زيارة بيني غانتس إلى أمريكا
زيارة بيني غانتس إلى أمريكا

الخبر:   زيارة عضو حكومة الحرب في كيان يهود بيني غانتس الولايات المتّحدة الأمريكية.

0:00 0:00
Speed:
March 09, 2024

زيارة بيني غانتس إلى أمريكا

زيارة بيني غانتس إلى أمريكا

الخبر:

زيارة عضو حكومة الحرب في كيان يهود بيني غانتس الولايات المتّحدة الأمريكية.

التعليق:

لقد أتت هذه الزيارة في وقت برز فيه الخلاف واضحاً بين إدارة الرئيس الأمريكي جو بايدن ورئيس حكومة الكيان الغاصب نتنياهو، وكذلك وسط خلاف ظهر على السطح بين مكوّنات حكومة الحرب هذه، حيث تفاقم الخلاف على كيفية التعامل مع الحرب في غزّة، وعلى المرحلة التي تليها، بين ما يسمّى بقوى اليسار في هذه الحكومة - وفي مقدّمتهم غانتس - ونتنياهو الذي يمثّل ما يسمّى بقوى اليمين المتطرّف.

من المعروف أنّ الخلاف بين إدارة بايدن ونتنياهو لم يبدأ مع تفاقم حرب غزّة التي ما زالت رحاها دائرة حتّى اللحظة، وإنّما احتدم هذا النزاع مع نجاح نتنياهو في الانتخابات العامّة وتولّيه السلطة ومحاولته تعديل البنية الدستورية والنظام القضائي خدمة لأغراضه الشخصية، فضلاً عن سعيه لتعزيز مشروعه السياسي ورؤيته للتعامل مع أهل فلسطين والقضية الفلسطينية. بل إنّ النزاع بين الإدارات الأمريكية المتعاقبة ولا سيّما الديمقراطية وتيّار اليمين المستحكم غالباً بالسلطة في الكيان يرجع سنين طويلة إلى الوراء.

فبينما تصرّ الإدارات الديمقراطية المتعاقبة - وآخرها إدارة بايدن - على مشروع الدولتين لتسوية النزاع بين الكيان وأهل فلسطين يصرّ اليمين في الكيان - وعلى رأسه نتنياهو - على رفض هذا المشروع ويجتهد في قطع الطريق على هذا المشروع من خلال فرض أمر واقع في مناطق الضفّة الغربية يحول دون إمكانية إنشاء دولة فلسطينية فيها. ومن أهمّ وسائله في هذا السبيل التوسّع في إنشاء المستوطنات التي تقطّع أوصال الضفّة وتهجير أهلها وهدم بيوتهم وتجريف أراضيهم الزراعية. ثمّ حين نُفّذت عملية طوفان الأقصى منذ حوالي خمسة أشهر وجد فيها نتنياهو الفرصة المناسبة لتدمير قطاع غزّة وتهجير أهله منه ومحوه من الخريطة بالكامل لوأد مشروع الدولتين، بل وجد اليمينيون في هذه الأحداث فرصة لتأجيج الأوضاع في الضفّة الغربية لوضعها على السكّة نفسها التي شرعوا بوضع قطاع غزّة عليها. بينما رأت إدارة بايدن في هذه الأحداث الفرصة المناسبة لدفع مشروع الدولتين قدماً إلى الأمام، وبدا هذا واضحاً في تصريحات بايدن وإدارته منذ بداية أحداث غزّة بأنّ مشروع الدولتين هو الحلّ الوحيد لإنهاء الصراع بين الكيان وأهل فلسطين. وأيضاً وجدت الإدارة الأمريكية هذه الأحداث فرصة للتخلّص من نتنياهو الذي لطالما وقف عقبة في طريق مشروعها لفلسطين. ووجدت كذلك أنّه حان وقت تصفية كتائب القسام وسرايا القدس التي تمثّل آخر ما تبقى فعلياً من الكفاح الفلسطيني المسلّح، من أجل المضيّ في مشروع الدولتين وفق الرؤية الأمريكية والذي يتضمّن إنشاء دويلة فلسطينية منزوعة السلاح.

وقد أتت زيارة بيني غانتس للولايات المتّحدة دون قرار من حكومة الحرب التي هو أحد أعضائها ومتحدّياً رفض نتنياهو لها. وكان واضحاً اعتناء الإدارة الأمريكية بهذه الزيارة عناية كبيرة، إذ تولّت نائبة الرئيس كامالا هاريس استقبال غانتس. وكان واضحاً أيضاً أنّها تنطوي على إهانة وإرغام لنتنياهو المستعصي والمتمرّد على الإرادة الأمريكية. كما أنّها تحمل تهديداً من الإدارة بما تملكه من أوراق داخل كيان يهود، بل داخل حكومة نتنياهو الحربية نفسها، إن لم ينصَع لرغبتها في إنهاء الحرب على غزّة قبل بداية شهر رمضان المبارك أو في الأيّام الأولى منه على أكثر تعديل. كما أنّ المراقبين رأوا في هذه الزيارة التي رتّبتها الإدارة الأمريكية إشارة إلى أنّ غانتس سيكون مرشّحها الذي تدعمه في الانتخابات المقبلة في كيان الاحتلال والتي تسعى لأن تكون مبكرة للتخلّص من نتنياهو وسياسته وجناحه.

إنّ إصرار الإدارة الأمريكية على المضيّ قدماً في مشروع الدولتين ينبغي أن يُنظر إليه بوصفه جزءاً من مشروعها لمنطقة المشرق العربي عموماً. ذلك المشروع الذي بدأت ترتسم ملامحه منذ غزو العراق قبل أكثر من عشرين عاماً حيث وُضع العراق على طريق التقسيم على أسس مذهبية وقومية، ثمّ ازدادت ملامحه وضوحاً مع القضاء على التركيبة الديمغرافية لسوريا وتقويض حواضرها وتهجير الغالبية المسلمة منها وتحويلها إلى إحدى الأقلّيات، لترتسم فيها أيضاً خريطة تُقسّمها إلى رقع متمايزة دينياً ومذهبياً وقومياً. وهكذا يتحوّل المشرق العربي (بلاد الشام والعراق) إلى فسيفساء من الكيانات المؤتلفة داخل دول متفسّخة يسهل على الولايات المتّحدة الإمساك بخيوطها بالتعاون مع وكلائها في المنطقة أنظمة إيران وتركيا والسعودية ومصر وكيان يهود، ويكون هذا الكيان مع الدولة الفلسطينية الشكلية المزمع إنشاؤها وفق مشروع الدولتين جزءاً من هذه الخريطة الشيطانية.

المؤلم في هذا المشهد أنّ الأمّة التي يتولّى زمام أمورها نواطير الغرب وحلفاء يهود لا كلمة لها مطلقاً في كلّ ما يجري، وأنّها في موقع المفعول بها لا موقع الفاعل ولا المؤثّر. وما ذلك إلّا لأنّها لا كيان لها يجمع شملها، ولا جهاز عصبيّ ينفّذ إرادتها، ولا رأس لها يجسّد قرارها ويقودها إلى تحقيق آمالها وغاياتها، فهي لا تقوى حتّى على القيام بأدنى قدر من المقاومة الفاعلة والمجدية لأعدائها، فالإمام الذي هو جُنّة يقاتَل مِن ورائه ويُتّقَى به - كما وصفه النبيّ ﷺ - لا وجود له.

اللهمّ إنَّا نسألك أن تجعلنا أهلاً لإقامة دولة الخلافة وأن تأخذ بأيدينا إلى إقامتها وتنصيب إمامها، لنقاتِل مِن ورائِه ونَتّقي به الأعداء.

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

أحمد القصص

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست