"يداك أوكتا وفوك نفخ"
"يداك أوكتا وفوك نفخ"

بدأ وزير الخارجية ريكس تيلرسون يوم الجمعة 2017/10/20 زيارة للسعودية وقطر وباكستان والهند وسويسرا، في جولة تستمر أسبوعا. وقالت الخارجية الأمريكية إن تيلرسون سيبحث في الشرق الأوسط عدة قضايا منها الصراع في اليمن والملف الإيراني والأزمة الخليجية.

0:00 0:00
Speed:
October 23, 2017

"يداك أوكتا وفوك نفخ"

"يداك أوكتا وفوك نفخ"

الخبر:

بدأ وزير الخارجية ريكس تيلرسون يوم الجمعة 2017/10/20 زيارة للسعودية وقطر وباكستان والهند وسويسرا، في جولة تستمر أسبوعا. وقالت الخارجية الأمريكية إن تيلرسون سيبحث في الشرق الأوسط عدة قضايا منها الصراع في اليمن والملف الإيراني والأزمة الخليجية.

وتأتي هذه الزيارة بينما تواصل الكويت جهود الوساطة لحل الأزمة الخليجية. حيث استقبل أمير قطر الشيخ تميم بن حمد آل ثاني في الدوحة وزير الخارجية الكويتي الشيخ صباح خالد الحمد الصباح الذي يحمل رسالة من أمير الكويت.

التعليق:

أشبه ما يكون تيلرسون في جولته كمن لف الحبل على عنقه وكاد أن يختنق. فأزمة الخليج اخترعتها أمريكا منذ بضعة أشهر ظنا منها أنها تضع حدا لتحرك بريطانيا السريع في منطقة الخليج. إلا أنه كما يقال في الأمثال الشعبية "حكي القرايا لم يأت مطابقا لحكي السرايا". فلا قطر سقط منها السيف، ولا الجزيرة خفت صوتها، ولا بريطانيا تراجعت. فأصبحت أزمة الخليج أزمة حقيقية يمكن أن تؤثر على المصالح الأمريكية هناك، بعد أن كانت أمريكا قد أحكمت سيطرتها ونفوذها بعد حرب الخليج الثانية واحتلال العراق. من هنا تأتي زيارة تيلرسون لعل العطار يصلح ما أفسده سوء التصرف والتسرع في إشعال أزمة في الخليج. ومع ذلك فقد ابتدأ تيلرسون جولته بتصريح سلبي إذ قال بأنه لا توجد بوادر لانفراج أزمة الخليج قريبا وأنها تحتاج إلى وقت. ومهما كان من أمر فالخليج منذ نهاية ستينات القرن الماضي وحين تخلت بريطانيا عن قواعدها العسكرية وأنشأت فيها إمارات وسلطنات تابعة لها، وهي عرضة للابتزاز والنهب والهيمنة المباشرة. ولا تزال تعتبر بقرة حلوباً لمن يملك أدوات الحلب.

 وأمريكا وإن كانت قد وضعت يدها على كثير من خيرات الخليج إلا أنها تريده كله قاعدة لها ومصدرا ماليا لا يكاد ينضب. وفي منتصف الثمانينات من القرن الماضي كتب وليام سافير السفير الأسبق لأمريكا في السعودية في كتابه أمن الخليج الفارسي ما نصه "من يسيطر على الخليج وثرواته يستطيع أن يتحكم بمقدرات العالم". فدويلات الخليج العربي قطر والكويت والإمارات والبحرين وعمان تتربع على مئات المليارات من براميل النفط والغاز، ودبي أصبحت مركزا تجاريا عالميا تمر منه مئات المليارات من الدولارات الناشئة عن التجارات المحرمة كالمخدرات والسلاح. وكل هذا يجعل أمريكا تنظر بعين فاحصة على هذه المنطقة لتكون تحت سلطتها المباشرة وتزحزح بريطانيا عنها. وما أزمة الخليج التي حركتها أمريكا إلا عملا من أعمال محاولة السيطرة هذه. ولما لم تأت الرياح بما تشتهي السفن، ولما كانت المنطقة كلها مشتعلة سواء في العراق أو اليمن أو سوريا، فإن أمريكا نفسها التي أشعلت الفتيل في الخليج تحاول إخماده قبل أن يصبح لهيبه في اتجاه أمريكا وتبوء محاولاتها بالفشل وتنكشف خططها ولا يعود بمقدورها المحاولة مرة أخرى.

والحقيقة أن ما يجري في الخليج اليوم يمثل قمة التشرذم والضعف الذي أصاب المسلمين عامة والعرب خاصة منذ زوال دولة الخلافة العثمانية. فقد نشأت كيانات هزيلة جدا بالرغم مما تملكه من ثروات طائلة. ولا تملك هذه الكيانات من أمرها شيئا. فحكامها وأمراؤها ليسوا إلا نواطير لبريطانيا وإذا قدر لأحدهم أن يخرج عن خدمة التاج البريطاني فلا يكون إلا للسقوط تحت البسطار الأمريكي. فالأموال التي بين أيديهم ليست ملكا لهم، ولا إرادة لهم عليها. وقراراتهم ليست من بنات أفكارهم، وولاءاتهم ليست إلا لأسيادهم في لندن وإن جنحت لواشنطن أحيانا. وقد أصبح واضحا بدون أدنى شك أن مشكلة بلاد العرب والمسلمين ليست قلة المال والموارد خاصة إذا ما نظرنا إلى حال الخليج، بل المشكلة تكمن في ارتهان الإرادة السياسية لهذه الدول لتكون بيد أعدائها الذين لا يرقبون فيها إلا ولا ذمة. فالمال هنا في الخليج كثير، والموارد جمة، ولكن من بيده مفاتحها لا إرادة له. وبالتالي فلا نفع من هذه الأموال والموارد ما زالت الإرادة مرتهنة.

ونعود إلى زيارة تيلرسون الذي يريد أن يعيد الأمور إلى مجاريها حتى لا تفقد أمريكا ما كانت قد اكتسبته على مدى أعوام مضت. وعليه أن يوفق بين رغبات السعودية التي شجعتها أمريكا كثيرا ليكون للسعودية الدور الأبرز في قضايا الشرق الأوسط والعالم الإسلامي، وبين ما تمارسه قطر من دور رسمته لها بريطانيا يبدو أكبر من حجمها بكثير. وغاية ما يطمح له تيلرسون اليوم هو أن يمسح من الذاكرة القريبة أن أمريكا هي التي أججت الصراع وأنها هي التي أشعلت الفتيل، وتغدو أمريكا هي التي تحاول رأب الصدع ونزع فتيل الأزمة. وهذا هو الخداع والتدليس بعينه الذي ما فتئت أمريكا تمارسه منذ عقود، وقد رأيناه جليا في قضية فلسطين. فأمريكا تحول بين حل قضية فلسطين بأي شكل وهي التي تمسك بمفاتيح الحل، وفي الوقت نفسه تريد أن تظهر بأنها هي راعية السلام وهي من تحاول فرض الحلول، وهي التي تسوق هذا وذاك إلى المفاوضات التي لا طائل منها. وقد رأيناها كذلك في سوريا تصنع الحرب وتدعو للسلام وتصنع الإرهاب وتدعو لمحاربته وتدين الأسد وتعمل على تثبيته. وينخدع بها المخلصون الذين لا وعي لهم، ويمكّنها من كذبها وافترائها العملاء الذين باعوا أنفسهم رخيصة لها، ويقع في حبائلها شعب لا حول له ولا قوة.

وأمام هذا الواقع الأليم البغيض، لم يعد هناك مخرج من الضيق ومنفرج من الأزمات إلا أن تقوم قوة سياسية واعية ذات إرادة صلبة تستمد طاقتها وقوتها واستمراريتها من مبدأ لا عوج فيه، بحيث تستطيع أن تقف أمام كبرياء أمريكا وغطرستها، وأن تقدم للعالم نموذجا حقيقيا للحياة والسياسة والحضارة، يجعل من أنموذج أمريكا سخرية تاريخية، يودي بها إلى مهالك التاريخ. وحينها تقع أمريكا فريسة لحبل لفته على عنقها ونار نفخت هي فيها حتى أحرقتها فيصدق عليها قول من قال "يداك أوكتا وفوك نفخ".

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. محمد الجيلاني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست