زيارة أردوغان إلى شمال أفريقيا
زيارة أردوغان إلى شمال أفريقيا

الخبر:   حول زيارته التي قام بها إلى كل من الجزائر وموريتانيا والسنغال ومالي صرح الرئيس التركي رجب طيب أردوغان قائلاً: "في الوقت الذي يتم فيه إنشاء نظام جديد للعالم فإننا نتطلع إلى المسير سوية مع أفريقيا" معربا عن تكلل زيارته بالنجاح الكبير. (2018/03/03 المساء)

0:00 0:00
Speed:
March 05, 2018

زيارة أردوغان إلى شمال أفريقيا

زيارة أردوغان إلى شمال أفريقيا

الخبر:

حول زيارته التي قام بها إلى كل من الجزائر وموريتانيا والسنغال ومالي صرح الرئيس التركي رجب طيب أردوغان قائلاً: "في الوقت الذي يتم فيه إنشاء نظام جديد للعالم فإننا نتطلع إلى المسير سوية مع أفريقيا" معربا عن تكلل زيارته بالنجاح الكبير. (2018/03/03 المساء)

التعليق:

إذا أضفنا زيارته الحالية فإن مجموع الزيارات التي قام بها أردوغان للبلدان الأفريقية خلال الثلاث سنوات ونصف السنة المنصرمة يصبح 28 زيارة. ففي شهر كانون الأول الماضي قام بزيارة كل من السودان وتشاد وتونس مصطحبا معه هيئة مكونة من 150 رجل أعمال موقعا خلال هذه الزيارة على ما يربو على عشرين اتفاقية اقتصادية. تُرى من أين أتى اهتمام أردوغان بأفريقيا؟

كما هو معلوم فإن القارة السوداء تقع تحت نفوذ أوروبي بشكل عام وإنجليزي وفرنسي بشكل خاص لما تتمتع به من ثروة غنية في باطن الأرض وظاهرها. إذ إن النفوذ الأمريكي هناك يكاد يكون معدوما أو محصورا ببضع دول، ولأن الوسط السياسي هناك يميل لصالح أوروبا لجأت أمريكا إلى استخدام أسلوب المساعدات الاقتصادية والعسكرية بالإضافة إلى ذريعة مكافحة (الإرهاب) بهدف التغلغل في القارة السوداء. وبعبارة أخرى فإن أفريقيا هي بين من يستخدم القوة الغليظة والقوة الناعمة.

أما عن موقع تركيا من ذلك فإنها مِن بين مَن يستخدم القوة الناعمة فقط، حيث تعتمد الأسلوب الاقتصادي والدبلوماسي وذلك لغرض إزالة النفوذ الأوروبي من القارة الأفريقية وإحلال الهيمنة الأمريكية محلها. أما الإدارة الأمريكية فإنها تستخدم أسلوب العملاء في المناطق التي تشهد صراعا استعماريا أورو-أمريكي مثل الجزائر ومالي وتونس وذلك لانخفاض كلفة هذا الأسلوب ونتائجه العالية، بمعنى أنها تسعى لتحقيق طموحاتها من خلال استغلال قوة تركيا الناعمة.

إن زيارة أردوغان إلى أفريقيا والبلقان تعد بمثابة خلاصة للفقرة التي تعتمد على نشر الهيمنة الأمريكية عن طريق العملاء والتي وردت في مبدأ (استراتيجية) ترامب الذي أُعلن مؤخرا تحت أربع فقرات. وما رفعُ عدد السفارات إلى 42 سفارة وأعمال التجديد لرئاسة الوكالة التركية للتعاون والتنسيق (TİKA) وتقديم مساعدة مالية إلى ساحل القوة المشتركة (G5) وقدرها 5 مليون دولار، وإعطاء الطلبة الأفارقة المقيمين في تركيا مِنحاً دراسية، وزيادة عدد الرحلات للخطوط الجوية التركية، وقيام مؤسسة المعارف بعملية غسل الأدمغة في البلدان الأفريقية تحت مسمى التعليم، وغيرها من الأمثلة هي بمثابة فقرات في الدستور أو مواد ملحقة بها. إن هذه المساعدات (الإنسانية) والاتفاقيات الاقتصادية أو العلاقات الدبلوماسية ظاهرها فيه الرحمة وباطنها من قِبَلِهِ العذاب، والهدف منها هو خدمة المصالح الأمريكية على حساب النفوذ الأوروبي.

عندما يصرح أردوغان قائلا: "إن القارة الأفريقية ضرورة مهمة لا تحتمل الإهمال، ونحن لا نتعامل معها بطريقة استعمارية بل بطريقة ودية" (2018/03/03، آخر خبر)، فإنه في حقيقة الأمر يريد القول بأن أمريكا رُفضت من أهل المنطقة لأنها تعاملت بالطريقة الاستعمارية، أما نحن فقد تم استقبالنا بالورود والحفاوة لأننا استخدمنا الطريقة الودية. وهذا معناه بالمفهوم السياسي أن أمريكا تستعمل العصا ونحن نستعمل الجزرة، في حين إن الهدف نفسه وهو خدمة المصالح الأمريكية.

أما عن سبب استخدام أمريكا لأردوغان وتركيا في القارة السوداء فإن السبب الأول هو حبه للسيادة، فَزجُّه بمئات الآلاف في السجون وإقصاؤه لمناهضيه واستصداره عشرات المراسيم بصبغة قانونية (KHK) وتخلصه من معارضيه داخل الحزب والتحالف بين حزب العدالة والتنمية وحزب الحركة القومية وغيرها بسبب حبه للسيادة وتشبثه بها. أما السبب الثاني فهو تقمصه دور العداوة تجاه أعداء المسلمين؛ كيان يهود وأمريكا، ففي زيارته الأخيرة وكعادته تقمص هذه العداوة للغرب حيث بطنها بمشاعر إسلامية مما أوجد آذانا صاغية لدى الشعوب التي تتمتع بمشاعر دينية ملتهبة. والخلاصة فإنه يتقن فن خداع الشعوب وفن استعماله، أي أنه خبير في لغة الخطاب. ولهذا السبب فإنه يواجَه من قبل الشعوب الإسلامية بالتعاطف.

إن أمريكا تستفيد من القوة الغليظة لتركيا في المشاكل الإقليمية وتحقيق مصالحها في أفريقيا على صعيدين، أما الصعيد الأول فلما تتمتع به تركيا من قوة عسكرية، وانطلاقا من هذا قامت بإنشاء قاعدة عسكرية لمواجهة قطر والإمارات الخاضعة للنفوذ الإنجليزي في جزيرة سواكن. إن أمريكا لا تستطيع استخدام مصر والسعودية لهذا الغرض، لأن حكام آل سعود منشغلون بالأزمة اليمنية وتصفية النفوذ الإنجليزي في الداخل. أما عن مصر فإنها تصارع الأزمة الاقتصادية كما أنها ليست مستقرة داخليا. وأما الصعيد الثاني فهو بسبب تنامي القوة الاقتصادية لتركيا، إذ إن أمريكا تطمح من خلال ذلك إلى الحصول على نفوذ سياسي في البلدان الأفريقية. بعبارة أخرى فإن الغرض الأساسي لزيارة أردوغان للبلدان الأفريقية الخاضعة للنفوذ الإنجليزي ومعه طاقم كبير من رجال الأعمال هو تحويل المكاسب الاقتصادية في مراحل قادمة إلى نفوذ سياسي.

وخلاصة القول فإن كان لأمريكا وتركيا كيد، فإن الله له كيد أيضا، ﴿وَاللَّهُ غَالِبٌ عَلَى أَمْرِهِ﴾.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أرجان تكينباش

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست