يوم "الاستقلال"، والأبطال الوطنيون، والهجرة النبوية؟ (مترجم)
يوم "الاستقلال"، والأبطال الوطنيون، والهجرة النبوية؟ (مترجم)

بمشيئة الله سبحانه وتعالى، عشنا لنرى شهرا آخر من محرم وبداية عام آخر في التقويم الإسلامي. كيف يتم إحياء ذكرى هذا اليوم؟ وما هي الذكريات التي تثار نتيجة لذلك؟

0:00 0:00
Speed:
October 29, 2015

يوم "الاستقلال"، والأبطال الوطنيون، والهجرة النبوية؟ (مترجم)

الخبر:

بمشيئة الله سبحانه وتعالى، عشنا لنرى شهرا آخر من محرم وبداية عام آخر في التقويم الإسلامي. كيف يتم إحياء ذكرى هذا اليوم؟ وما هي الذكريات التي تثار نتيجة لذلك؟ وما هو مضمون الخطب عن هجرة النبي عليه الصلاة والسلام؟ وكيف يتم استخدام هذه المناسبة لتحفيز جيلنا من المسلمين؟ كيف يقارن هذا باحتفالات ذكرى يوم "الاستقلال" أو احتفالات إحياء ذكرى العديد من الأبطال الوطنيين والتي أصبحت لدى كل بلد مسلم الآن؟

التعليق:

عندما ينشأ الأطفال في أي بلد مسلم في الوقت الحاضر، فإنه يتم توعيتهم عن الأشخاص الذين عاشوا وماتوا قبل أن يولدوا. وقد يشار إلى هؤلاء الأشخاص بأنهم "الآباء" أو "المؤسسون" للأمة ويتم سرد قصص حياتهم و"أعمالهم البطولية" مرارا وتكرارا. وعندما يُحتفل بيوم "الاستقلال" لشعب ما، يذكّر أهل ذلك البلد بالقيم وأفعال ورؤية هؤلاء الآباء المؤسسين ويتم حضهم على اتباع هذه الأمثلة لكي ينجح ذلك الشعب. محمد علي جناح، والملك عبد العزيز بن سعود، والشيخ مجيب الرحمن وكثير غيرهم، هي أسماء لبعض ممن يسمّون مؤسسي العديد من الدول القومية التي قسمت المسلمين الآن.

في الأيام القليلة الماضية عندما دخلنا محرم 1437، كانت هناك بعض الخطب والمقالات حول موضوع هجرة النبي عليه الصلاة والسلام. بعضها كانت تحمل تذكيرا ممتازا، بينما البعض الآخر تحدثت عن الهجرة باعتبارها مجرد تذكر لحدث تاريخي مذهل بدلا من كونها حدث في حياة الرسول عليه الصلاة والسلام الذي يتوجب على المسلمين أن ينظروا إليها من أجل استخلاص الدروس للتأسي بها من أجل القيام بواجباتنا أمام الله سبحانه وتعالى. هذا الوقت من السنة هو وقت مهم للتحدث فيه إلى الأمة الإسلامية بوصفهم أمة واحدة وليس بوصفهم سعوديين وسودانيين وباكستانيين وماليزيين وبنغال أو غيرهم. وخلافا للاحتفالات القومية التي تعزز الانقسامات لدينا، فإن الهجرة كانت هجرة نبينا الحبيب عليه الصلاة والسلام لذلك فهي حدث يمثلنا جميعا بصفتنا مسلمين. لقد حان الوقت لتذكير بعضنا البعض بهذا الحدث التاريخي في حياة النبي عليه الصلاة والسلام، الذي غير مجرى التاريخ البشري وليكون مصدر إلهام لنا والتأسي بالعديد من العبر والواجبات التي تستمد من دراسة الهجرة.

إن الهجرة تذكرنا بتوكل النبي عليه الصلاة والسلام على الله سبحانه وتعالى عندما كانت قريش تطارده هو وصاحبه أبو بكر رضي الله عنه، فلجآ إلى الغار. وكان أبو بكر رضي الله عنه خائفا من أن تراهما قريش، فطمأن النبي عليه الصلاة والسلام صاحبه بأن الله سوف ينصرهما. وهذا تذكير لنا بأننا المسلمين يجب علينا أن لا نفقد الأمل، وأن لا نعتقد باستحالة النصر أو استحالة حل مشاكلنا الشخصية أو العائلية أو المشاكل التي تؤثر على أمتنا، فالتغيير بعون ​​الله ممكن دائما.

كما تذكرنا الهجرة بأنها لم تكن ببساطة هجرة رجل يبحث عن مكان آمن لنفسه، ولكنه كان يبحث عن دار لإقامة رسالته، لكي ترتكز فيه، وتحمل منه إلى البشرية جمعاء. وهذا ما كان يحاول عليه الصلاة والسلام فعله في مكة المكرمة منذ تلقيه الوحي. حيث كان يدعو أهلها وزعماءها، إلا أن معظم هؤلاء رفضوا دعوته باستثناء بضع مئات. وبعد أن عرض دعوته على العديد من القبائل الأخرى، قبِل أهل يثرب إيواء رسالته فهاجر إلى هناك. ومنذ اليوم الأول كان الرسول عليه الصلاة والسلام هو القائد المسؤول؛ حكم المدينة، وبنى المسجد، وقام بتنظيم السوق، وتعيين قضاة للفصل في المنازعات، وقيادة الجيش، وإرسال مبعوثين لدعوة العديد من القبائل والدول الأخرى لاعتناق الإسلام، وقام بمهام رئيس الدولة الإسلامية. لقد أقيم الإسلام فعليا ووُجدت له دار، حيث شكّل الإسلام فيه كل مجال من مجالات الحياة.

اليوم، لدى المسلمين دور، وفي الواقع، لدينا العديد من البلدان التي تغطي مساحات شاسعة من الأراضي. ولكن هل يمكننا القول بأن للإسلام داراً، ومجتمعاً يحكم الإسلام فيه كل جانب من جوانب الحياة؟ فيه القرآن والسنة وحدهما يشكلان المعاملات، والأخلاق، والعلاقات والحلول لمشاكل الحياة؟ كلا، لذلك فإن أحد الدروس المستفادة من الهجرة هو تذكير بعضنا البعض بالدعاء، والتوق، والعمل لإعادة بناء هذا المجتمع الذي أنشأه النبي عليه الصلاة والسلام بعد هجرته الشاقة والبالغ الأهمية إلى المدينة المنورة، وللتمتع مرة أخرى بالنعم والنصر الذي وعد الله سبحانه وتعالى المؤمنين ولنكون منارة حقيقية للبشرية.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

تاجي مصطفى

الممثل الإعلامي لحزب التحرير في بريطانيا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست