يطول الدّهر ولا تُحقق المرأة المساواة مع الرجل في الأجر
يطول الدّهر ولا تُحقق المرأة المساواة مع الرجل في الأجر

الخبر: أفادت دراسة صادرة عن المنتدى الاقتصادي العالمي في 2016/10/26 أن المساواة في أماكن العمل بين الجنسين ستتحقق في عام 2186.

0:00 0:00
Speed:
November 07, 2016

يطول الدّهر ولا تُحقق المرأة المساواة مع الرجل في الأجر

يطول الدّهر ولا تُحقق المرأة المساواة مع الرجل في الأجر

الخبر:

أفادت دراسة صادرة عن المنتدى الاقتصادي العالمي في 2016/10/26 أن المساواة في أماكن العمل بين الجنسين ستتحقق في عام 2186.

التعليق:

يُعتبر التقرير العالمي للفجوة بين الجنسين الذي يصدره المنتدى الاقتصادي العالمي مقارنةً سنوية تقيس مدى النجاح في تقليص الفجوة وتحقيق التكافؤ بين الذكور والإناث في مختلف الدول حول العالم، وقد صنّف هذه السّنة في نسخته الحادية عشرة 144 دولة من حيث قدرتها على سد الفجوة بين الجنسين في أربعة مجالات أساسية شملت التحصيل العلمي والحصول على الرعاية الصحية والمشاركة السياسية والفرص الاقتصادية. تصدّرت الدول الإسكندنافية المراكز الأربعة الأولى (أيسلندا، ثم فنلندا، تتبعها النرويج ثم السويد). ولا يعني احتكار هذه الدّول المراكز الأولى نجاحها في تحقيق المساواة الاقتصادية بين الجنسين وإنّما اقترابها من تقليص الفجوة بينهما، فعلى سبيل المثال أيسلندا تحتلّ المرتبة الأولى لأن الفارق في الأجر بين الجنسين لا يتجاوز 18%. بينما حلّت أوّل دولة عربيّة في هذا المجال في المرتبة 119 وهي قطر تتبعها الجزائر في المرتبة 120 ثم الإمارات العربية المتحدة في المرتبة 124، ومن ثم تونس في المرتبة 126 والسعودية في المرتبة 141 وسوريا في المرتبة 142 قبل أن نجد اليمن في المركز 144 والأخير. وإذا قارنا بين نتائج هذه السّنة والسّنوات الماضية نجد أن نسق التقدم نحو المساواة الاقتصادية بين الجنسين تباطأ إلى حد كبير بل سجّل هذه السّنة أدنى معدّل منذ سنة 2008 حيث اتسعت الفجوة العالمية إلى 59%. وهذا ما أكّده من قبل التقرير الذي أعلنته منظمة العمل الدولية تحت عنوان "المرأة في العمل: اتجاهات 2016" والذي درس بيانات 178 دولة وخلص إلى أن عدم المساواة بين المرأة والرجل مستمرٌ عبر طيفٍ واسع من أسواق العمل العالمية. وبحسب التقرير نفسه لم تتراجع الفجوة بين الجنسين في مجال العمل سوى بمقدار 0.6 نقطة مئوية منذ عام 1995. في المقابل نجد أن برنامج عمل الأمم المتحدة لخطّة التنمية المستدامة حدّد سنة 2030 لتحقيق جميع الأهداف من بينها الهدف 5 المتعلّق بتحقيق المساواة بين الجنسين وتمكين كل النساء والفتيات. ويكفي أن نعلم أن المساواة في الأجر فقط حسب توقعات تقرير المنتدى الاقتصادي العالمي تتطلب 170 عاما فكيف بباقي الأهداف التي يتضمّن أغلبها مكوناً يتعلق بالنوع الاجتماعي؟!!!

"سيتحوّل عالمنا للأفضل بحلول سنة 2030" هذا ما كتبته الأمم المتحدة في وثيقتها ولن يتعدّى هذا الشعار حدود الحبر الذي كُتب به. فمؤشرات التمكين الاقتصادي هزيلة لا تبعث الأمل تقابلها دعاية ضخمة منفصلة عن الواقع تبيع المرأة أوهاما. وإن أشاد تقرير المنتدى الاقتصادي بالتقدم الكبير الذي أحرزته المرأة في مجال التعليم والصحة إلاّ أنّه لم يُتَرجم إلى تحسيناتٍ مماثلة في مكانتها في العمل وتمكينها السياسي، فلا تزال الفجوة في الأجور بين المرأة والرجل قائمة في أنحاء العالم ولم تحصل النساء في العام الماضي سوى على ما يزيد قليلا على نصف الأجور التي حصل عليها نظراؤهن الرجال، بالرغم من أنهن يعملن ساعات أطول وتُعادل مشاركتهن في سوق العمل ثلثي مشاركة الرجال. كما أنّ التمثيل السياسي للمرأة أقل من ربع التمثيل السياسي للرجل. والغريب أن وسائل الإعلام العربية والصحف المحلية تعاملت مع هذه الإحصائيات بسطحية تامّة ولم تستنكر فشل مساعي المنظمات والاتفاقيات الدولية في تحقيق المساواة بين الجنسين ولم تستهجن سياسات المساواة والجندرية المستوردة والتي فشل تطبيقها في بلدان المنشأ. بل فرحت قطر بمرتبتها الأولى عربيا (119 عالميا) وتعالت في السعودية أصواتٌ مطالبة بإنهاء ولاية الرّجل على المرأة وما زالت مسألة السماح لقيادة المرأة السيارة من عدمها حديث الساعة، ودول طالبت بتفعيل ما جاء في الاتفاقيات المناهضة للتمييز بين الجنسين..

تحتاج النساء لانتظار 170 عاما لتحقيق المساواة مع الرّجل مع العلم أنّ 170 عاما من الانتظار لا يسري على جميع الدّول إذ إنّ تصنيف الدول في هذا التقرير منقسم لثماني فئات (شرق آسيا والمحيط الهادي؛ وأوروبا الشرقية؛ وآسيا الوسطى؛ وأمريكا اللاتينية ومنطقة البحر الكاريبي؛ والشرق الأوسط وشمال إفريقيا؛ وأمريكا الشمالية؛ وجنوب آسيا؛ وجنوب الصحراء الإفريقية) ولتعلمي أختي المسلمة أنّه بحسب هذا التقرير سيتم القضاء على الفجوة بين الجنسين في الشرق الأوسط وشمال إفريقيا بعد 365 عاما من الآن، فهل أنت بحاجة لهذا الانتظار؟!!! هل عليك ذلك؟ يقلل صندوق النقد الدّولي من دورك كأمّ وربّة بيت راعية لأولادك، ويصنّف هذا التّكليف المشرّف عملا بلا أجر ويدعوك للانضمام إلى سوق العمل بكل وسيلة لتتقاضيْ بقايا أجر، بل ويُرجع تدهور النمو الاقتصادي إلى عدم مشاركتك الفعالة في عجلة الاقتصاد. فعن أي مساواة يتحدّثون وأي تكريم يزعمون؟! بل هي المهانة بعينها...

إن المفهوم الغربي للمساواة ما هو في الواقع إلا ظلم كبير يلحق بالمرأة بشكل خاص. إذ إنه لم يُقم وزنا للفوارق الجسدية والبيولوجية والهرمونية والنفسية بين الرّجل والمرأة، بل واستهجن مصطلح التكامل بينهما واعتبره إهانة للأنثى!

أختي المسلمة، سيبقى هذا التّناصف نظريا وإنّ محاولة ترجمته على أرض الواقع باءت وستبوء بالفشل، ضف إلى أن وبالها سيكون وخيما. إن محاولة إقناعك أن الدّين جزء من المشاكل التي تعيشينها وليس الحلّ ينطبق على من اتّخذت غير أحكام الإسلام منهجا لها في هذه الحياة. لا تكمن سعادتك في تماثلك مع الرّجل في كل جوانب الحياة وإنّما بمراعاة الفطرة السليمة والخصائص المتعلقة بالذكر والأنثى، وتذكّري أن الإسلام هو النّظام الوحيد الذي منح الحقوق الكاملة والرعاية الحقيقية للمرأة دون الاعتماد على قدرتها على الكسب أو قيمتها الاقتصادية بل أوجب النفقة عليها فقيرة كانت أم غنيّة.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

م. درة البكوش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست