ينعدم الأمان في ظل الرأسمالية حتى للقاصرين
ينعدم الأمان في ظل الرأسمالية حتى للقاصرين

  الخبر: أصدرت وزارة الشؤون الداخلية في تنزانيا إحصاءات جديدة حول إساءة معاملة الأطفال في البلاد من كانون الثاني/يناير إلى أيلول/سبتمبر 2021. ووفقاً للوزارة، فقد تعرض ما مجموعه 6168 طفلاً للإيذاء، من بينهم 3524 تعرضوا للاغتصاب.

0:00 0:00
Speed:
December 19, 2021

ينعدم الأمان في ظل الرأسمالية حتى للقاصرين

ينعدم الأمان في ظل الرأسمالية حتى للقاصرين

(مترجم)

الخبر:

أصدرت وزارة الشؤون الداخلية في تنزانيا إحصاءات جديدة حول إساءة معاملة الأطفال في البلاد من كانون الثاني/يناير إلى أيلول/سبتمبر 2021. ووفقاً للوزارة، فقد تعرض ما مجموعه 6168 طفلاً للإيذاء، من بينهم 3524 تعرضوا للاغتصاب.

التعليق:

البيانات المذكورة أعلاه هي بيانات رسمية ومُبلّغ عنها، ومن المحتمل جداً أن يكون الواقع على الأرض أسوأ من ذلك. وفقاً لمركز تنزانيا للقانون وحقوق الإنسان في عام 2017، تم اغتصاب 12 طفلاً. وزادت النسبة بشكل كبير في 2018 حيث تم اغتصاب 533 طفلا. بعد ثلاث سنوات فقط، أي في عام 2021، تم اغتصاب 3523 طفلاً وفقاً للبيانات الحالية من وزارة الداخلية.

هذه إحصائيات مقلقة ومفجعة للقلب بالإضافة إلى فشل النظام السياسي الديمقراطي في توفير حلول جذرية لمشاكل المجتمع بما في ذلك الاغتصاب. يظهر هذا كواقع مرير لمفهوم الحرية الفردية الرأسمالي الذي يشجع على إشباع الغريزة الجنسية بأي وسيلة مع تجاهل آثارها على الآخرين.

لقد فشل النظام الرأسمالي تماماً أمام الإنسانية في توفير حل عادل وشامل لكيفية إشباع الحاجات العضوية والغرائز للإنسان التي تعتبر من الأمور الحاسمة في الحياة.

إن الحاجات العضوية بما في ذلك الغذاء والماء وجميع الأمور الضرورية لبقاء الإنسان تحتاج إلى نظام وسياسات اقتصادية مناسبة لضمان التوزيع العادل لتجنب معاناة الإنسان.

كما ويجب أيضاً إشباع الغرائز الأخرى كغريزة النوع التي تدفع إلى الميل الجنسي لتجنب الانزعاج والقلق عندما تُترك غير مشبعة، ولكن في ظل نظام اجتماعي عادل لا يتسبب في أي ضرر للآخرين مع توفير الحماية الكاملة وخاصة للأشخاص المستضعفين مثل القاصرين.

لا تثور الغريزة الجنسية إلا عندما يواجه الشخص مثيراً جنسياً، حتى لو كان من خيال ذلك الشخص. لذلك، فإن فشل الأيديولوجية الرأسمالية في وقف انتشار الحوافز والمثيرات الجنسية مثل المواد الإباحية والموسيقى والأفلام التي تحتوي على مثيرات جنسية وما إلى ذلك داخل المجتمع وتحديدها على أنها حرية شخصية في نطاق حقوق الإنسان سيؤدي دائماً إلى إثارة مظاهر الغريزة الجنسية التي لا يمكن السيطرة عليها والتي تؤثر بشكل سلبي على المجتمع ما يؤدي إلى زيادة حالات الإساءة للأطفال.

بعبارة أخرى، من المستحيل تجنب الاغتصاب والعنف الجنسي في مجتمع قائم على الرأسمالية حيث تمشي المرأة عارية أو شبه عارية تحت قانون الحريات، ويُسمح قانونياً بالدعارة كما وتنتشر الإعلانات التجارية ذات المثيرات الجنسية.

علاوة على ذلك، فإن الأيديولوجية الرأسمالية الفاسدة لن تنجح أبداً في جعل الناس يشبعون الاحتياجات المذكورة أعلاه بشكل صحيح دون الإضرار بالآخرين حيث إن إحصاءات إساءة معاملة الأطفال والعنف الجنسي تتزايد يوماً بعد يوم، لأن هذه الأيديولوجيات بنيت على المصالح والمنافع التي تتجاهل تدمير المجتمع، كما أنها في الأساس خالية من القيم الروحية.

من ناحية أخرى، يخضع النظام القانوني الرأسمالي وكذلك تطبيقه للعدالة، يخضع للعديد من العيوب بما في ذلك السبل القانونية وثقافة الرشوة الراسخة، ما يجعل المغتصبين ومرتكبي العنف الجنسي وغيرهم من المجرمين يفلتون من العقاب بسهولة، ويُحتجز بعضهم لفترات قصيرة ثم يتم إطلاق سراحهم. هذا النوع من التقاعس عن العمل يجعل بعض الناجين يترددون في الإبلاغ عن مثل هذه الحوادث.

يتمتع النظام الاجتماعي الإسلامي في ظل دولة الخلافة بالقدرة على حل جميع أشكال إساءة معاملة الأطفال سواء أكانت اغتصاباً أو غيره. يسعى الإسلام إلى خلق المحبة والطاعة بين الوالدين والمجتمع والأطفال من خلال أحكامه التي ربطت دائماً بين أفعال الإنسان والحياة الآخرة. لطالما خلق هذا الأمر الخوف بين المسلمين واقتلع مشكلة الاعتداء على الأطفال من جذورها، حيث سيواجه الجاني عقاباً مناسباً في ظل نظام قضائي إسلامي قوي.

كما يسعى الإسلام إلى وقف كل المثيرات الخارجية العامة للغريزة الجنسية. حيث إن الإسلام لا يسمح أبداً بعرض المواد الإباحية واللوحات الإعلانية التي تحتوي على عري أو على أطفال عراة.

يعمل النظام التربوي والإعلام داخل المجتمع الإسلامي على غرس المفاهيم الصحيحة عن غرائز الإنسان واحتياجاته. ومن ثم، في المجتمع الإسلامي، سيُنظر إلى الأطفال وموضوع احترامهم وتكريمهم وحمايتهم باعتبارها مسألة حياة أو موت. يسعى الإسلام إلى تقليل عدد الفرص التي يمكن أن يربك فيها الشخص الفاسد الطفل. وهكذا يصر الإسلام على المباعدة في المضاجع، والفصل بين الكبار والصغار، وبين الأطفال أنفسهم.

في الختام، بالإضافة لواجبنا في حماية الأطفال من جميع أنواع الانتهاكات، وتعليمهم كيفية حماية أنفسهم والإبلاغ عن أعمال أو محاولات الإساءة، فقد حان الوقت الآن للعمل الجاد من أجل حل جذري لإزالة الفكر الرأسمالي الشيطاني الفاشل واستبدال دولة الخلافة الراشدة الإسلامية به، والتي ستعمل لإنقاذ البشرية من كل الكوارث والبؤس بما في ذلك إساءة معاملة الأطفال.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سعيد بيتوموا

عضو المكتب الإعلامي لحزب التحرير في تنزانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست