں کی کوئی قانونی نمائندگی حاصل نہیں ہے، نہ تو اسلامی پیمانے پر، کیونکہ اس کی مسلمانوں نے کتاب و سنت پر بیعت نہیں کی ہے، اور نہ ہی قومی سیکولر پیمانے پر، کیونکہ اسے عوام نے منتخب نہیں کیا ہے۔ اگرچہ وہ ملک کے امور کو ایک فوجی قیادت کے ساتھ عوامی ہمدردی کی طاقت سے چلا رہی ہے جس نے طاغوت بشار کے جانے میں مدد کی، لیکن یہ جذبات عبوری انتظامیہ کو اہل شام کی طرف سے خون کا ولی بنانے کے لیے کافی نہیں ہیں کہ وہ معاف کر دے اور اس سے دستبردار ہو جائے۔

دوم: اس انتظامیہ کا عوامی ہمدردی کا ذخیرہ تیزی سے کم ہونا شروع ہو گیا ہے، اس کی وجہ مختلف فائلوں پر اس کے موقف ہیں جن میں عام لوگوں کے لیے اس کی ناکامی ظاہر ہو گئی ہے، بلکہ وہ اپنی ایڑیوں پر پیچھے ہٹ گئی ہے۔ مجرموں کو رہا کرنے اور ان کا مقام بلند کرنے، یہودی ریاست کے سامنے کمزوری دکھانے، شیطانی ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہونے کی تیاری، ٹرمپ سے بھیک مانگنے اور اس کی تعریف کرنے کے کہ وہ امن کا آدمی ہے، اور ملک کی صلاحیتوں میں مشکوک سرمایہ کاری کے سودے جنہیں بہت سے لوگوں نے شام کو تھوک اور پرچون میں بیچنے سے تعبیر کیا ہے، اور دیگر فائلیں، یہ سب وہ ضربیں ہیں جنہوں نے اس انتظامیہ کی بنیاد کو نشانہ بنایا اور اس پر عوامی اعتماد کے خاتمے اور حکومت کے لیے اس کی نااہلی کے احساس کو تیز کر دیا۔

سوم: موجودہ انتظامیہ شبیحہ اور اسد کے حامیوں کی رہائی کے معاملے میں لوگوں کے جائز سوالوں کا جواب نہیں دے سکی، جبکہ انقلاب کے بیٹوں کو سیاسی مخالفین کی حیثیت سے جیل میں رکھا جا رہا ہے، تو کیا جولانی کو ڈر ہے کہ ماضی کی فائلیں کھلنے کی صورت میں اس کے گروہ یا اس سے وفادار دھڑوں کے ہاتھوں بہنے والے بے گناہ خون کا حساب لیا جائے گا؟ یا یہ ایک شیطانی منصوبے کے تحت ایک بین الاقوامی فیصلہ ہے جسے وہ رد کرنے کی طاقت نہیں رکھتا؟

چہارم: موجودہ انتظامیہ جو کچھ کر رہی ہے وہ دشمن کو قریب کرنا اور دوست کو دور کرنا ہے، اس طرح دشمن دشمن ہی رہتا ہے اور دوست دشمن بن جاتا ہے، اور سیاسی اصطلاح میں یہ خودکشی ہے اگر وہ جانتے ہوں۔

پنجم: شبیحہ کو بغیر سزا کے رہا کرنے سے اہل شام کے خاندان موجودہ انتظامیہ کے فیصلوں کی صریحاً نافرمانی کرتے ہوئے خود ہی ان سے بدلہ لینے پر مجبور ہوں گے، جس کے نتیجے میں انتظامیہ کے پاس دو ہی راستے ہوں گے۔ یا تو وہ اپنی عوامی حمایت میں اشتعال کو ختم کرنے کی امید میں انتقامی کارروائیوں کو نظر انداز کر دے، اور اس طرح وہ فرقہ وارانہ تصادم کا دروازہ کھول دے گی جس کا انجام معلوم نہیں، اور ریاست اور شہری امن کے تصور کو سزائے موت سنا دے گی، یا پھر وہ ان خاندانوں سے لڑے گی جو اپنی بے حرمتی اور بہائے گئے خون کا بدلہ لے رہے ہیں اور ان کے معزز افراد کو شبیحہ کی جگہ جیلوں میں ڈال دے گی جو آزاد ہیں، اور یہ انقلاب کی عوامی حمایت کے قبائل اور خاندانوں اور انتظامیہ سے منسلک سرکاری افواج کے درمیان خانہ جنگی کی جانب اشارہ ہے اور یہ دونوں صورتوں میں بدترین منظر ہے۔

ششم: جولانی نے پہلے مصر میں اخوان المسلمین کو خبردار کیا تھا کہ سمجھوتوں کا طریقہ کار اور امریکہ اور عرب ممالک کے حکمرانوں کے پیروکاروں کی جانب سے جو کچھ حکم دیا جاتا ہے اس کا انجام خدا کی طرف سے ذلت اور پھر امریکی سرپرستی میں ان کے سروں پر الٹ جانا ہے، اور یہی ڈاکٹر مرسی کے ساتھ ہوا جب انہوں نے یہودی ریاست کے ساتھ تعلقات اور گہری ریاست کے ستونوں کو برقرار رکھنے اور اپنے آدمی السیسی کو نصب کرنے کے حوالے سے امریکہ کی ہدایات پر عمل کیا تو ان کی زندگی اس کی قیمت تھی، تو کیا جولانی کو اس شخص کی ضرورت ہے جو اسے وہی نصیحت کرے جو اس نے دوسروں کو کی تھی؟!

آخر میں اہل شام جنہوں نے حق و عدل کے لیے اور دین کی حمایت میں اور اللہ کی رضا کی خاطر خون کے دریا بہائے، ان پر لازم ہے کہ صدمے کی غفلت کو دور کریں اور موجودہ انتظامیہ کا محاسبہ شروع کر دیں اور ملک کو تباہی کی طرف گرنے سے روکیں، شاید انہیں سننے والے کان مل جائیں اور عوامی دباؤ شام کے موجودہ حکمرانوں کے لیے اپنے حسابات پر نظر ثانی کرنے کا محرک بن جائے، شاید اس سے شام کی تحریک میں سے جو کچھ بچا ہے اسے بچایا جا سکے۔

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا

شیخ عدنان مزيان

مرکزی میڈیا آفس حزب التحریر کے رکن

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست