ظاهرة تسوّل الأطفال تخفي وراءها ظاهرة تسوّل دولة لا سيادة لها على ثرواتها
ظاهرة تسوّل الأطفال تخفي وراءها ظاهرة تسوّل دولة لا سيادة لها على ثرواتها

الخبر:   على إثر منشور في صفحة وزارة المرأة والأسرة والطفولة وكبار السن تقدم فيه إعلان طلب عروض للمرّة الثانية لاختيار خبير لإنجاز دراسة "الأطفال في وضعية التسوّل"، حيث يعتزم مرصد الإعلام والتكوين والتوثيق والدراسات حول حماية حقوق الطفل الإعلان عن طلب عروض لاختيار خبير متخصّص في مجال علم الاجتماع أو الخدمة الاجتماعية أو علم النفس الاجتماعي، لإنجاز دراسة حول الأطفال في وضعية التسوّل.

0:00 0:00
Speed:
July 28, 2022

ظاهرة تسوّل الأطفال تخفي وراءها ظاهرة تسوّل دولة لا سيادة لها على ثرواتها

ظاهرة تسوّل الأطفال تخفي وراءها

ظاهرة تسوّل دولة لا سيادة لها على ثرواتها

الخبر:

على إثر منشور في صفحة وزارة المرأة والأسرة والطفولة وكبار السن تقدم فيه إعلان طلب عروض للمرّة الثانية لاختيار خبير لإنجاز دراسة "الأطفال في وضعية التسوّل"، حيث يعتزم مرصد الإعلام والتكوين والتوثيق والدراسات حول حماية حقوق الطفل الإعلان عن طلب عروض لاختيار خبير متخصّص في مجال علم الاجتماع أو الخدمة الاجتماعية أو علم النفس الاجتماعي، لإنجاز دراسة حول الأطفال في وضعية التسوّل.

التعليق:

مع انتشار ظاهرة التسوّل ليس في صفوف الأطفال فقط بل في صفوف الشباب والنساء والشيوخ، فالجدير بالذكر أن هذه الظاهرة ليست بجديدة ولكنها تنامت بنسق صاروخي في كل ربوع البلاد، وكعادة هذا النظام العلماني الفاسد فقد دأب على حجب حقيقة تجويعه وتفقيره للناس وتحكيم من لا يرقبون الله في أهل تونس ويسلمون ثرواتها وخيراتها للاستعمار ويمكنون شركاتهم البترولية الناهبة المنتشرة بالعشرات من تطاوين إلى القيروان، وآخرها ما قام به الرئيس سعيد من إبرام لـ4 عقود مع شركات نفط وغاز فرنسية في أسبوع واحد.

والجدير بالتنبيه والتوضيح أن ظاهرة تسوّل الأطفال تخفي وراءها ظاهرة تسوّل الدولة والقائمين عليها من الحكام على أعتاب صندوق النقد والبنك الدوليين والاتحاد الأوروبي والفرحة بهبات من أعداء الإسلام والمسلمين، والتي فاقمت ديون البلاد التي فاقت 110 مليار دولار بعد الثورة. فلا عجب من ظاهرة تسوّل الأطفال القُصّر إذا كانت دولة تملك آبار بترول وغاز وملح وأراضي فلاحية خصبة وتتسوّل. وبالعودة إلى عادات هذا النظام العلماني الذي خبره شعب تونس الأبي وكشف أساليبه الملتوية في حجب قبح وجهه وحدّة أنيابه، فعلى سبيل المثال فإن هذا العرض الذي يقدمه المرصد بطلب علماء اجتماع وعلماء نفسيين لدراسة ظاهرة التسوّل ما هو إلا:

- إلهاء للشعوب عن أس الداء والسبب الرئيسي للبلاء وهو النظام الرأسمالي العالمي المتوحش الذي كرس سياسة التفقير وتجويع الناس حتى أصبح التسوّل مهنة يمتهنها بعض الأطفال في جماعات وعصابات ليس في تونس فقط بل في كل العالم.

- تغييب أهل الاختصاص قصداً، وطلب الحل من غير أهله؛ أولا: ليغيب عن الناس السبب الرئيسي لهذه الظواهر وأسبابها الحقيقية وهي الفقر والحاجة، وثانيا: لتغيب عن الناس طرق المعالجات الصحيحة والجذرية فيكتفوا بحلول ترقيعية لا تزيد الأزمة إلا خبالا وتجر خلفها أزمات أكبر وأعقد.

- ضمان عدم توحد صفوف الشعب بهدف محاسبة الفاسدين والمجرمين من الحكام الذين أذاقوا أهل تونس الويلات والمهانة بعد أن سلموا ثرواتها وخيراتها للاستعمار.

- ضمان تركيز أهل تونس الطيبين للجري وراء مساعدة بعضهم بعضا، فلا يذكرون ولا يتذكرون من هول ما عاشوه أن تونس كانت تُلقب فيما سبق بأنها مطمورة روما وفيما لحق بتونس الخضراء وأن ما تمتلكه من ثروات باطنية وخيرات فلاحية كفيل بأن يغني كامل المغرب العربي ويزيد.

وهذا غيض من فيض خبث هذا النظام العلماني المجرم الذي لن يجد الرد على فساده إلا باقتلاعه وبتطبيق نظام الإسلام العادل في توزيع الثروات بين الناس؛ كبيرهم وصغيرهم، ذكرهم وأنثاهم، في ظل دولة الخلافة التي ترعى حاجات رعاياها وتوفر لهم الكفاية والرفاه.

ولمزيد التفاصيل العملية والجذرية لمعالجة ظاهرة التسوّل وأسبابها الرئيسية نحيلكم يا أهل تونس الطيبين إلى ما قدمه حزب التحرير؛ الرائد الذي لا يكذب أهله، إلى مؤتمر "الرؤية الاقتصادية لحزب التحرير" والذي قدم فيه الحلول الجذرية والمعالجات الشرعية الكفيلة بمواجهة الأزمة الاقتصادية التي تهدد قوت الناس وكيان الدولة، كما أكد الحزب من خلال مؤتمره السنوي أن دولة الخلافة التي يعمل لإيجادها هي دولة رعاية تُؤمِّن لمن يعيش في كنفها العيش الكريم وتُوفِّر الحاجات الأساسية للأفراد من مسكن ومأكل وملبس، والحاجات الأساسية للرعية من صحة وأمن وتعليم، وهي على النقيض تماما من دولة الجباية، المنبثقة من عقيدة فصل الدين عن الدولة التي جعلت معظم الناس في تونس يعانون الفقر والمرض والبطالة وسوء الرعاية.

وأنا أدعو من هذا المنبر أهل تونس وكل من لا زالت فيه ذرة خير من حكام تونس إلى مشاهدة المؤتمر ومعالجاته الإسلامية العادلة لعلّه يكون بادرة الخير لتغيير حال البلاد وحال خير أمة أخرجت للناس.

كتبته لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

سندس رقم

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست