ظاهرة جيل الساندويش، حياة بائسة في ظل الرأسمالية
ظاهرة جيل الساندويش، حياة بائسة في ظل الرأسمالية

الخبر: ينتمي أكثر من 50 مليون إندونيسي والذين هم في سن الإنتاج إلى جيل الساندويش. إنهم يقعون تحت العبء الاقتصادي المتمثل في الاضطرار إلى إعالة أطفالهم وفي الوقت نفسه دعم احتياجات الجيل الذي فوقهم. تم تجسيد صورة هذا الجيل في استطلاع أجرته مؤسسة كومباس للبحث والتطوير في 9-11 آب/أغسطس 2022.

0:00 0:00
Speed:
September 23, 2022

ظاهرة جيل الساندويش، حياة بائسة في ظل الرأسمالية

ظاهرة جيل الساندويش، حياة بائسة في ظل الرأسمالية

(مترجم)

الخبر:

ينتمي أكثر من 50 مليون إندونيسي والذين هم في سن الإنتاج إلى جيل الساندويش. إنهم يقعون تحت العبء الاقتصادي المتمثل في الاضطرار إلى إعالة أطفالهم وفي الوقت نفسه دعم احتياجات الجيل الذي فوقهم. تم تجسيد صورة هذا الجيل في استطلاع أجرته مؤسسة كومباس للبحث والتطوير في 9-11 آب/أغسطس 2022. وأظهرت نتائجه أن 67% من المستجيبين لهذا الاستطلاع زعموا أنهم يتحملون عبء كونهم جيل الشطيرة. فإذا ما تم حساب هذه النسبة من عدد السكان الذين هم في سن الإنتاج في إندونيسيا، والذي يبلغ 206 مليون شخص، فمن المقدر أن هناك 56 مليون شخص يندرجون في فئة جيل الشطيرة. من حيث العمر، ينتشر جيل الساندويش الإندونيسي عبر جميع الأجيال، وتوجد النسبة الأكبر في الجيل من 24-39 عاماً، والتي تبلغ 43.6%، يليها الجيل من 40-55 عاماً بنسبة 32.6%. كما وتم إيجاد جيل الشطيرة أيضاً بنسبة 16.3% بين الجيل أقل من 24 عاماً الذين كانوا من العمال الشباب.

قال تانتان هرمان شاه، عالم الاجتماع من جامعة ولاية جاكرتا الإسلامية، إن الضغط المتراكم الذي يعاني منه جيل الشطيرة يمكن أن يتحول إلى إحباط مجتمعي. إن مصير جيل الشطيرة في إندونيسيا، وخاصة ذوي الدخل المنخفض، مقلق للغاية. تجبرهم الظروف على الكدح مثل الآلات دون تحقيق مستوى كافٍ من الرفاهية. دخلهم ينضب لتلبية الاحتياجات الأساسية لأسرهم وعائلاتهم الممتدة. وليس لديهم مجال للادخار أو الاستثمار. في الواقع، لا يملك البعض منهم الأموال للترفيه والهروب من إرهاق الحياة. في الوقت نفسه، يشاهدون معارض لأساليب الحياة الباذخة على وسائل التواصل التي تحفز على المتعة والمرح. بطبيعة الحال، فإن جيل الشطيرة قريب من ظاهرة الإحباط المجتمعي.

التعليق:

مصطلح جيل الساندويش هو شكل من أشكال التعبير الذي يعكس الإحباط المجتمعي بسبب مشكلة العبء الاقتصادي في إندونيسيا. تمثل هذه الظاهرة أيضاً أن الحياة الاقتصادية تزداد صعوبة بينما يزداد غزو القيم الليبرالية بشكل أعنف في مهاجمة نمط الحياة الإسلامي.

لقد أجبر تطبيق النظام الاقتصادي الرأسمالي في البلاد الإسلامية العديد من العائلات المسلمة على التركيز فقط على النضال من أجل تلبية الاحتياجات الأساسية لأسرهم، بسبب عدم المساواة والفقر الذي يستمر تحت نظام الكفر المسيطر علينا. لقد أثر الترويج لقيم المادية العلمانية أيضاً على طبيعة العلاقات المجتمعية والعلاقات الأسرية لتصبح كالمعاملات، على سبيل المثال، الأطفال عبارة عن استثمارات، والآباء عبارة عن ماكينات صرف آلي، أو يجب إرجاع تكاليف تعليم الأطفال من خلال الدخل من عمل الأطفال. لقد أدى أسلوب الحياة الرأسمالي إلى تسميم العديد من العائلات المسلمة بالإضافة إلى الظروف الاقتصادية الصعبة بشكل متزايد بسبب سياسات الدولة الليبرالية الجديدة مثل ارتفاع أسعار الوقود.

للأسف، يقول بعض الخبراء الماليين في إندونيسيا إن سبب جيل الشطيرة يعود إلى فشل الجيل السابق في التخطيط للأمن المالي المستدام للجيل القادم. يميل هذا النوع من التحليل إلى أنه تحليل جزئي كما ويتسبب في تأجيج المشاعر السلبية (إلقاء اللوم على الآخر) بين الأجيال. على العكس من ذلك، لا تتوقف هذه القضية عند مستوى الأسرة، بل هي أوسع وأشمل من ذلك، فهي تتعلق بمسؤولية الدولة لتزويد الناس.

إن أسباب ظاهرة جيل الساندويش في إندونيسيا تتمحور تحت شقين في الواقع، وهما: 1- أسلوب حياة استهلاكي بسبب ترتيب قيم العلمانية المادية. 2- ضعف دور الدولة في ضمان الاحتياجات الأساسية لرعاياها بسبب تنفيذ النظام الاقتصادي الرأسمالي. لقد حذر القرآن الكريم من ضيق الحياة لمن يضل ويبتعد عن أحكام الله: ﴿وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِيْ فَاِنَّ لَهُ مَعِيْشَةً ضَنْكاً وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيامَةِ أَعْمَى﴾.

من الواضح أن المصاعب التي يمر بها جيل اليوم هي نتيجة الاستعمار الاقتصادي الغربي الحديث، نتيجة إهمالنا وتخلينا عن الأحكام الإسلامية في جميع مناحي الحياة. فالدولة تتهاون في تلبية الحاجات الأساسية لرعاياها وتعطي القطاع الخاص سجادة حمراء لرعاية الخدمات العامة للشعب. ويقوم النظام الاقتصادي على الربا. والنظام الاجتماعي يقلد تماما الحضارة الغربية المليئة بمفهوم الحرية الجنسية.

بينما مبادئ الاقتصاد الإسلامية التي شرحها الشيخ تقي الدين النبهاني رحمه الله تؤكد على الدور الحيوي للدولة في تلبية الاحتياجات الأساسية لرعاياها جميعاً فردا فردا. ولا يتم تقييمها على أساس التراكم مثل النظرية الاقتصادية الرأسمالية. هذا المبدأ له تأثير مجتمعي هائل. فالحاجات الأساسية للرعايا هي المفتاح الأول لحضارة صحية، ومحدد للتنمية البشرية، والتي ستطلق العنان لنوعية أجيال الحضارة بطريقة مستدامة.

عندما يُحرم الرعايا من الاحتياجات الأساسية، سوف تبقى نظرتهم انطوائية وفردية، وغير قادرين على الاهتمام بالمشاكل الكبرى في بلدهم، ودائماً وضعهم في حالة الأزمات. من ناحية أخرى، عندما يتم تلبية الاحتياجات الأساسية، يمكن للبشر أن ينموا ويتطوروا ثم تتوسع الكثير من إمكاناتهم الفكرية واهتمامهم بالمشاكل الاستراتيجية الرئيسية. وسيتم تحويلهم إلى كائنات بشرية بارزة بمساهمة العمل الحضاري حتى تستمر حضارة المجتمع في النمو والازدهار.

سوف يتحولون إلى أفضل جيل في البشرية، حيث يعيشون حياة جيدة بسبب طاعتهم لربهم، والأجر والثواب لمن آمن وعمل الصالحات، أي الحياة التي تملؤها السعادة، بحيث تفيض الحياة بالهدوء والراحة، دون ضيق الصدر وعبء الصعاب.

﴿مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِّنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةًۚ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُمْ بِأَحْسَنِ مَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

د. فيكا قمارة

عضو المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست