زيارة الرئيس الأوزبيكي ميرزييايف إلى روسيا واتحاد الغاز
زيارة الرئيس الأوزبيكي ميرزييايف إلى روسيا واتحاد الغاز

الخبر:   ذكرت مواقع إخبارية أن رئيس أوزبيكستان شوكت ميرزياييف قام بزيارة رسمية إلى روسيا يومي 5 و7 تشرين الأول/أكتوبر بدعوة من الرئيس الروسي بوتين. وقد ذهب أولاً إلى مدينة قازان، ثم التقى مع بوتين في دائرة ضيقة (خاصة) في الكرملين في موسكو. وعقب الاجتماع أدلى ميرزياييف وبوتين ببيان مشترك. كما التقى ميرزياييف برئيس الوزراء الروسي ميشوستين. وفي 7 تشرين الأول/أكتوبر أعطى ميرزياييف مع بوتين ورئيس كازاخستان جومارت توكاييف إشارة البدء في عملية إمدادات الغاز الروسي.

0:00 0:00
Speed:
October 11, 2023

زيارة الرئيس الأوزبيكي ميرزييايف إلى روسيا واتحاد الغاز

زيارة الرئيس الأوزبيكي ميرزييايف إلى روسيا واتحاد الغاز

الخبر:

ذكرت مواقع إخبارية أن رئيس أوزبيكستان شوكت ميرزياييف قام بزيارة رسمية إلى روسيا يومي 5 و7 تشرين الأول/أكتوبر بدعوة من الرئيس الروسي بوتين. وقد ذهب أولاً إلى مدينة قازان، ثم التقى مع بوتين في دائرة ضيقة (خاصة) في الكرملين في موسكو. وعقب الاجتماع أدلى ميرزياييف وبوتين ببيان مشترك. كما التقى ميرزياييف برئيس الوزراء الروسي ميشوستين. وفي 7 تشرين الأول/أكتوبر أعطى ميرزياييف مع بوتين ورئيس كازاخستان جومارت توكاييف إشارة البدء في عملية إمدادات الغاز الروسي.

التعليق:

في 5 تشرين الثاني/نوفمبر 2022 قال رئيس كازاخستان قاسم جومارت توكاييف إن الرئيس الروسي فلاديمير بوتين اقترح إبرام "تحالف ثلاثي" مع أوزبيكستان بشأن إمدادات الغاز الروسية. وفي 16 حزيران/يونيو 2023 تم التوقيع على اتفاقية بشأن توريد 2.8 مليار متر مكعب من الغاز سنوياً إلى أوزبيكستان من قبل ممثلي شركة غازبروم للتصدير وأوزغازتريد ووزارة الطاقة الأوزبيكية في منتدى سانت بطرسبرغ الاقتصادي الدولي.

من المعروف أن روسيا خسرت السوق الأوروبية لغازها بعد أن بدأت حربا عدوانية ضد أوكرانيا مرتكبة خطأ استراتيجيا. ووفقاً لمؤسسة كارنيغي للسلام الدولي والسياسة فقد باعت روسيا قبل الحرب أكثر من 150 مليار متر مكعب من الغاز إلى الغرب. والآن البديل الوحيد للسوق الأوروبية بالنسبة لروسيا هو الصين. وقد أشار بوتين إلى أن "الغاز الروسي لم يتم توريده إلى آسيا الوسطى من قبل"، وقال إن الغاز سيتدفق الآن في الاتجاه المعاكس. وقال توكاييف إن "أكثر من 20 ألف كيلومتر من خطوط أنابيب الغاز الرئيسية بقابلية التمرير سنوية تصل إلى 255 مليار متر مكعب تمر عبر أراضي كازاخستان". وهذا يعني أن روسيا يمكن أن تستخدم أوزبيكستان كطريق لعبور الغاز إلى الصين بذريعة إمداد أوزبيكستان بالغاز. وقد تم تفسير إمدادات الغاز إلى أوزبيكستان بأنها لم تتمكن في الشتاء في العام الماضي من تزويد سكانها بالغاز. ولكن بدأ عند السكان ارتياب في أن نقص الغاز كان مخططاً له بشكل مصطنع. حتى اضطر وزير الطاقة جورابك ميرزا محمودوف في كانون الأول/ديسمبر 2022 إلى محاولة تبديد هذه الشكوك.

وفقاً لراديو ليبرتي: في عهد ميرزياييف سيطر رجال الأعمال الأوزبيكيون والروس المرتبطون بشركة غازبروم، على مئات من حقول الغاز والنفط. وأحد هؤلاء هو غينادي تيمشينك وهو الملياردير المقرب من بوتين. فقد قال رئيس قسم التحقيق في إذاعة ليبرتي كارل شريك وهو يجيب على سؤال: لماذا تحتاج روسيا إلى الغاز الأوزبيكي وهي لا تستطيع بيع غازها الذي تنتجه في روسيا بسبب العقوبات؟ قال: "الأمر لا يتعلق فقط ببيع الغاز ولكن على الأرجح أود أن أقول يتعلق بالسيطرة على الغاز وهذا سلاح مهم للغاية في ترسانة الكرملين من الناحية الجيوسياسية". لذلك كان من الطبيعي أن تظهر الشكوك في أن روسيا يمكن أن تستخدم هذا السلاح لإيجاد نقص مصطنع في الغاز.

علاوة على ذلك جاءت زيارة ميرزياييف لروسيا في أعقاب رحلته إلى الولايات المتحدة وألمانيا. ففي 19 و29 أيلول/سبتمبر شارك ميرزياييف في اجتماعات صيغة (5+1) "أمريكا وآسيا الوسطى" التي عقدت في نيويورك وبرلين. وتحاول أمريكا وأوروبا بسط نفوذهما السياسي والاقتصادي في منطقة آسيا الوسطى بما في ذلك أوزبيكستان. ويدل حضور الرئيس بايدن الأمريكي شخصيا لقمة (5+1) في نيويورك على أن أمريكا تولي المزيد من الاهتمام لهذه المنطقة. والصين أيضا تعمل على زيادة نفوذها فيها. ويشير المحللون إلى أن أهمية هذه المنطقة زادت على خلفية الحرب الأوكرانية. باختصار هناك "لعبة كبرى" جديدة تجري على هذه المنطقة.

علاوة على ذلك فقد أعلن بايدن استكمال الاتفاق التاريخي بشأن الممر الاقتصادي الجديد بين الهند والشرق الأوسط وأوروبا بعد قمة مجموعة العشرين في نيودلهي. وهو مشروع موجه ضد المشروع الصيني.

وعلى خلفية هذه الأحداث من الطبيعي أن تحاول روسيا إبقاء آسيا الوسطى وهي منطقة نفوذها التقليدية في براثنها وخاصةً أوزبيكستان التي تعتبر شريان حياتها. ولذلك أكد البيان المشترك أن "...محاولات قوى ثالثة التدخل في الشؤون الثنائية والإقليمية بهدف ممارسة الضغوط السياسية والاقتصادية أمر غير مقبول". كما أشار البيان إلى أن (مكافحة الإرهاب والتطرف) هي محور الاهتمام في موسكو وطشقند.

ووفقاً للخبير السياسي الأوزبيكي فرهاد كريموف فإن الولايات المتحدة تنتهج سياستها في آسيا الوسطى بحذر لأنها تتفهم النفوذ العسكري والاقتصادي والسياسي الكبير لروسيا.

وقد خلط بوتين في الاجتماع بين أوزبيكستان وداغستان حيث قال لميرزياييف: "شكراً لكم على مشاركتكم الشخصية في تطوير العلاقات الروسية الداغستانية". وأعرب بعض الخبراء عن رأي مفاده أن بوتين "فعل ذلك عمدا". وربما قصد بوتين أنكم مثل داغستان لا تزالون في براثننا! وبدوره قال ميرزياييف: "لقد حققنا الكثير في السنوات الأخيرة بفضل إرادتنا السياسية، أنا وبوتين. إن التعاون بين أوزبيكستان وروسيا يتطور في جميع الاتجاهات". كما أكد أنه لا توجد أية قضايا لم يتم حلها بين أوزبيكستان وروسيا. وهكذا يمكن أن نستنتج أن مقاليد السلطة لميرزياييف الذي ينتهج سياسة متعددة الاتجاهات لا تزال في أيدي روسيا.

لن يرى المسلمون الخير والنور أبداً ما دامت بلداننا تحكمها أنظمة الطواغيت مثل نظام ميرزياييف. ولذلك يجب على المسلمين أن يستجيبوا للدعوة لإعادة الإسلام إلى ميدان الحياة.

﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل – أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست