يا قراء البلاط: مدونة الأسرة وتعديلاتها فرعٌ عن فاحشة سيداو التي صادق عليها البلاط!
يا قراء البلاط: مدونة الأسرة وتعديلاتها فرعٌ عن فاحشة سيداو التي صادق عليها البلاط!

الخبر: ستة أشهر، هي المهلة التي منحها الملك محمد السادس للحكومة المغربية، من أجل رفع مقترحاتها بشأن تعديل مدونة الأسرة، وتم تكليف رئيس الحكومة بمهمة النظر فيها، وبموازاة ذلك أسندت مهمة الإشراف العملي بشكل جماعي مشترك لكل من وزارة العدل والمجلس الأعلى للسلطة القضائية ورئاسة النيابة العامة. (العربي الجديد 2023/09/26)

0:00 0:00
Speed:
October 05, 2023

يا قراء البلاط: مدونة الأسرة وتعديلاتها فرعٌ عن فاحشة سيداو التي صادق عليها البلاط!

يا قراء البلاط: مدونة الأسرة وتعديلاتها فرعٌ عن فاحشة سيداو التي صادق عليها البلاط!

الخبر:

ستة أشهر، هي المهلة التي منحها الملك محمد السادس للحكومة المغربية، من أجل رفع مقترحاتها بشأن تعديل مدونة الأسرة، وتم تكليف رئيس الحكومة بمهمة النظر فيها، وبموازاة ذلك أسندت مهمة الإشراف العملي بشكل جماعي مشترك لكل من وزارة العدل والمجلس الأعلى للسلطة القضائية ورئاسة النيابة العامة. (العربي الجديد 2023/09/26)

وأكد أحد فقهاء السلطة وعضو المجلس العلمي الأعلى بالمغرب أن "هذه المراجعة لا تحرم الحلال ولا تحلل الحرام وتقوم في انفتاحها على المطالب الحقوقية على النصوص قطعية الدلالة، سواء أكانت قرآنا أو سنة، وفي إطارهما يكون الاجتهاد الذي يراعي التغيرات المجتمعية، ويجمع إلى فقه النصوص فقه الواقع وفقه التنزيل وفقه المآلات".

وكثير من فقهاء السلطة يروجون ويسوقون هكذا رأي عبر منصات التواصل الرقمية.

التعليق:

ما إن تم إعلان أمر تعديل مدونة الأسرة بالمغرب حتى تعالت أصوات قراء البلاط وفقهاء الانحطاط، ينادون في كل واد ويتصايحون في كل ناد أن هذه التعديلات لن تحل حراما ولن تحرم حلالا، وأقسموا على فريهم وإفكم بأغلظ الأيمان حتى قال قائلهم إن هذه التعديلات مردها إلى الكتاب والسنة ونصوصهما القطعية الدلالة!!

يا قراء البلاط! عظمت مصيبتنا وتفاقمت الآفة بكم، متى نطقتم كانت رزيتنا في منطقكم، أرهقتنا ضحالة تفكيركم وهشاشة ثقافتكم، وأتعبنا جبنكم وخوركم والتصاقكم بأنظمة العار، متى خضتم في قضايانا أتيتم بالعجائب والغرائب بل والموبقات!

أما عن حديثكم النشاز في مدونة الأسرة وتعديلاتها المقترحة، خبرنا أنكم ما نطقتم في هكذا شأن حتى لُقِّنْتُم واسْتُنْطِقْتُم، فالذي حرَّم وجَرَّم حديثكم في قضايا أمتكم وحشركم في زاوية محراب صلاتكم، هو هو من أنطقكم وأباح لكم الكلام في مقترح تعديل مدونة شؤمه؛ مدونة الأسرة.

والمصيبة كل المصيبة هي في فريكم وإفككم، وذلك الحديث الكاذب من كون المدونة وتعديلاتها لن تحل حراما ولن تحرم حلالا! يا قوم، أرهقنا غباؤكم وأتعبنا جبنكم وخوركم، عجبا في جهل الفقيه لحيثيات مسألته، والمسألة هنا مدونة الأسرة المشؤومة التي أقرها البلاط كنظام اجتماعي لعلاقة الرجل بالمرأة، وألزم بها أهل البلد المسلمين فأفسدت حياتهم الاجتماعية ودمرت حياتهم الزوجية، يكفي إطلالة على الارتفاع المفزع لنسب الطلاق لتعلم حجم الكارثة، حيث سجلت مختلف أحكام الأسرة في المغرب 300 ألف حالة طلاق عام 2022 أي بمعدل 800 حالة كل يوم!

ليعلم الجميع أن مدونة الأسرة كقانون تنظيمي للعلاقة بين الرجال والنساء فلسفتها وجذرها التشريعي ومرجعيتها هي اتفاقية سيداو الملعونة التي صادق عليها النظام سنة 1993 مع تحفظاته على المادة 2 و9(2) و15(4) و16 و29، وشرَع النظام حينها في مواءمة قانون الأحوال الشخصية مع الاتفاقية المبرمة، فكان تعديل مدونة الأحوال الشخصية في 10 أيلول/سبتمبر 1993، ثم وقع النظام عديد الاتفاقيات ذات الصلة مع المؤسسات الغربية فكان التعديل الأهم لسنة 2004 للمواءمة مع المواثيق الغربية وقوانينها المستجدة، وسميت الصياغة المعدلة الجديدة مدونة الأسرة. ثم كانت مراسلات المؤسسات والمنظمات الغربية الموجهة للقصر ومنها رسالة المديرة التنفيذية لقسم حقوق المرأة لمنظمة هيومن رايتس ووتش أواخر 2010 لرفع تلك التحفظات على اتفاقية سيداو، علما أن النظام سنة 2008 خلال خطابه عن حقوق الإنسان كان قد تعهد برفعها، فاستجاب النظام سنة 2011 ووجه مجلس الوزراء الذي يرأسه الملك مذكرة إلى الأمم المتحدة معها التزامه بكل بنودها وصادق عليها.

فالمدونة يا قراء البلاط هي مادة خيطها ونسجها مواثيق الغرب الكافر وفاحشة اتفاقياته وعلى رأسها سيداو، وليس للإسلام فيها شروى نقير وحلالها هو الحرام الخالص الذي لا شية فيه، يكفي النظر للجهات التي أنيطت بها مهمة التعديل لتدركوا حجم ذلك، فحراس القانون الوضعي أي وزارة العدل ووزيرها العلماني الفج والمجلس الأعلى للقضاء ورئاسة النيابة، هم المَدْعُوُّون لمائدة التعديل، وأنتم يا فقهاء البلاط هم المغيبون قسرا، لأن الغاية ببساطة علمانية وليست إسلامية، أما عن مقترح تعديل المدونة يا قراء الزوايا المظلمة والمحاريب المقفرة فهو استيفاء لكل بنود فاحشة سيداو بعدما صادق النظام على كل بوائقها، لتصبح المدونة منسجمة تماما معها وميثاقا غربيا خالصا.

يا قراء البلاط! ما انتهينا بعدُ من النكير على صمتكم الفاجر حتى سُقْتُم لنا كلامكم الكافر، ما كانت هذه المدونة وتعديلاتها إلا قنبلة محشوة كفراً تستهدف نبل حياتنا الاجتماعية الإسلامية وسمو حياتنا الزوجية الإسلامية ومعالي عفتنا وطهرنا ومودة وسكينة بيوتنا وخالص أنسابنا وذرارينا.

لأبناء المسلمين المكلومين بأنظمة ضرارهم وخراب ديارهم وإفساد معاشهم وخسران آخرتهم، والله ما لها من دون الله كاشفة، وما كانت إلا استقامة على أمر ربكم بتحكيم شرعه في أرضه وعلى عياله، خلافة راشدة على منهاج النبوة.

﴿وَاللهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مناجي محمد

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست