يجب أن تتعلم كينيا درسًا بعد محاكمة عضو حزب التحرير الناشط السياسي الإسلامي أركان الدين ياسين  (مترجم)
يجب أن تتعلم كينيا درسًا بعد محاكمة عضو حزب التحرير الناشط السياسي الإسلامي أركان الدين ياسين  (مترجم)

الخبر: تداولت وكالات الأنباء مؤخرًا خبر اعتقال وسجن ومحاكمة الناشط الإسلامي السياسي عضو حزب التحرير أركان الدين ياسين الذي يعيش في مدينة نيروبي في كينيا. وقد تمت محاكمته بتهمة الدعوة إلى إقامة الخلافة في كينيا. وسيتم الاستماع إلى القضية في 5 أيار/مايو عام 2016.

0:00 0:00
Speed:
March 17, 2016

يجب أن تتعلم كينيا درسًا بعد محاكمة عضو حزب التحرير الناشط السياسي الإسلامي أركان الدين ياسين (مترجم)

يجب أن تتعلم كينيا درسًا

بعد محاكمة عضو حزب التحرير الناشط السياسي الإسلامي أركان الدين ياسين

(مترجم)

الخبر:

تداولت وكالات الأنباء مؤخرًا خبر اعتقال وسجن ومحاكمة الناشط الإسلامي السياسي عضو حزب التحرير أركان الدين ياسين الذي يعيش في مدينة نيروبي في كينيا. وقد تمت محاكمته بتهمة الدعوة إلى إقامة الخلافة في كينيا. وسيتم الاستماع إلى القضية في 5 أيار/مايو عام 2016.

التعليق:

إن اعتقال الناشط السياسي الإسلامي الذي كان يقوم بواجبه في حمل الدعوة عند مسجد الجامع في مدينة نيروبي ومحاكمته تؤكد مرة أخرى على حقيقة أن الحكومة الكينية تنظر بريبة إلى علاقاتها برعاياها بشكل عام والمسلمين منهم بشكل خاص.

إن أركان الدين ياسين هو خبير في مجال الكمبيوتر وهو أحد شباب حزب التحرير المنتشرين في جميع أنحاء العالم. وقد كان يحمل الدعوة إلى الأفكار والطريقة الراسخة التي يتبناها حزب التحرير المعروف عالميًا من أجل إيجاد التغيير الفكري.

وطريقة الحزب في سعيه لإقامة دولة الخلافة لا تتضمن أي عنف أو إعلان حرب. ولكنه يقوم بالصراع الفكري والكفاح السياسي في مناطق معينة في العالم الإسلامي. هذه هي سياسة حزب التحرير ولا يُتوقع من شبابه أن يحيدوا عنها لأن الحزب قد تبنى منهاجًا معينًا وطريقة محددة لتحقيق أهدافه. فكيف يُتهم أركان الدين ياسين بأنه كان يخطط لاستخدام العنف ضد الحكومة الكينية.

إنه لمن المثير للدهشة والسخرية والعار على النظام الكيني قيامه بمحاكمة أحد شباب حزب التحرير بتهمة الدعوة إلى إقامة الخلافة في كينيا. ويرجع ذلك إلى حقيقة أن حزب التحرير كان وما زال يعمل علنًا في شرق أفريقيا منذ أكثر من 20 عامًا، وقد قام بأنشطة مختلفة بما فيها عقد المؤتمرات، وإصدار البيانات الصحفية، وعقد البرامج الحوارية الإذاعية، وكتابة المقالات الصحفية، والنشر في وسائل الإعلام الإلكترونية، وتوزيع الكتب وغيرها. وفي جميع أساليب الأعمال المختلفة، قام حزب التحرير من خلالها بنشر الأفكار والآراء وطريقة إيجاد النهضة وأهدافه في شرق أفريقيا بما يتضمن كينيا أيضًا. ومن الواضح جدًا أنه يوجد معلومات كافية لدى أجهزة أمن هذه الدول عن أنشطة حزب التحرير وطريقته في إيجاد النهضة الصحيحة. ومنذ أن بدأ حزب التحرير العمل في بلادنا لم يتم ربط الحزب بشكل رسمي ولم يُذكر كحزب يستخدم العنف أو أن لديه نوايا إقامة الخلافة في هذه المنطقة.

من ناحية أخرى، فإن مثل هذه التهم هي وصمة عار على كينيا، إذ إنها توجه الاتهام إلى حزب التحرير / شرق أفريقيا على الرغم من قيامه بأنشطة مختلفة على مستوى القرى والبلدات والمدن المحلية. وقد قام حزب التحرير / شرق أفريقيا أيضًا بعقد مؤتمرات ضخمة في كينيا في عام 2008 وفي تنزانيا في عام 2004. في تلك المؤتمرات تم إرسال دعوات إلى الناس من مختلف الاتجاهات بما في ذلك المفكرين والعلماء، وقد وضح حزب التحرير طريقته لإيجاد النهضة وطريقته وأساليبه وأهدافه في الدول الصغيرة مثل الدول الموجودة في شرق أفريقيا بما فيها كينيا. والأهداف الرئيسية لحزب التحرير في شرق أفريقيا هي توضيح الفكر الإسلامي للمسلمين وبيان وجه الالتزام بها بشكل كامل، ويبين لهم أنهم جزء من الأمة الإسلامية في جميع أنحاء العالم. ويلتزم حزب التحرير أيضًا بالأمر إلى المعروف والنهي عن المنكر. ولم يقم حزب التحرير في أي وقت بالتفكير أو بالإعلان حتى عن طريق الخطأ أن من أهدافه إقامة الخلافة سواء في كينيا أو في أي مكان آخر في شرق أفريقيا. وحزب التحرير وشبابه يلتزمون بهذا الموقف بسبب الفهم الإسلامي الذي يدل على أن دولنا الصغيرة غير مؤهلة لإقامة دولة الخلافة. وعلاوة على ذلك، فإن المعايير تستوجب أن يكون أغلبية أهل البلد من المسلمين، وأن يملك البلد القدرة العسكرية وأن يكون الرأي العام فيه رأيًا إسلاميًا.

أما بالنسبة للاتهامات التي تزعم أن شباب حزب التحرير يشتركون في القيام بأعمال العنف، فإن هذا عارٍ عن الصحة لأنه يتناقض مع الدعوة التي يتبناها حزب التحرير في نشراته وكتبه الرسمية. وحتى إن ذلك معروف على نطاق واسع حتى بالنسبة للدول التي تقوم برشوة كينيا وتدفعها للاشتراك في مشاريع الحرب على الإسلام التي لا تحقق لها أية مصلحة ولكن لتنوب عن أمريكا وبريطانيا. ولم تدّع حكومات تلك الدول بأن حزب التحرير يقوم بهذه الأعمال على الرغم من الدعاية العالمية ضد هذه الأعمال وكراهيتهم للإسلام والمسلمين. فلماذا تدعي كينيا قيام حزب التحرير بهذه الأعمال؟

إن الحقيقة الماثلة أمامنا هي أن كينيا لا تريد أن تتعرض للانتقاد لأنها محاطة بالعار والذنب في كل أعمالها. ويتصرف حكامها كما لو أنهم يملكون الدولة. هذا هو السبب الرئيسي لاعتقال ومحاكمة أركان الدين ياسين. لقد كان في المقدمة في نقد ومحاسبة الحكومة الكينية بشأن قضايا تتعلق بالفساد والرشوة وانتهاك الحقوق وخاصة حقوق المسلمين والتمييز المعلن ضدهم والاعتقالات المستمرة لأسباب واهية، بالإضافة إلى عمليات القتل والتعذيب والإعدام خارج نطاق القضاء والتي تهدف إلى إسكاتهم.

فكينيا تسير في طريق الديمقراطية المنافقة. وتزعم أنها تدعم ترسيخ "حرية التعبير والرأي" بينما تقوم باعتقال من يقوم بانتقادها ومحاسبتها خشية أن يقوموا بفضح فسادها وعارها. والنتيجة أن كينيا تقوم بتكميم أفواههم وخاصة المسلمين منهم لأن معظمهم ضحايا للفساد والظلم.

لقد حان الوقت الآن لكي تدرك كينيا ما حذر منه شباب حزب التحرير بخصوص المشاكل التي بدأت البلاد بالوقوع فيها من خلال السياسات القبلية وقيامها بزج نفسها في دول كالصومال وغيرها.

يجب على كينيا أن تغتنم هذه الفرصة وتطلق سراح أركان الدين ياسين وغيره من المسلمين الذين قامت باعتقالهم بلا أية تهمة. وفي حال قيامها بهذا العمل فإنها ستقلل من الغضب والألم الذي يعتصر في صدور المسلمين جراء ارتكابها جرائم لا يمكن تصورها بحقهم. ويجب أن تتذكر كينيا أن العاقل يتعلم حتى من أعدائه.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

مسعود مسلم

نائب الممثل الإعلامي لحزب التحرير في شرق أفريقيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست