زيارة بلينكن الحادية عشرة للشرق الأوسط والغاية منها
زيارة بلينكن الحادية عشرة للشرق الأوسط والغاية منها

الخبر: ينهي وزير الخارجية الأمريكي، أنتوني بلينكن، اليوم الجمعة، جولة هي الحادية عشرة وربما الأخيرة، في منطقة الشرق الأوسط، كان هدفها مشابها لما قبلها أي إحياء المفاوضات المتوقفة بين (إسرائيل) وحركة حماس، عبر الوسيطين القطري والمصري، بهدف التوصل إلى صفقة لوقف إطلاق النار تشمل الإفراج عن المختطفين (الإسرائيليين) لدى حركة حماس. ..

0:00 0:00
Speed:
October 29, 2024

زيارة بلينكن الحادية عشرة للشرق الأوسط والغاية منها

زيارة بلينكن الحادية عشرة للشرق الأوسط والغاية منها

الخبر:

ينهي وزير الخارجية الأمريكي، أنتوني بلينكن، اليوم الجمعة، جولة هي الحادية عشرة وربما الأخيرة، في منطقة الشرق الأوسط، كان هدفها مشابها لما قبلها أي إحياء المفاوضات المتوقفة بين (إسرائيل) وحركة حماس، عبر الوسيطين القطري والمصري، بهدف التوصل إلى صفقة لوقف إطلاق النار تشمل الإفراج عن المختطفين (الإسرائيليين) لدى حركة حماس.

وكان الوزير الأمريكي قد حل الأربعاء بـ(إسرائيل) حيث جدد التأكيد بعيد محادثات مع رئيس الوزراء بنيامين نتنياهو على موقف واشنطن الرافض لإعادة (إسرائيل) احتلال قطاع غزة أو بناء وحدات استيطانية فيه. وقال: "هذا هو موقف الولايات المتحدة.. وهذا ما سمعته من رئيس الوزراء.. مهما كان قول الجنرالات المتقاعدين أو بعض أعضاء الحكومة، فنحن نرفض ذلك... يجب أن ينصب التركيز، في الوقت الحالي، على إعادة الرهائن وإنهاء الحرب، ووضع خطة واضحة لما سيأتي بعد ذلك".

وبعد (إسرائيل) انتقل بلينكن إلى السعودية ثم قطر، وفي مؤتمر صحفي في الدوحة أعلن رئيس الوزراء وزير الخارجية القطري الشيخ محمد بن عبد الرحمن آل ثاني عقب اللقاء، أن فريق مفاوضات أمريكيا وآخر (إسرائيليا) سيحلان بالدوحة نهاية الأسبوع لبحث سبل تحريك مفاوضات وقف إطلاق النار في غزة. (بي بي سي عربي، 2024/10/25م)

التعليق:

كانت زيارات بلينكن العشر الماضية للشرق الأوسط تهدف تقريبا إلى تحقيق غاية واحدة فقط وهي الضغط على الدول العربية، وإبقائها في حالة حراسة دائمة لحدودها مع كيان يهود، وتحييدها عن الصراع تماماً، بل وإلهاء شعوبها في مسائل طلب الرزق، وإشغالها بالمهرجانات والمسكنات الترفيهية، ومنعها من القيام بأي عمل انتقامي ضد كيان يهود، وإلزامها باستمرار العمل بكامل الإمكانيات وبكافة الوسائل التي تؤدي إلى لجم شعوبها، ومنع نشطائها الذين يتحرقون شوقاً للقيام بأي شيء لخدمة القضية الفلسطينية، والاكتفاء فقط بالدعاء لهم، وحرمانهم من مجرد التعبير الشعبي السلمي ضد عدوان كيان يهود الوحشي، وإبطال قيامهم بما يملكون من إمكانيات بالدفاع عن أنفسهم، ومن ثمّ تطمين كيان يهود بضمان عدم تحرّك دول الجوار نهائياً ضده عسكرياً أو سياسياً أو اقتصادياً ولا حتى إعلامياً، ثمّ السماح له بالقيام بقصف الأهداف العسكرية والمدنية في قطاع غزة من دون توقف، ومن دون رحمة، لاستعادة الهيبة المفقودة، ومحو صورة الانكسار الذي تحقّق في السابع من تشرين الأول/أكتوبر 2023م من عقول الناس، وتلميع صورة الكيان التي تلطّخت في ذلك التاريخ.

أمّا زيارة بلينكن الحادية عشرة هذه فلربما تأتي في سياق آخر، حيث إن بنك الأهداف العسكرية لجيش يهود يوشك على النفاد، فلم يعد هناك شيء يحتاج إلى القصف، أو يستحق القصف، فالتدمير في قطاع غزة قد اكتمل، وأصبح المسار السياسي هو الأهم بالنسبة لأمريكا، وبمعنى آخر فقد أصبح المطلوب أمريكياً بالدرجة الأولى هو استثمار النتائج العسكرية الحاصلة على الأرض وتحويلها إلى أعمال سياسية.

وأولى هذا الاستثمار هو إغلاق سيناريو تبادل الردود بين إيران وبين كيان يهود من خلال جعل رد الكيان محدوداً ولا يوجب ردا إيرانيا عليه، فالرئيس الأمريكي بايدن كان قد مارس في الشهر الأخير ضغوطاً شديدة على نتنياهو لحمله على تلطيف رد جيشه العسكري على إيران إلى الحد الذي يمنع فيه اندلاع حرب إقليمية شاملة، وجاء بلينكن وأكّد هذا الكلام فقال: "إنّ من المهم أن ترد (إسرائيل) على هجوم إيران عليها بطرق لا تؤدي إلى تصعيد أكبر".

وبالفعل جاء رد كيان يهود الأخير ضد إيران هزيلاً ضعيفاً لا يتناسب مع تهديدات جيشه المملوءة بالغرور والصلف والعنجهية.

وركّز بلينكن في تصريحاته أيضاً على رفض احتلال غزة، وتحديد خطة اليوم التالي بعد وقف المعركة، وضرورة وجود تصور سياسي واضح للحل، في الوقت الذي منح فيه كيان يهود رخصة مستمرة للقتل، وارتكاب المزيد من المجازر، ومُحاولة طرد جزء من السكان من مناطق شمال غزة إلى مناطق الوسط والجنوب، خاصة في فترة الانتخابات الأمريكية بشكل خاص.

وذكّر بلينكن بمواقف واشنطن التقليدية التي تكررها في كل مناسبة من مثل إنّ "(إسرائيل) تحرز تقدما بخصوص إدخال المساعدات الإنسانية إلى غزة، لكن هناك حاجة لفعل المزيد ويتعين أن يكون ذلك مستداماً"، وأوضح أنّ "واشنطن تعمل على التوصل إلى تفاهمات واضحة بخصوص الحكم والأمن في غزة"، وأكّد على أنّه "يتعين وجود خطط ملموسة للمضي قدما في غزة بعد الحرب".

ولا ننسى أنّ أبرز صفة للجولة الحادية عشرة لبلينكن كانت الصفة الوداعية للمنطقة، فهذه الجولات المكّوكية التي كانت بمعدل جولة واحدة كل شهر تقريباً تستحق بالنسبة له ولإدارته أن تكون آخر جولة منها وداعيّة.

والمهم في جولات وزير الخارجية الأمريكي والمبعوثين الأمريكيين الآخرين بشكلٍ خاص أنْ تملأ أمريكا بها الفراغ في المنطقة، وأنْ تُشعر أهل المنطقة والسياسيين في العالم بأنْ لا غنى لها عن أمريكا، وسواء أتوصلت للحل أم لم تتوصل فلا إشكال عندها، ولا مشكلة، لأنّ مجرد وجود دبلوماسيين يتحرّكون، ووجود مشاريع أمريكية مطروحة على بساط البحث سواء أكانت للتطبيق أم لإدارة النزاع فإنّ الهدف الأمريكي يكون قد تحقّق.

هذا النشاط السياسي والدبلوماسي الأمريكي المحموم في الشرق الأوسط يدل على أنّ أمريكا هي الدولة الوحيدة المؤثّرة في المنطقة وأنّ سائر الدول لا تملك في النهاية إلا ما تفرضه هي عليها.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أحمد الخطواني

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست