يعيش المسلمون داخل سجون صغيرة في سجن كبير
يعيش المسلمون داخل سجون صغيرة في سجن كبير

الخبر:   أعلنت مصر الثلاثاء بدء بناء سجن مركزي جديد بمحافظة القليوبية (شمال القاهرة) ليكون السجن الـ11 الذي يصدر قرار بتشييده، خلال أقل من ثلاث سنوات، والثالث خلال العام الجاري. وتواجه السلطات المصرية انتقادات من حقوقيين وذوي محتجزين سياسيين بالتوسع في بناء السجون على حساب الحقوق والحريات، بينما ترفض وزارة الداخلية والرئاسة في البلاد هذه الاتهامات عادة، وتقول إنها "ملتزمة بالدستور والقانون المصري".

0:00 0:00
Speed:
June 17, 2016

يعيش المسلمون داخل سجون صغيرة في سجن كبير

يعيش المسلمون داخل سجون صغيرة في سجن كبير

الخبر:

أعلنت مصر الثلاثاء بدء بناء سجن مركزي جديد بمحافظة القليوبية (شمال القاهرة) ليكون السجن الـ11 الذي يصدر قرار بتشييده، خلال أقل من ثلاث سنوات، والثالث خلال العام الجاري.

وتواجه السلطات المصرية انتقادات من حقوقيين وذوي محتجزين سياسيين بالتوسع في بناء السجون على حساب الحقوق والحريات، بينما ترفض وزارة الداخلية والرئاسة في البلاد هذه الاتهامات عادة، وتقول إنها "ملتزمة بالدستور والقانون المصري".

التعليق:

يتباهى النظام في مصر بافتتاح مزيد من السجون وإنشاء معتقلات جديدة خلال أقل من ثلاث سنوات، إذ يبدو أن تعهد البناء الوحيد الذي تم إنجازه في مصر منذ تسلم السيسي الحكم هو التوسع في بناء السجون مقارنة بالتعهدات السابقة الخاصة ببناء آلاف الوحدات السكنية التي تبخرت وذهبت أدراج الرياح في بلد يشكو أزمة سكانية، يرافقها تكدس للمعتقلين في السجون.

قال رئيس المجلس القومي المصري لحقوق الإنسان محمد فايق إن نسبة المحتجزين في زنازين أقسام الشرطة فقط دون غيرها تبلغ 400% من حيث الاكتظاظ، وتصل النسبة في السجون إلى 160%. بالإضافة إلى الأزمات الاقتصادية التي تعصف بالبلاد بين الفترة والأخرى وضيق الأحوال المعيشية لدى الشعب المصري وسوء الرعاية الصحية وافتقار المعدات والأدوية الطبية، نجد أن تكلفة إنشاء سجن جمصة وحده بلغت 750 مليون جنيه مصري (100 مليون دولار)، إذ إن ميزانية وزارة الداخلية تساوي خمسة أضعاف ميزانيتي وزارتي الصحة والتعليم معا...

وبحسب المنظمة العربية لحقوق الإنسان، يوجد على امتداد مصر ما يزيد على أربعين سجنًا، بجانب 382 مقر احتجاز داخل أقسام الشرطة، بخلاف السجون السرية في معسكرات الأمن المركزي وفرق الأمن التابعة لوزارة الداخلية، وداخل المقرات العسكرية التابعة لوزارة الدفاع.

وقالت مسؤولة الملف المصري بمنظمة هيومن رايتس مونيتور سلمى أشرف - التي تتخذ من لندن مقرا لها - قالت "لست متفاجئة بخبر بناء سجون داخل دولة قمعية هي نفسها سجن كبير". ورأت أن الدولة المصرية بسلطاتها الحالية تقوم بأكثر مما هو سجن لأبناء مصر، فتمنع عنهم السفر "وتبقيه تحت رحمتها المفقودة". وأضافت "أما عن بناء السجن فينذر بمزيد من البطش ولا يبشر بأي توجه من الحكومة نحو احترام آدمية وحقوق المواطنين في العيش بكرامة وحرية".

وأشارت جماعات حقوق الإنسان والنشطاء إلى انتهاكات واسعة منذ عزل مرسي، بما في ذلك عودة ممارسات عهد مبارك باستخدام التعذيب لمعاقبة المعتقلين أو انتزاع اعترافات منهم. فقد ذكرت عدة شهادات لمعتقلين سابقين في سجون مصر أن الظروف والمعاملة داخل السجون غير آدمية، حيث يتكدس المساجين ويوضع نحو 150 شخصا في زنزانة لا تتعدى مساحتها 60 م2 وتعاني من سوء التهوية. ولا يقف الأمر عند ذلك حيث يتعرضون دائما للتعذيب والإهانة ومنع ذويهم من زيارتهم.

وهنا نطرح السؤال البديهي: هل همّ الدولة هو التخفيف من التكدس داخل الزنازين استجابة لتوصيات المنظمات الحقوقية بتحسين الأوضاع داخل السجون التي احتوت تقاريرها على انتقاد لحالة التزاحم داخل الزنازين؟!! أم أن التوسع هو لاستقبال مزيد من معارضي النظام على خلفيات سياسية، وهم الذين يزدادون يوما بعد يوم؟!!

إن الدولة البوليسية طبعا تعطي أولوية لإنشاء سجون لتكميم الأفواه والانتقام من المخالفين في الرأي، أكثر من الاهتمام بالتنمية والتعليم والصحة وعمل مشاريع لتشغيل الشباب والعاطلين، فحسب الأرقام الرسمية الحكومية فإنه يوجد في مصر حالياً 3.5 مليون عاطل عن العمل من بين 27 مليون شخص يشكلون القوة العاملة في البلاد وهي تتركز خاصة في فئة الشباب حيث إن 74% من الشباب في مصر ممن هم دون الثلاثين عاماً يعانون من البطالة ولم يتمكنوا من الحصول على وظيفة.

إن الدولة الدكتاتورية لا تنظر إلى ما تعانيه البلاد من ركود اقتصادي في مختلف القطاعات، وما تشهده البلاد من تدهور الأوضاع المعيشية بسبب تراجع سعر صرف الجنيه المصري والذي أدى إلى ارتفاع كبير في أسعار السلع والعديد من المواد الأساسية. وفي سياق متصل، حذر خبراء واقتصاديون من تداعيات الارتفاع المستمر في سعر الدولار على أسعار السلع الغذائية، وتوقعوا وصولها إلى مستويات قياسية، بنسبة 100% في بعض السلع، مع استمرار عجز الحكومة المزمن عن وضع الحلول الجذرية للمشكلات الاقتصادية وغيرها من المشكلات التي تؤثر سلبا على رعاية شؤون الناس رعاية عادلة.

هذا هو دور الحكومات في بلادنا الإسلامية، تُعمي أعينها عن رؤية معاناة شعوبها وتصم آذانها عن سماع صوت المظلومين المقهورين لتلبية احتياجاتهم، وبالمقابل تطلق يدها الحديدية لتبطش بمن يخالف سياستها وتفتح سجونها لمن يقف بالمرصاد لعمالتها ويكشف وجهها القبيح أمام الناس المضبوعين بشعاراتهم الرنانة ووعودهم الزائفة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

رنا مصطفى

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست