يا حلف الباطل: خاب فألكم وخسر بيعكم فبئس الجمع جمعكم فحلفكم حلف الشيطان ومكركم إلى بوار
يا حلف الباطل: خاب فألكم وخسر بيعكم فبئس الجمع جمعكم فحلفكم حلف الشيطان ومكركم إلى بوار

 ذكرت قناة فرانس 24 الثلاثاء 2015/12/15م، أن السعودية شكلت تحالفا إسلاميا مناهضا للإرهاب من 34 بلدا بينها مصر وباكستان والسنغال،

0:00 0:00
Speed:
December 19, 2015

يا حلف الباطل: خاب فألكم وخسر بيعكم فبئس الجمع جمعكم فحلفكم حلف الشيطان ومكركم إلى بوار

يا حلف الباطل: خاب فألكم وخسر بيعكم فبئس الجمع جمعكم

فحلفكم حلف الشيطان ومكركم إلى بوار

الخبر:

ذكرت قناة فرانس 24 الثلاثاء 2015/12/15م، أن السعودية شكلت تحالفا إسلاميا مناهضا للإرهاب من 34 بلدا بينها مصر وباكستان والسنغال، حسبما أعلنت وكالة الأنباء السعودية الرسمية التي نشرت لائحة بأسماء هذه الدول ولا تضم إيران، وقالت الوكالة إن هذا التحالف الذي سيكون بقيادة السعودية، سيكون له مقر قيادة في الرياض من أجل دعم العمليات العسكرية في الحرب ضد الإرهاب، ويهدف التحالف إلى "تنسيق ودعم العمليات العسكرية لمحاربة الإرهاب ولتطوير البرامج والآليات اللازمة لدعم تلك الجهود"، إضافة إلى "وضع الترتيبات المناسبة للتنسيق مع الدول الصديقة والمحبة للسلام والجهات الدولية في سبيل خدمة المجهود الدولي لمكافحة الإرهاب وحفظ السلام والأمن الدوليين". وقال الأمير محمد بن سلمان ولي العهد السعودي ووزير الدفاع إن التحالف الإسلامي العسكري الجديد سيتصدى لأي منظمة إرهابية وسينسق مع الدول الكبرى والمنظمات الدولية، وقال في مؤتمر صحفي بالعاصمة السعودية الرياض "بلا شك سيكون هناك تنسيق دولي مع جميع المنظمات الدولية ومع الدول المهمة في العالم لهذا العمل."

التعليق:

دائما وأبدا عندما يأمر السيد يتحرك العبيد منفذين مؤتمرين بأمره وهذا عينه ما يقوم به نواطير الغرب في بلادنا الآن، أوباما يطلب وهم يلبون، يأمر وهم يفعلون، يقتلون أبناءهم بأيديهم لإرضاء السيد في البيت الأبيض ونسوا سيد السموات والأرض وملك الملوك، طلب أوباما مؤتمرا فانعقد وطلب حلفا ففعل الخونة والأتباع والأذناب.

وكأني بأوباما يصرخ في أتباعه، من يبايع على حرب الإسلام والمسلمين واستئصال شأفتهم ومنع إقامة خلافتهم؟! فيلبي النداء الخونة العملاء من المنافقين والفجار، في جمع كيدهم ويأتون إليه والذل والصغار بادٍ عليهم حتى إذا اجتمعوا وجمعوا ما جمعوا وانعقد عقدهم سألوه يا سيدنا ومولانا الأكبر أوباما ما لنا إن نحن بايعناك وحالفناك وصرنا حربا لك على الإسلام والمسلمين وقتلنا معك أبناءنا وإخواننا وقدمنا دماءهم وأعراض نسائهم قربانا في معبدك فما لنا إن نحن فعلنا وفعلنا؟! فيجيبهم شيطانهم الأكبر لكم الخزي والهوان والذل ما حييتم وبقيتم، وسنبقى ما بقيت عروشكم نسومكم الخسف والذل وننهب ثرواتكم وثروات بلادكم ما بقيتم لنا خدما مطيعين، وما بقيتم حائلا بين أمتكم وعودة خلافتها، وستدفعون أنتم فاتورة تكاليف الحرب كاملة من خيرات بلادكم حتى نبقي لكم عروشكم الورقية التي لا قيمة لها ولا وزن، فإذا عادت الخلافة للوجود سنسارع بالتخلي عنكم والبراءة منكم وسنسعى جاهدين للتملص من أفعالكم الشنيعة والعودة لحماية عقر دارنا من الخلافة القادمة هذا إن بقي لنا عقر دار حينها.

هؤلاء هم حلفاء الغرب أجراؤه على حكم بلادنا أرذل وأسوأ مَن فينا، لا يرقبون في مؤمن منا إلا ولا ذمة، سلم لأعدائنا حرب علينا وعلى ديننا ومقدساتنا، وكأني بهم اليوم أحزابا كأحزاب الأمس قد جمعوا وألّبوا جحافلهم واستجمعوا كل قوتهم وأتوا إلينا بقضهم وقضيضهم، وكأني بأبي جهل يقود جموع يخطب في جموع الجاهلين، أن اجمعوا من كل بلد إسلامي جنودا وسموا حلفكم حلفا إسلاميا، واخرجوا لقتال هؤلاء الذين أبوا أن يكونوا مطايا لأمريكا وحلفها والذين تمسكوا بالإسلام شرعة ومنهاجا وتواثقوا على إقامة الخلافة على منهاج النبوة ورفعوا راية الإسلام، أبيدوهم واستأصلوا شأفتهم.

لم يجمع الحكام الخونة حلفا كهذا لتحرير الأقصى من دنس يهود ولا لنصرة المستضعفين في بورما ولا مالي وغيرها وإنما نصرة لأوباما وشيطانه الأكبر وحماية لعروشهم التي ستزول بعودة الخلافة على منهاج النبوة قريبا إن شاء الله.

اعلموا أيها المتحالفون على الإسلام والمسلمين أن مكر الله أعلى وأكبر وأن المكر السيئ لا يحيق إلا بأهله والله غالب على أمره وسيتم نوره وينصر جنده ولو كره الكارهون ومكر الماكرون، فمثلهم ومثلكم كمن يطفئ الشمس بفمه، والأمة التي تحاربونها اليوم وتبايعون عليها عدوها وتأتمرون فيها بأمره ستنتصر عليكم لا محالة، فالنصر وعد من الله قد آن أوانه وأظل زمانه، وما تكسرت كل مؤامرات سادتكم على صخرة الشام إلا لذلك، ونصر الأمة يعني أن تنعتق من ربقة الغرب وتقام فيها الخلافة على منهاج النبوة تحاسبكم على جرائمكم في حق الأمة وما ضيعتم وما نهبتم أنتم والغرب من ثرواتها وخيراتها، وما قتلتم وسفكتم من دمائها، ولن ترحمكم على فعلكم الشنيع في حق الأمة، إن موعدكم الصبح أليس الصبح بقريب.

وأنتم يا أبناء الأمة في الجيوش: أما آن لكم أن تخشعوا لذكر الله وما نزل من الحق وتكونوا نصرا لإخوانكم وأهليكم لا حربا عليهم؟! أما آن لكم أن تكونوا في يد الأمة لا في يد عدوها؟! أما آن لكم أن تكونوا حماة للأمة من عدوها لا حماة لعروش الحكام الخونة من غضب الأمة وسخطها؟! أيرضيكم ما ترون من حال أمتكم؟ هل ماتت فيكم نخوة الرجال؟! إنها أمتكم التي تحارَب ويُكاد لها ليل نهار، وأموالكم التي تنهب وأعراضكم التي تغتصب أمام أعينكم وأنتم في صمت كالقبور، أليس فيكم وبينكم رجل رشيد يسعى لجنة عرضها السماوات والأرض؟! ينصر الإسلام والمسلمين وينعتق من تبعيته وولائه لحكام خانوا الله ورسوله ويعيد ولاءه لله ورسوله ويسلم الحكم للمخلصين القادرين على تطبيق الإسلام من فورهم فيكون كسعد وأسعد وأسيد ويكون سيد أنصار زماننا؟! أين أنتم يا أهل النخوة والمروءة وطلاب الجنة وما فيها من نعيم مقيم؟! الجنة تطلبكم وثمنها في أيديكم فمن يدفع ثمنها ويأخذها بحقها؟!

أما أنتم يا أبناء الأمة، فلا يرهبنكم جمعهم فالله أعلى وأجل والله وعدكم بالنصر والتمكين وحسبكم إحدى الحسنيين والله وليكم ولن يتركم أعمالكم، فلا يزدكم هذا الجمع إلا إيمانا وتسليما؛ فإنما هو ابتلاء يضاف إلى ميزان حسناتكم ويمحصكم الله به ويميز به صفوفكم فيخرج الخبيث من بينكم فتبقى صفوفكم بيضاء نقية، تستحق ما سيتنزل عليها من بركات الله بالنصر والتمكين إن شاء الله، فلا تحسبوه شرا لكم بل هو خير لكم، فاصبروا وصابروا ورابطوا واتقوا الله لعلكم تفلحون، واعلموا أن النصر صبر ساعة وليكن لكم فيما سبق لنبيكم eعظة وعبرة، فإن تكونوا تألمون فأعداؤكم يألمون كما تألمون، لكنكم ترجون من الله ما لا يرجون، وحسبكم أن الجنة تناديكم مع طلقات رصاصهم وتأتيكم راغبة مع قنابلهم وقذائفهم فطوبى لكم يا أهل طوبى، تقبل الله منكم وأربح بيعكم.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اسْتَجِيبُواْ لِلّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُم لِمَا يُحْيِيكُمْ وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِهِ وَأَنَّهُ إِلَيْهِ تُحْشَرُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الله عبد الرحمن

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية مصر

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست