ظاهرة التحرش والاعتداء الجنسي
ظاهرة التحرش والاعتداء الجنسي

الخبر:   انشغلت وسائل الإعلام الهولندية بالأخبار المتعلقة بالاعتداء الجنسي على المتنافسات في برنامج مسابقة أغانٍ يسمى "صوت هولندا"، حيث تمّ اتهام المدربين والموظفين بارتكاب اعتداءات جنسية وحتى اغتصاب.

0:00 0:00
Speed:
January 24, 2022

ظاهرة التحرش والاعتداء الجنسي

ظاهرة التحرش والاعتداء الجنسي

(مترجم)

الخبر:

انشغلت وسائل الإعلام الهولندية بالأخبار المتعلقة بالاعتداء الجنسي على المتنافسات في برنامج مسابقة أغانٍ يسمى "صوت هولندا"، حيث تمّ اتهام المدربين والموظفين بارتكاب اعتداءات جنسية وحتى اغتصاب.

التعليق:

الحقيقة القاسية على الأرض هي أن هذه الظاهرة لا تقتصر فقط على برنامج "صوت هولندا". لقد أصبح التحرش والاعتداء الجنسي مشكلة منتشرة في كل مجال من مجالات الحياة حيث يجتمع الرجال والنساء. أيضاً، كانت حملة الهاشتاج #MeToo التي بدأت في عام 2017 مجرد تعبير عن هذه المشكلة الأعمق بكثير.

إنّ الإحصائيات لا تكذب، وفقاً لآخر مسح للاتحاد الأوروبي حول العنف ضد المرأة، شاركت 42000 امرأة من 28 دولة أوروبية في الاستطلاع، كانت النتائج مقلقة، فوفقاً لهذا الاستطلاع، تعرّضت واحدة من كل عشرين امرأة في أوروبا للاغتصاب. ووفقاً لدراسة هولندية أجرتها روتجرز، شارك فيها 8000 رجل وامرأة هولنديين، هذا واحد من كل تسعة في هولندا. وأشارت واحدة من كل ثلاث نساء إلى أنهن كن ضحية للعنف الجنسي وبالنسبة للرجال كانت هذه واحدة من بين 13. التحرش الجنسي الجسدي، في الفئة العمرية من 15 إلى 24 سنة، كان لا يقل عن 31٪ للنساء و11٪ للرجال.

والسبب في ذلك ليس الانجذاب الطبيعي بين الرجل والمرأة أو هيمنة الذكور، بطبيعتها، يتمّ إنشاء كلا الجنسين بطريقة تنجذب إلى بعضهما بعضا. هذا الاتجاه طبيعي وصحي. لا تكمن المشكلة في حقيقة وجود هذا الاتجاه، بل في طريقة تنظيمه، هذا هو المكان الذي تكمن فيه المشكلة والحل.

في الوقت الحاضر، يتمّ تنظيم هذه العلاقة بدرجة أكبر أو أقل وفقاً للفكر الليبرالي العلماني الذي يعتبر المبدأ السائد في العالم.

لذا، يجب البحث في مشاكل التحرش الجنسي واستغلال الرجال والنساء في إطار تنظيم الليبرالية العلمانية، أو عدم وجود تنظيم، لأن الأيديولوجية الليبرالية العلمانية تقوم على الحريات مع الحد الأدنى من القيود. تؤدي فكرة الحريات اللامحدودة تقريباً إلى غياب القواعد والتنظيمات بين الرجل والمرأة. نتيجة لذلك، كل شيء تقريباً ممكن ومسموح به. على سبيل المثال: يُسمح بالمغازلة حتى لو كنت متزوجاً، ويسمح بالمواعدة (حتى إن هناك إعلانات تلفزيونية تروج لـ"الحب الثاني")، ويسمح بالخلوة مع الجنس الآخر، ويسمح بالسير في الشارع شبه عراة، والاتصال الجنسي دون التزام مسموح به، ويسمح بالزنا، ويسمح بإنتاج ومشاهدة وتوزيع المواد الإباحية، واستغلال جمال الإناث من أجل الربح، ويسمح بوجود عدد لا يحصى من الشركاء، ويسمح بالجماع مقابل النوع، ويسمح بارتفاع الأفعال الجنسية في المهنة، ويسمح بتلقي الصور الإباحية وإرسالها، ويُسمح بكسب المال من خلال الدعارة، أو يُسمح بكسب المال عن طريق استغلال الجسد عبر الإنترنت وما إلى ذلك.

هذا يعني أنه لا يكاد يكون هناك أي حدود في تشكيل النشاط الجنسي الذي يتسبب في مجتمع مفرط في الجنس حيث تصبح النساء كائنات شهوة. وهذا واقع يمكن حتى للعلمانيين الليبراليين رفضه لما له من تأثير على بناتهم وزوجاتهم وأخواتهم وأمهاتهم.

فالمسألة هي أنها ليست مشكلة خاصة بالرجال، ولكنها مشكلة إنسانية يشترك فيها الرجل والمرأة. يحدث التحرش الجنسي في كلا الجنسين لأن المرأة يمكنها أيضاً أن تفرض نفسها جنسياً على الرجل من جانب واحد. حقيقة أن المرء ممثل تمثيلا زائدا لا تحدث فرقا. لا يتعلق الأمر بمن له الحصة الكبرى في هذا، ولكن القضية هي أن هذه المشكلة تنشأ من التفاعل بين الرجل والمرأة وتنظيمه له.

من ناحية أخرى، قدم الإسلام حلاً متوازناً لتنظيم العلاقة بين الرجل والمرأة في المجتمع. إنه لا يحاول القضاء على الغرائز والميول الطبيعية لدى الرجال والنساء، كما أنه لا يسمح لها بالحرية التامة. ينظم هذه الغرائز ويقنّنها بطريقة تلبي احتياجات البشر. كما أنه يعتبر الرجل والمرأة متساويين أمام الله، ولكنهما ليسا الشيء نفسه، فالرجل مختلف عن المرأة، ولديهم حقوق وواجبات ومسؤوليات مختلفة. لذلك، أتى بأوامر شاملة لكلا الجنسين. لا يعتبر الإسلام المرأة شيئاً للشهوة، لكنه يكرمها بصفتها إنساناً وأماً وزوجة وابنة يجب حمايتها واحترامها في جميع الأوقات. كما يفرض عقوبات شديدة على أي شكل من أشكال التحرش الجنسي أو الاعتداء الجنسي أو الاغتصاب. ينظم الإسلام العلاقة بين الرجل والمرأة في المجتمع بطريقة تحمي كلاً من المرأة والرجل من جميع أشكال العنف والتحرش الجنسي. لو كانوا يعلمون.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أوكاي بالا

الممثل الإعلامي لحزب التحرير في هولندا

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست