يجب على المسلمين في أفغانستان وباكستان تحويل التحديات القائمة إلى فرص!
يجب على المسلمين في أفغانستان وباكستان تحويل التحديات القائمة إلى فرص!

الخبر:   قام وفد من إمارة أفغانستان الإسلامية مكوّن من عشرة أعضاء برئاسة حاكم قندهار، الملا شيرين، بزيارة إلى إسلام آباد لإجراء سلسلة من المحادثات مع السلطات الباكستانية. وتأتي زيارة السلطات الأفغانية في ظلّ التّوتر الذي تشهده العلاقات بين البلدين بسبب تصاعد هجمات حركة طالبان الباكستانية في باكستان في الآونة الأخيرة. ...

0:00 0:00
Speed:
January 09, 2024

يجب على المسلمين في أفغانستان وباكستان تحويل التحديات القائمة إلى فرص!

يجب على المسلمين في أفغانستان وباكستان تحويل التحديات القائمة إلى فرص!

(مترجم)

الخبر:

قام وفد من إمارة أفغانستان الإسلامية مكوّن من عشرة أعضاء برئاسة حاكم قندهار، الملا شيرين، بزيارة إلى إسلام آباد لإجراء سلسلة من المحادثات مع السلطات الباكستانية. وتأتي زيارة السلطات الأفغانية في ظلّ التّوتر الذي تشهده العلاقات بين البلدين بسبب تصاعد هجمات حركة طالبان الباكستانية في باكستان في الآونة الأخيرة. وبما أنّ العلاقات بين إسلام أباد والإمارة أصبحت حرجة، فهذه هي المرة الأولى التي يسافر فيها وفد سياسي وعسكري رفيع المستوى من الحكومة الأفغانية الحالية إلى إسلام أباد لإجراء المفاوضات. وقالت بعض المصادر الباكستانية إن القائم بأعمال وزير الخارجية الباكستاني طلب من الوفد الأفغاني "اتخاذ إجراءات ضدّ مُقاتلي حركة طالبان الباكستانية في أفغانستان"، وهو ادّعاء نفته الإمارة الإسلامية مراراً وتكراراً وشدّدت على المفاوضات بين الجانبين.

التعليق:

في الوقت الحاضر، كان ينبغي أن يثبت للأمة الإسلامية أنّ مثل هذه المحادثات بين الحكومات الوطنية المفروضة على البلاد الإسلامية لم تحلّ القضايا بشكل جذري، ولكنها أدّت إلى تهدئة التوترات بشكل مؤقت؛ وذلك لأنّ المستعمرين قسّموا أرض المسلمين الواحدة إلى كيانات وطنية عدة من خلال مدّ حدود مصطنعة على صدور المسلمين، أحدها خط دوراند. لقد قسم هذا الخط الشرير العائلات والقبائل إلى قسمين، ما تسبب في تحديات شديدة وعنف وكوارث للمسلمين على جانبي الحدود.

إن هذه الدول القومية المفروضة، والأيديولوجيات الوطنية، والحدود الوطنية، والأعلام الوطنية، والسرد التاريخي لكل دولة قومية، تمّ فرضها على الأمة بناءً على التقليد الأعمى من الغرب الكافر وإكراه القوى الاستعمارية الغربية الواضح، تتناقض مع العقيدة الإسلامية ونظام الإسلام. وبما أنّ هذا الوضع قد لوّث الأمة الإسلامية بالانقسام الفكري والسياسي والجغرافي؛ ولا يمكن أبداً أن يكون لديهم تعاون حقيقي وصادق بعضهم مع بعض على أساس الأخوة الإسلامية، إذا كان هناك من يتحدى هذا الادعاء، فعليه أن يقول لنا: ماذا فعل مسلمو باكستان وأفغانستان لوقف الإرهاب والفظائع التي يرتكبها الهندوس ضدّ المسلمين الكشميريين؟ ماذا فعلوا حتى الآن؟! وبالمثل، من الذي ظلّ يمنع الأمة من التواصل مع أهل فلسطين المسلمين، وخاصة مسلمي غزة، ضدّ أعمال الإرهاب والإبادة الجماعية المشتركة من كيان يهود وأمريكا؟! من الواضح جداً أن هؤلاء الخونة والحكام العملاء والدول القومية والحدود الوطنية هم من يمنعون ذلك.

وفي هذه المنطقة أيضاً، تعاني أفغانستان الوطنية من لعنة الموارد الطبيعية والموقع الجغرافي الاستراتيجي، ما دفع القوى الاستعمارية إلى استعمار البلاد لنهب مواردها الطبيعية وأهميتها الجيوسياسية. وعلى نحو مماثل، أصيبت باكستان الوطنية بلعنة الأسلحة النووية، وبدلاً من أن تكون الأسلحة النووية سبباً في قوة باكستان وهيمنتها، فقد جعلت من باكستان نقطة اهتمام للكفار للتأكد من أنّ الأسلحة النووية الباكستانية تحت السيطرة والمراقبة حتى لا تقع في أيدي بعض المسلمين المخلصين الذين يمكن أن يهددوا مصالح الكفار الاستعماريين في المنطقة من خلالها. ولهذا السبب، تضغط الولايات المتحدة والغرب على باكستان عبر قادتها المدنيين والعسكريين لإشغالها بالأزمات السياسية والاقتصادية وغيرها، وتدور حول الهند ولا تتحول بعد الآن إلى جبهة إسلامية مستقلة.

بالإضافة إلى ذلك، وفي هذا الوقت من الانقسامات القومية، واجه مسلمو باكستان وأفغانستان العديد من التحديات التي لا يمكن حلهّا أبداً في ظلّ الظروف الحالية. ولا يمكن حلّ هذه القضايا إلاّ عندما تتوحد أفغانستان وباكستان ودول آسيا الوسطى تحت مظلة الخلافة الراشدة الواحدة. فإذا أزيلت الحدود الوطنية المصطنعة مع المسلمين في هذه الأراضي فإنهم يبدؤون بالتفكير في المصالح الكبرى للأمة الإسلامية بدلاً من مصالحهم الوطنية.

وهكذا، ستنشأ جغرافيا واسعة، تضم عدداً كبيراً من السكان، مسلحة بالأسلحة النووية، وموارد طبيعية وفيرة، ومنتجات زراعية، وإمكانات تجارية كبيرة. وهذا هدف إسلامي عظيم، ينبغي للمسلمين أن يكافحوا من أجل تحقيقه ليل نهار.

وتذكروا أنه في مثل هذا الوقت لن يتم استخدام حركة طالبان الباكستانية والحركات الإسلامية المسلحة الأخرى في الصراعات الداخلية، ولكن في تقوية وتعزيز جيش الخلافة الراشدة. وبعد ذلك، بدلاً من مناقشتها كقضية داخلية، سيتم تخصيصها ضمن أصول السياسة الخارجية للخلافة الراشدة (الدعوة والجهاد) وسيقاتلون من أجل تحرير كشمير وفتح الهند. فلنجتمع أيتها الإمارة الإسلامية وشعبها لتحقيق هذا الهدف العظيم، ولنناضل من أجله ليلاً ونهاراً، حتى نستعد لتحقيق بشارات النبي محمد ﷺ في إقامة الدولة الإسلامية، الخلافة الراشدة الثانية، وفتح الهند، وتحرك جيش عظيم من خراسان نحو إيلياء (فلسطين)، وتحرير المسجد الأقصى. ولأن هذه هي الفرص العظيمة في عصرنا، فيجب الاعتراف بهذه الفرص على ضوء الإيمان والعمل على تحقيقها بما يتوافق مع الشريعة.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سيف الله مستنير

رئيس المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية أفغانستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست