يُوشِكُ أعداءُ اللهِ أنْ تبُوءَ مُؤامَراتُهُم بالخيْبَةِ والخُسْرَان، فإنَّ نَصْرَ اللهِ لأوليائِهِ المُؤمنينَ قريب
يُوشِكُ أعداءُ اللهِ أنْ تبُوءَ مُؤامَراتُهُم بالخيْبَةِ والخُسْرَان، فإنَّ نَصْرَ اللهِ لأوليائِهِ المُؤمنينَ قريب

الخبر:   أورد موقع جريدة "القدس العربي" في 19 تموز 2016 خبراً تحت عنوان: ضابط عراقي يُحذِّرُ من سعي (الحشد الشعبي) لإنهاء الوجود السُّني في محافظة ديالى، جاء فيه: عثرَت السلطات الأمنية في محافظة ديالى على مقبرة جماعية لمئاتٍ من الشباب السُّنة الذين سبق اختطافهم من قبل فصائل الحشد الشعبي خلال أكثر من عام.

0:00 0:00
Speed:
July 20, 2016

يُوشِكُ أعداءُ اللهِ أنْ تبُوءَ مُؤامَراتُهُم بالخيْبَةِ والخُسْرَان، فإنَّ نَصْرَ اللهِ لأوليائِهِ المُؤمنينَ قريب

يُوشِكُ أعداءُ اللهِ أنْ تبُوءَ مُؤامَراتُهُم بالخيْبَةِ والخُسْرَان،

فإنَّ نَصْرَ اللهِ لأوليائِهِ المُؤمنينَ قريب

الخبر:

أورد موقع جريدة "القدس العربي" في 19 تموز 2016 خبراً تحت عنوان: ضابط عراقي يُحذِّرُ من سعي (الحشد الشعبي) لإنهاء الوجود السُّني في محافظة ديالى، جاء فيه: عثرَت السلطات الأمنية في محافظة ديالى على مقبرة جماعية لمئاتٍ من الشباب السُّنة الذين سبق اختطافهم من قبل فصائل الحشد الشعبي خلال أكثر من عام.

وقال الضابط وهو من قيادة شرطة المحافظة: "أن معلومات توفرت لدى السلطات الأمنية الرسمية «قادت للتعرف على مقبرة جماعية يُقدر عددُ الذين تم دفنُهم فيها بعدة مئات لكن حتى الآن لا يمكن تحديد أي رقم قبل موافقة (الحشد الشعبي) على إخراج الجثث وتسليمها إلى الجهات الطبية لتتخذ إجراءاتها اللازمة» على حد قوله. واتهم «السلطات الأمنية في محافظة ديالى بالتستر على مثل هذه الجرائم حيث لم تحرك ساكناً بعد اكتشاف المقبرة الجماعية، بل ولم تتخذ إلى الآن قراراً باستخراج الجثث لأن الأمر سيفضحُ جرائم الميلشيات التي تسيطر على المحافظة وخصوصا منظمة (بدر) التي ينتمي إليها محافظ ديالى الحالي مثنى التميمي».

كما كشف عن قيام منظمة (بدر) «بإعداد قوائم بما تبقى من شباب السُّنة والمناطق التي يتواجدون فيها داخل مدن محافظة ديالى أو في الأرياف من أجل إجلائهم بأسلوب جديد وهو تبليغهم بأن مناطقهم عسكرية وعليهم المغادرة خلال 24 ساعة وإلا يتم تجريف منازلهم بعد أن جرَّفوا بساتينهم».

التعليق:

لإيضاح أهداف تلك الجرائم التي لم تقف عند حد محافظة ديالى بل تعدتها - ومنذ الاحتلال الغاشم للكافر الأمريكي الهمجيّ - لمحافظات الجنوب التِّسع بلا استثناء فقد أفرغَتْ من السُّنة فيها، هذا من جهةٍ، ومن جهةٍ أخرى المحافظات الشمالية والغربية: ككركوك، والموصل، والرمادي التي وفَّرَ تنظيم "الدولة" الغِطاءَ لتلك المليشيات المُتغَوِّلة ليستأصل شأفة العرب السُّنة منها تحت يافطة (التحرير) المزعوم من أيدي التنظيم سيِّئ الذِّكر.

وقدر تعلقِ الأمر بديالى، حتى شباط 2003، فقد بلغ عدد سكانها مليوناً ونصفَ المليون نَسمة على وجه التقريب، وتتراوح نسبة السُّنة منهم بين (85% - 88%)، لكنَّ الأمر تغيَّر كثيراً بعد الاحتلال. فقد استُخدمَت أساليب الاعتقالات والاغتيالات والاختطاف وعمليات التهجير الواسعة النطاق التي طالت المكوِّن السُّني، مع فرض حالةٍ من الرعب على أهل السُّنة عن طريق فرض حالة الحصار على مدنٍ وقرىً بكاملها وممارسة سياسة تجويع السكان، مع تجريف للمزارع والبساتين وتفجير المساكن والمساجد، واستغلال أي خرقٍ أمنيٍّ ليُلقوا بمسؤوليَّتِهِ على عاتق السُنَّة لإخلاء المدن منهم وبخلافه فإنهم يُعرِّضون أنفسَهم للقتل العلني، وهذا ما كان يحصل على الدوام وهو مستمرٌ دونَ انقطاع.

ولبيان الأهداف الخبيثة التي تسعى إيران ووكلاؤها (الحُكامُ الجُدُد والمليشيات) لتحقيقِها نقول: بأن هذهِ المحافظة (ديالى) تبلغ حدودها مع إيران (240) كيلو مترا تقريبا، وأنها أقرب المحافظات العراقية بين طهران وبغداد، وهي المَمَرُّ التجاري بينهما، وطريق الزائرين من إيران لبلوغ كربلاء، لكنَّ ذلك - ورغم أهميَّتِهِ التجارية والمعنوية - لا يُعَدُّ الهدف الأسمى لإيران.. بل إنها تسعى:

أولاً: لتثبيت أقدامها في الأراضي السورية ودعم حزب الله اللبناني، لذا هي تريد طريقاً برياً وقصيراً وآمناً في الوقت نفسه من حدودها مع العراق إلى الشواطئ الشرقية للمتوسط عبر الأراضي العراقية والسورية كي تصبح قوة دولية تتحكم بكثير من الأراضي والمياه العربية.

ثانياً: وبنفس الأساليب القذرة، التي جرى اتباعها - حتى بعد طرد "التنظيم" - ونسفِ البنى التحتيةِ من محطات توليد الكهرباء وتصفية المياه والمساكن والمساجد والجامعات لقطع طريق العودة على أهلها وصولاً إلى الحدود (السعوديَّةِ) لإزعاجِ حُكامها والضغط عليهم من كلِّ الجهات العراقية واليَمنيَّة، فضلاً عن قواعد يتم استئجارها في البحر الأحمر، ومناطق الشيعة في الجزيرة كالقطيف والأحساء والدَّمَّام عبر عملائها هناك... فقد سبق وصرَّحَت أبواقُ إيران في العراق برغبتها في بلوغ المسجد الحرام والسيطرة عليه..!

ثالثاً: ولا ننسى - في هذا السياق - مشروعَ أمريكا الحقير في تقسيم العراق.. والذي يسعى أزلامُ إيران لزيادة رقعة الإقليم (الشيعيّ) عدداً ومساحة ليحظوا بأكبر قدرٍ من ميزانيَّةِ العراق المُهَلهَلِ بعد التقسيم، ما يُفَسِّرُ إصرارهم على تهجير السُّنةِ من مناطقِهِم، وقد وردت أخبار تفيد بمنح عشرةِ آلافٍ من أهل إيران شهادة الجنسيَّةِ العراقيَّةِ ليَحِلوا مَحلَّ مَن جرى إجلاؤهُم من ديارهِم..! هذِهِ إيرانُ وهذا غيضٌ من فَيضِ سُمُومِها التي تبُثها في كل مكانٍ خدمة لأعداء الأمة.

رابعاً: وليس هذا فحسبٌ، فلإيران أهداف أخرى تتعلق بنشر (التَّشيُّع) على أوسع نطاق ليس في العراق فقط وإنما في شتى الأرجاء، كما تجري الآن محاولاتٌ مماثلة في مِصرَ وتونسَ والجزائرِ وغيرها في شمال أفريقيا... وليس هذا خدمةٌ لدين الله تعالى، بل هي حُججٌ وأحابيلُ لتنفُذَ من خلالها إلى تقليب الأمور ونشر الفوضى في تلك المجتمعات التي ربما خلت من أقذارِهِم لحدِّ الآن.

وأخيراً، نقول: أنَّ تلك الجرائم الكبرى ما كانت لتحصل للمُسلمين في ديارهم لو كان لهم راعٍ يتَّقي اللهَ تعالى فيهم، ويرعى شؤونهم بأحكام شرعهِ، ويسهرُ على مصالِحِهم، ليتحقق فيه قول رسول الله e: «إنَّما الإمَامُ جُنَّة يُقاتلُ مِنْ ورَائِهِ ويُتقى بِه»، فعسى أن يمُنَّ الله على هذهِ الأمة فيُعجِّلَ في نصر الثلةِ المخلِصة - بإذنهِ سبحانه - فتُعلنَ دولة الخلافة الثانية على منهاج النبوة لتضرب بيدٍ من حديدٍ على كل متآمرٍ خسيس تنكرَ لدينِهِ وأمَّتِهِ وارتضى التبَعيَّةَ المُهِينة للأعداء، ولنا في قول ربِّنا عزَّ وجلَّ خيرُ أمل: ﴿إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ * يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

عبد الرحمن الواثق - العراق

المكتب الإعلامي لحزب التحرير في ولاية العراق

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست