زيارة العمل المرتقبة بين السيد بومبيو والعبد جاويش أوغلو
زيارة العمل المرتقبة بين السيد بومبيو والعبد جاويش أوغلو

الخبر:   بينما تستمر المشاكل في التفاقم بين الحليفين في الناتو والشريكين التجاريين على المستوى الاقتصادي وغيرها سيجري وزير الخارجية مولود جاويش أوغلو محادثات يوم الاثنين القادم مع وزير الخارجية الأمريكي مايك بومبيو (صوت أمريكا 2018/06/03)

0:00 0:00
Speed:
June 05, 2018

زيارة العمل المرتقبة بين السيد بومبيو والعبد جاويش أوغلو

زيارة العمل المرتقبة بين السيد بومبيو والعبد جاويش أوغلو

الخبر:

بينما تستمر المشاكل في التفاقم بين الحليفين في الناتو والشريكين التجاريين على المستوى الاقتصادي وغيرها سيجري وزير الخارجية مولود جاويش أوغلو محادثات يوم الاثنين القادم مع وزير الخارجية الأمريكي مايك بومبيو (صوت أمريكا 2018/06/03)

التعليق:

تحدثت وسائل الإعلام عن أن محادثات يوم الاثنين ستدور حول موضوع منبج، كما تم تسريب معلومات عن أن محادثات منبج التي ستجري بين تركيا وأمريكا تتكون من ثلاث مراحل. إلا أن واشنطن رفضت كل ما يجري في الكواليس حول الاتفاقية المذكورة. وفوق ذلك فإن أمريكا ليس اليوم فقط بل دائما كانت ترفض الاتفاقيات مع تركيا المتعلقة بسوريا. ومن تكون تركيا حتى تجري اتفاقية مع أمريكا؟ وهل هي من نفس الوزن والجودة والمعيار حتى تجري اتفاقية؟ إذ إن ثَمّة فرقاً بين أمريكا وتركيا من حيث الوزن والجودة، هذا الفرق يشبه الفرق بين السيد والعبد وبين الدماغ المدبر واليد المنفذة. صحيح أن الدماغ واليد هما عضوان في الجسم إلا أن الدماغ يدبر واليد تنفذ. أي بمعنى أن الدماغ هو آلية التفكير واليد هي عضو للتنفيذ لا غير.

ولما كان الحال كذلك فلماذا يا ترى أُثيرت قضية منبج قبل المحادثات؟ علما أن هذه القضية ليست وليدة اليوم، حيث تمت محاولة في نهاية 2016 لإجراء عملية عسكرية لمنبج. نعم، إن الظروف المحيطة بمنبج آنذاك كانت تسمح بالحديث عن عملية عسكرية، لأن تلك العملية كانت تشكل مبررا مقنعا لعملية درع الفرات وغصن الزيتون اللتين هما من صنع أمريكا وتدبيرها. أما إثارة هذه القضية اليوم فهي ربما للتمهيد من أجل تسليم المنطقة لبشار الأسد. وبموجب التصريح الذي أدلى به قبل أيام فإن الأسد ألمح إلى وجود إمكانية الجلوس على طاولة المفاوضات مع وحدات حماية الشعب، واستمرار الحرب معها في حالة تعذر عقد اتفاقية. بعد هذه التصريحات قامت هيئة تابعة للنظام بزيارة المنطقة لغرض إجراء اتصالات هناك، وما زالت هذه الهيئة موجودة في المنطقة. بغلبة الظن تريد أمريكا من الحديث عن قضية منبج في هذا الوقت بالذات إظهار العصا لوحدات حماية الشعب وحزب الاتحاد الديمقراطي وذلك من خلال تركيا.

من ناحية أخرى فإن إثارة قضية منبج عشية الانتخابات أمر لافت للنظر، إذ بإمكاننا أن نقول إنها عملية إنقاذ لأردوغان من قبل سيدته أمريكا، لأنه يحاصَر من قبل "تحالف الشعب" الذي أنشأه الإنجلير كما أنه يواجه خطر فقدان الأغلبية في البرلمان، هذا إذا أسعفهم الحظ! لأن أردوغان ربما يقع في الحفرة التي حفرها لغيره، يعني قانون تحالف الانتخابات. إذ قد لا تقوى خطة منبج المكونة من ثلاث مراحل على إنقاذ أردوغان، فهذه الخطة لا تعدل ثلات عبارات للتأثير على الرأي العام التركي.

وهنا لا بد من التوقف عند قضية منبج والإشارة إلى خيانة وقعت قبل الاستمرار في الحديث، ألا وهي استغلال قضية منبج للتغطية على نقل السفارة الأمريكية من تل أبيب إلى القدس ومحاولة تضليل وخداع الرأي العام وتنفيسه من خلال استدعاء السفير كلج إلى تركيا وقدومه إلى أنقرة في 05/16 واستغلال هذه القضية كذلك للتغطية على الخيانة. والسؤال الذي يطرح نفسه لماذا تم استدعاء السفير ولماذا عاد من حيث أتى؟ هل قضية القدس تم اختزالها إلى 16 يوما والتي يقولون عنها بأنها مسألة إيمان؟! أردوغان الذي كان يعتبر "حماية الأماكن المقدسة بالنسبة للمسلمين ليست مسألة إمكانية بل مسألة إيمان"، هل هذا كل شي؟!

على أية حال فقد قام جاويش أوغلو بالمشاركة في الاحتفال الذي أقيم في ألمانيا بمناسبة الذكرى الخامسة والعشرين لـ"إبادة سولينكن الجماعية"، بعد ذلك أجرى حوارا متلفزا مع إحدى القنوات الألمانية مما تسبب له بإحراج من قبل ألمانيا وإنجلترا، وربما هذا ما دفعه للذهاب إلى سيدته أمريكا لتقديم الشكوى ضد الدول الأوروبية. كما أنه من المتوقع أن يعبر عن صحة قرار انسحاب أمريكا من الاتفاق النووي الإيراني لغرض معاقبة الدول الأوروبية، وأن يستجدي دونالد ترامب لكي يستثني تركيا من قانونٍ أقر في آذار إذ يفرض نسبة 25% ضريبةً على الدول المنتجة للصلب، ويستثنيها كذلك من الحصار الذي قد يفرض على إيران. لأن تركيا تعتبر أكبر المصدرين للغاز الطبيعي والنفط الإيرانيين، وفي حال تطبيق الحصار على إيران فإنه سيؤدي إلى شل الاقتصاد التركي الذي هو أصلا مشلول. كما أنه من المتوقع أيضا أن يكون أردوغان قد أرسل جاويش أوغلو إلى أمريكا للقاء ترامب الأحمق لجس نبض الإدارة الأمريكية قبل الاستمرار بالأعمال التجارية مع إيران، يُذكر أن أردوغان فهم الدرس بخصوص "بنك الشعب" و"قضية حاكان اتيلَّا".

إنه من غير المتوقع بل لا يجب أن ينتظر المرء اتخاذ قرار إيجابي يعود بالنفع على الإسلام والمسلمين وبالذات على مسلمي سوريا والشعب التركي. فلا منقذ ولا معين للمسلمين إلا مبدؤهم.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إرجان تكين باش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست