يا نساء الأردن: مؤتمر البرلمانيات يحمل السمّ الزعاف
يا نساء الأردن: مؤتمر البرلمانيات يحمل السمّ الزعاف

الخبر:   يستضيف مجلس الأمة يومي الرابع والخامس من شهر أيار/مايو المقبل، مؤتمرا دوليا للنساء البرلمانيات في عمان، بمشاركة 500 سيدة من مختلف القارات، يمثلن برلمانات بلادهن. وفي هذا النطاق، أطلع رئيس اللجنة التحضرية العليا للمؤتمر خميس عطية، صحفيين على أهمية الحدث العالمي وقال "هذه أول مرة تستضيف فيها قبة مجلس الأمة مؤتمرا من هذا النوع"، لافتا إلى أن "المؤتمر مهم، نظرا لحجم المشاركة فيه، ولأن محاوره النقاشية تتعلق بقضايا المرأة". كما أكد أن هذا المؤتمر يحمل رسالة سياسية لافتة للمجتمع الدولي، مفادها أن الأردن بلد مستقر وآمن.

0:00 0:00
Speed:
April 29, 2016

يا نساء الأردن: مؤتمر البرلمانيات يحمل السمّ الزعاف

يا نساء الأردن: مؤتمر البرلمانيات يحمل السمّ الزعاف

الخبر:

يستضيف مجلس الأمة يومي الرابع والخامس من شهر أيار/مايو المقبل، مؤتمرا دوليا للنساء البرلمانيات في عمان، بمشاركة 500 سيدة من مختلف القارات، يمثلن برلمانات بلادهن.

وفي هذا النطاق، أطلع رئيس اللجنة التحضرية العليا للمؤتمر خميس عطية، صحفيين على أهمية الحدث العالمي وقال "هذه أول مرة تستضيف فيها قبة مجلس الأمة مؤتمرا من هذا النوع"، لافتا إلى أن "المؤتمر مهم، نظرا لحجم المشاركة فيه، ولأن محاوره النقاشية تتعلق بقضايا المرأة". كما أكد أن هذا المؤتمر يحمل رسالة سياسية لافتة للمجتمع الدولي، مفادها أن الأردن بلد مستقر وآمن.

بدورها قالت مساعد رئيس مجلس النواب فاتن خليفات إن "المؤتمر سيعقد لأول مرة في المنطقة، وسيسلط الأضواء على قضايا المرأة وتمكينها ومشاركتها في صنع القرار". (وكالة أخبار المرأة).

التعليق:

لقد استطاع الغرب الكافر في وقت مضى أن يحرف نفراً من النخبة المتعلمة عن توجهها الحقيقي بتحميلها مشروعاً تغريبياً يحمل في طياته أفكار الغرب، حتى أصبحت الحركات النسوية مؤهلة للقيام بدور وكيلة الغرب المستعمر في بلادنا لإفساد المرأة المسلمة وذوقها الإسلامي لكن ما راع الغرب أن المرأة المسلمة في الأردن ترفع الصوت عاليا في حملة: "ارفعوا أيديكم عن أعراضنا" لتعود من جديد المرأة المسلمة حاملة المشروع الإسلامي العظيم.

فليعلم المؤتمرون مسبقا أن مؤتمرهم لا يمثل المرأة المسلمة منشئة الأجيال والتي لا تقبل المقايضة ولا المداهنة ولا التنازل عن دينها، فإما إسلام وإما كفر، فالتمكين لدين الله لا يمكن أن يتم بمجاملة مؤتمر يرفض وصف المرأة بأنها "أم وربة بيت وعرض يجب أن يصان"، ولنا فيما حدث للمرأة الغربية عظة وعبرة.

فالكل يعلم أن الحركة النسوية نشاط سياسي غربي يتكئ على الأفكار الغربية من قبيل الحرية والمساواة والتي لم تحصد المرأة الغربية منها إلا شوكا ودمارا وأكبر دليل على ذلك ما أتى في إحصائياتهم من نسب طلاق وتعنيف وانهيار للحياة الزوجية وأطفال الزنا وسوء الأخلاق والشذوذ...

ففي بريطانيا "العظمى" أكثر من 50% من القتيلات كن ضحايا الزوج أو الشريك، أما الشرطة البريطانية فقد أعْيتها المكالمات الهاتفية لتبلّغ شكاوى اعتداء على زوجات أو شريكات، علمًا بأن الكثير منهن لا يبلّغن الشرطة إلا بعد تكرار الاعتداءات عليهن عشرات المرات.

أما عن أمريكا "بلد الأحلام!" والمروّجة الأولى للحريات فتغتصب فيها يوميا 1900 فتاة، 20% منهن يغتصبن من قِبَل آبائهن ولا حول ولا قوة إلا بالله... ويقتل سنويا مليون طفل ما بين إجهاض متعمّد أو قتل فور الولادة، كما بلغت نسبة الطلاق في أمريكا أكثر من 60% من عدد الزيجات.

هذا بالإضافة إلى أن عددا من مراكز دراسات وبحوث أمريكية كشف عن تفاصيل للإحصائية مثيرة جدا تبرز مدى زيف شعارات التحرر والمساواة كما اتضح أن الأطفال الذين شهدوا عنف آبائهم معرضون ليكونوا معتدين على زوجاتهم في المستقبل ألف ضعف.

فأي مجتمع يريدون وعن أي قرار يتحدثون وأي مؤتمر هذا الذي يدبّرون؟

أيها البرلمانيون،

استغفروا ربكم إنه كان غفارا يرسل السماء عليكم مدرارا، فكيف تتناسون أن أهل الأردن لا يزالون يحتاجون منكم تبني قضاياهم المصيرية من ضمان الأمن والتعليم والتطبيب وسائر الحاجات الأساسية للناس كلهم، وينتظرون خروجكم بأرقام حقيقية تكشف نسبة الفقر والعوز، علما أن بعض الدراسات كشفت أن 79% من دائرة "الفقر المطلق" ينتفعون من الجمعيات الخيرية.

فأين ثروات البلاد وأين دور الدولة في هذا المجال، ومتى كان التسوّل لدى الجمعيات المشبوهة استقرارا وأمنا يا رئيس اللجنة؟!! يقول الله سبحانه وتعالى: ﴿فَأَيُّ الْفَرِيقَيْنِ أَحَقُّ بِالْأَمْنِ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾.

يا نساء الأردن،

إن أرض الأردن أولى مناطق الشام التي فتحها المسلمون، والتي كانت منطلقا لفتح بلاد الشام جميعها في عهد سيدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه ومن ثم مصر وآسيا وأفريقيا وجزء من أوروبا، فكيف ترضَيْن بدعاة النسوية أن يصنعن القرار بدل أن تكن أنتن الصانعات الرائدات!

فلا تسمحن لذوات الجوارب الزرقاء و"السوفراجيت" أن يحبطن طموحكن بشعارات زائفة لصرفكنّ عن صنع القرار الحقيقي والتغيير الجذري لتطبيق الإسلام والعيش في كنفه وظله.

فالأرقام السابقة تُظهر بوضوح أن المرأة المهانة ليست امرأة الأردن ذات الحجاب والجلباب والنقاب، ولا امرأة جزيرة العرب التي تعيش في حيز من الصون والمحافظة يدعو كل المجتمع ليقدم لها التوقير والاحترام، وإنما الابتذال الحقيقي والإهانة هما في النظام الرأسمالي العلماني الذي جعل المرأة سلعة كما جميع السلع، والعدوان عليها بشتى أشكال التعسف والاضطهاد!

فهل هناك من أعطى المرأة حقها غير الإسلام؟ وهل كانت هناك كرامة للمرأة في بلادنا إلا قبل أن تدمرها العلمانية؟

هذا شاهد من أهلها المفكر والقانوني الفرنسي المعاصر، (مارسيل بوازار... M.Poizer) يقول: (إن الإسلام يخاطب الرجال والنساء على السواء) وقال: (أثبتت التعاليم القرآنية وتعاليم محمد r أنها حامية حمى حقوق المرأة التي لا تكل).

فلماذا لا يشخص دعاة هذا المؤتمر هذه المعضلات الحقيقية التي تنذر بالانفجار والخطر فيعالجوها بنظام رباني يرضى عنه ساكن السماء وساكن الأرض، مشروع خير أمة عليه خير دولة على منهاج النبوة، فهي المسألة الأكثر إثارة الآن في الأوساط السياسية، وهو ما يعني ضمنياً تحدّياً للتحرر من التبعية الفكرية الغربية؛ لأن المرأة المسلمة لن ترضى مطلقا أن يعيش جيل المستقبل في ذيل الدول.

﴿إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لِكُلِّ شَيْءٍ قَدْراً

كتبته لإذاعة الكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

خديجة بن حميدة - تونس

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست