زيارة رئيسة سنغافورة لأوزبيكستان
زيارة رئيسة سنغافورة لأوزبيكستان

الخبر:   في 24 أيار/مايو 2023 قامت رئيسة سنغافورة، حليمة يعقوب برفقة زوجها محمد عبد الله الحبشي بزيارة دولة إلى أوزبيكستان. وقد سافروا من أستانة عاصمة كازاخستان في رحلة منتظمة للخطوط الجوية الأوزبيكية. وفي مطار طشقند استقبل الضيفين رفيعي المستوى نائبُ رئيس وزراء أوزبيكستان زليخة محكاموفا ووزير الخارجية بختيور سعيدوف والقائم بأعمال عمدة طشقند شوكت أمورزاقوف. (راديو ليبرتي). 

0:00 0:00
Speed:
June 05, 2023

زيارة رئيسة سنغافورة لأوزبيكستان

زيارة رئيسة سنغافورة لأوزبيكستان

الخبر:

في 24 أيار/مايو 2023 قامت رئيسة سنغافورة، حليمة يعقوب برفقة زوجها محمد عبد الله الحبشي بزيارة دولة إلى أوزبيكستان. وقد سافروا من أستانة عاصمة كازاخستان في رحلة منتظمة للخطوط الجوية الأوزبيكية. وفي مطار طشقند استقبل الضيفين رفيعي المستوى نائبُ رئيس وزراء أوزبيكستان زليخة محكاموفا ووزير الخارجية بختيور سعيدوف والقائم بأعمال عمدة طشقند شوكت أمورزاقوف. (راديو ليبرتي).

التعليق:

هذه الزيارة التي قامت بها رئيسة سنغافورة حليمة يعقوب هي زيارة جوابية، لأنه في كانون الثاني/يناير قام رئيس أوزبيكستان شوكت ميرزياييف بزيارة دولة إلى سنغافورة.

اقتصاد سنغافورة هو اقتصاد سوق متطور مع واحد من أعلى الناتج المحلي الإجمالي للفرد في العالم. وتصنف سنغافورة ضمن نمور شرق آسيا للقفز السريع في الاقتصاد إلى مستوى الدول المتقدمة. ومن المعروف أن سنغافورة عضو في رابطة دول جنوب شرق آسيا (آسيان). وكانت بريطانيا وراء إنشاء هذه المجموعة. ثم قامت أمريكا بضم دول تابعة لها كالفلبين وكمبوديا وفيتنام إليها فسيطرت عليها.

كانت سنغافورة مستعمرة بريطانية، وهي أيضاً عضو في الكومنولث البريطاني. وهذا هو السبب في استمرار النفوذ البريطاني فيها حتى يومنا هذا. وباعتبارها واحدة من القوى الاستعمارية الأوروبية الرائدة فإن بريطانيا لها أيضاً مصالح في آسيا الوسطى بما في ذلك أوزبيكستان. فمثلا قال عضو البرلمان البريطاني السابق المحافظ السير ريتشارد أوتاوي: "يجب أن تصبح آسيا الوسطى جزءاً لا يتجزأ من استراتيجية المملكة المتحدة لبريطانيا العظمى". كانت مجموعة آسيان قد أنشئت منذ البداية من أجل الحد من نفوذ الصين في منطقة جنوب شرق آسيا. لذلك يمكننا القول إن الدول الغربية بقيادة أمريكا تستخدم سنغافورة لتقليل نفوذ الصين في آسيا الوسطى وخاصة في أوزبيكستان. وهكذا يمكن تقييم زيارة رئيسة سنغافورة لكازاخستان ثم أوزبيكستان. فأمريكا تحاول توسيع دائرة نفوذها في آسيا الوسطى من خلال آلية (C 5 + 1) ومن خلال دول مثل تركيا وسنغافورة. فقد قالت ليزا كيرتس وهي نائب مساعد الرئيس الأمريكي والمدير الأول لشؤون جنوب ووسط آسيا: "كان التركيز على مشاركة الولايات المتحدة في صيغة C5 + 1 والتي تهدف إلى تشجيع التعاون الإقليمي بين دول آسيا الوسطى الخمس. يجب على الغرب والولايات المتحدة إنشاء ما يشبه صندوق الاستجابة السريعة لمنع المنطقة من الوقوع في فخ الديون الصينية ولمنع الصين من استغلال الاقتصادات الضعيفة لدول المنطقة". فسنغافورة يمكن أن تلعب دورا في مثل هذا الصندوق. وقال حكمت إرين رئيس مجلس إدارة الرابطة الأوروبية الآسيوية للعلاقات الاقتصادية في تركيا في مقابلة مع وكالة دنيا للأنباء: "تعد سنغافورة واحدة من أكبر المستثمرين في بلدكم حيث تبلغ قيمة مشروعاتها 3.8 مليار دولار في مجالات الطاقة والنقل والصناعات الكيماوية والمنسوجات وإنشاء المدن والتعليم وغيرها من المجالات المهمة لأوزبيكستان". تعمل أمريكا بشكل مباشر وغير مباشر على تقليص النفوذ الصيني في آسيا الوسطى وخاصة في أوزبيكستان وتعمل في الوقت نفسه على تقليص دائرة نفوذ روسيا أيضا التي أضعفتها الحرب في أوكرانيا. فتلك ليزا كيرتس نفسها تعتقد أنه من غير المرجح أن يكون من الممكن إبطال التأثير الثقافي والسياسي لروسيا في المنطقة تماماً ولكن دعم بلدان آسيا الوسطى يجب أن يظل هدف أمريكا.

إذن بينما تحاول أمريكا والغرب الحد من نفوذ روسيا في آسيا الوسطى فمن الواقعي أيضاً أن كليهما يتخذان التدابير لمنع الصين من الاستفادة من هذا الوضع الجيوسياسي المواتي.

باختصار ينبغي النظر إلى زيارة رئيسة سنغافورة إلى أوزبيكستان من وجهة النظر هذه.

مع الأسف لقد أصبحت بلادنا فريسة تتنافس عليها الدول الكافرة المستعمرة مثل الحيوانات المفترسة. ولن تتحرر بلادنا من براثن هؤلاء الجشعين المستعمرين الكافرين إلا بإقامة الخلافة الراشدة على منهاج النبوة؛ لذلك على مسلمي أوزبيكستان أن يؤيدوا حزب التحرير الذي يعمل لإقامتها. لأنه عند إقامة الخلافة لن يخرج المسلمون فقط بل البشرية جمعاء من ظلمات الرأسمالية والعلمانية التي حطت الإنسان إلى مستوى الحيوانات إلى نور الإسلام.

﴿هَذَا مَا وَعَدَنَا اللهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ

كتبه لإذاعة المكتب الإعلامي المركزي لحزب التحرير

إسلام أبو خليل – أوزبيكستان

More from خبریں اور تبصرہ

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

ترکی اور عرب حکومتوں نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا

(مترجم)

خبر:

نیویارک میں 29 اور 30 جولائی کو فرانس اور سعودی عرب کی قیادت میں اقوام متحدہ کی بین الاقوامی اعلیٰ سطحی کانفرنس "فلسطینی مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنا اور دو ریاستی حل کا نفاذ" کے عنوان سے منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے بعد، جس کا مقصد فلسطین کو ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا اور غزہ میں جنگ کا خاتمہ تھا، ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے گئے۔ یورپی یونین اور عرب لیگ کے ساتھ، ترکی نے بھی 17 دیگر ممالک کے ساتھ اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ 42 مضامین اور ایک ضمیمہ پر مشتمل اعلامیے میں حماس کے ذریعے کیے گئے آپریشن طوفان الاقصی کی مذمت کی گئی۔ شریک ممالک نے حماس سے ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی انتظامیہ محمود عباس کے نظام کے حوالے کر دیں۔ (ایجنسیاں، 31 جولائی 2025)۔

تبصرہ:

کانفرنس کو چلانے والے ممالک کو دیکھتے ہوئے، امریکہ کا وجود واضح ہے، اور اگرچہ اسے فیصلے کرنے کا اختیار یا اثر و رسوخ حاصل نہیں ہے، لیکن اس کے خادم، سعودی حکومت کا فرانس کے ساتھ ہونا اس کا واضح ثبوت ہے۔

اس سلسلے میں، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے 24 جولائی کو کہا کہ فرانس ستمبر میں باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا، اور وہ ایسا کرنے والا گروپ آف سیون کا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان آل سعود اور فرانسیسی وزیر خارجہ جان نوئل بارو نے کانفرنس میں ایک پریس کانفرنس کی، جس میں نیویارک اعلامیے کے مقاصد کا اعلان کیا گیا۔ درحقیقت، کانفرنس کے بعد جاری ہونے والے بیان میں، کیان یہود کے قتل عام کی مذمت کی گئی لیکن اس کے خلاف کوئی تعزیری فیصلہ نہیں کیا گیا، اور حماس سے کہا گیا کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دے اور غزہ کی انتظامیہ محمود عباس کے حوالے کر دے۔

امریکہ مشرق وسطیٰ کی نئی حکمت عملی جو معاہدہ ابراہام پر مبنی ہے اس کے نفاذ کے درپے ہے، اس میں سلمان کا نظام نوکِ پیکاں کی حیثیت رکھتا ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ جنگ کے بعد کیان یہود کے ساتھ معمول پر آنا شروع ہو جائے گا؛ اس کے بعد دیگر ممالک اس کی پیروی کریں گے، اور یہ لہر شمالی افریقہ سے پاکستان تک پھیلے ہوئے ایک اسٹریٹجک اتحاد میں تبدیل ہو جائے گی۔ نیز، کیان یہود کو اس اتحاد کے ایک اہم حصے کے طور پر سیکورٹی کی ضمانت ملے گی۔ پھر امریکہ اس اتحاد کو چین اور روس کے خلاف اپنی جدوجہد میں ایندھن کے طور پر استعمال کرے گا، اور پورے یورپ کو اپنے زیرِ نگیں لے لے گا، اور یقیناً، خلافت کے قیام کے امکان کے خلاف بھی۔

اس وقت اس منصوبے میں رکاوٹ غزہ کی جنگ ہے اور پھر امت کا غصہ ہے جو بڑھتا جا رہا ہے اور پھٹنے کے قریب ہے۔ اس لیے امریکہ نے نیویارک اعلامیے میں یورپی یونین، عرب حکومتوں اور ترکی کو قیادت کرنے کو ترجیح دی۔ اس کا خیال ہے کہ اعلامیے میں موجود فیصلوں کو قبول کرنا آسان ہوگا۔

جہاں تک عرب حکومتوں اور ترکی کا تعلق ہے، ان کا کام امریکہ کو خوش کرنا، کیان یہود کی حفاظت کرنا ہے، اور اس اطاعت کے بدلے میں، اپنی قوموں کے غضب سے خود کو بچانا ہے، اور ذلت کی زندگی جینا ہے سستی اقتدار کے ٹکڑوں پر یہاں تک کہ انہیں پھینک دیا جائے یا آخرت کے عذاب میں مبتلا کر دیا جائے۔ ترکی کا اعلامیے پر یہ تحفظ کہ نام نہاد دو ریاستی حل کے منصوبے پر عمل درآمد کیا جائے، اعلامیے کے اصل مقصد پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں، اور اس کی کوئی حقیقی قدر نہیں ہے۔

آخر میں، غزہ اور پورے فلسطین کی آزادی کا راستہ ایک خیالی ریاست سے نہیں گزرتا جس میں یہودی رہتے ہیں۔ فلسطین کا اسلامی حل مقبوضہ سرزمین میں اسلام کی حکمرانی ہے، اور غاصب سے جنگ کرنا، اور مسلمانوں کی فوجوں کو متحرک کرنا ہے تاکہ یہودیوں کو مبارک سرزمین سے اکھاڑ پھینکا جائے۔ اور مستقل اور بنیادی حل خلافت راشدہ کا قیام اور خلافت کی ڈھال سے ارضِ اسراء و معراج کی حفاظت کرنا ہے۔ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک مسلمان یہودیوں سے جنگ نہیں کریں گے، یہاں تک کہ مسلمان ان کو قتل کر دیں گے، یہاں تک کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپ جائے گا، تو پتھر یا درخت کہے گا: اے مسلمان، اے اللہ کے بندے، یہ یہودی میرے پیچھے ہے آؤ اور اسے قتل کرو» (روایت مسلم)

اسے حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھا گیا۔

محمد امین یلدرم

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

امریکہ جو چاہتا ہے وہ کیانِ یہود کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا ہے، چاہے اسلحہ باقی ہی کیوں نہ رہے۔

خبر:

لبنان میں بیشتر سیاسی اور سکیورٹی خبریں اس اسلحہ کے موضوع کے گرد گھومتی ہیں جو کیانِ یہود کو نشانہ بناتا ہے، کسی اور اسلحہ کے بارے میں نہیں اور بیشتر سیاسی تجزیہ کاروں اور صحافیوں کی توجہ اسی پر مرکوز ہے۔

تبصرہ:

امریکہ اس اسلحہ کو لبنانی فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے جس نے یہود سے جنگ کی تھی، اور اسے کسی بھی ایسے اسلحہ کی پرواہ نہیں ہے جو تمام لوگوں کے ہاتھوں میں رہے جسے اندرون ملک استعمال کیا جا سکتا ہے جب اسے اس میں کوئی فائدہ نظر آئے یا ہمسایہ ممالک میں مسلمانوں کے درمیان۔

امریکہ جو ہمارا سب سے بڑا دشمن ہے اس نے یہ بات کھلے عام بلکہ ڈھٹائی سے کہی ہے جب اس کے ایلچی برّاک نے لبنان سے یہ بیان دیا کہ وہ اسلحہ جو لبنانی ریاست کے حوالے کیا جانا چاہیے وہ وہ اسلحہ ہے جسے فلسطینِ مبارک پر غاصب کیانِ یہود کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے، نہ کہ کوئی اور انفرادی یا درمیانہ ہتھیار کیونکہ اس سے کیانِ یہود کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، بلکہ یہ مسلمانوں کے درمیان تکفیریوں، انتہا پسندوں، رجعت پسندوں یا پسماندہ لوگوں کے بہانے سے لڑائی شروع کرنے میں اس کیانِ یہود، امریکہ اور تمام مغرب کی خدمت کرتا ہے، یا دیگر ایسے اوصاف جو وہ مسلمانوں کے درمیان فرقہ واریت، قومیت، نسل پرستی، یا یہاں تک کہ مسلمانوں اور ان لوگوں کے درمیان پھیلاتے ہیں جو ہمارے ساتھ سیکڑوں سالوں سے رہ رہے ہیں اور انہوں نے ہم سے عزت، مال اور جان کی حفاظت کے سوا کچھ نہیں پایا، اور یہ کہ ہم ان پر وہی قوانین لاگو کرتے تھے جو ہم اپنے آپ پر لاگو کرتے تھے، ان کے لیے وہ ہے جو ہمارے لیے ہے اور ان پر وہ ہے جو ہم پر ہے۔ پس مسلمانوں کے ہاں شرعی حکم ہی حکومت کی بنیاد ہے، خواہ ان کے درمیان ہو، یا ان کے اور ریاست کے دیگر رعایا کے درمیان۔

جب تک کہ ہمارا سب سے بڑا دشمن امریکہ اس اسلحہ کو تلف یا غیر جانبدار کرنا چاہتا ہے جو کیانِ یہود کو نقصان پہنچاتا ہے، تو پھر سیاست دانوں اور میڈیا والوں کی توجہ اس پر کیوں مرکوز ہے؟!

اور میڈیا اور وزراء کی کونسل میں سب سے اہم موضوعات، امریکی دشمن کی درخواست پر، امت پر ان کے خطرے کی حد کو گہرائی سے تحقیق کیے بغیر کیوں پیش کیے جاتے ہیں، اور سب سے خطرناک موضوع کیانِ یہود کے ساتھ زمینی سرحدوں کی حد بندی ہے، یعنی اس غاصب کیان کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنا، اور اس کے بعد کسی کو بھی فلسطین کے لیے کوئی بھی ہتھیار اٹھانے کا حق نہیں ہوگا، جو تمام مسلمانوں کی ملکیت ہے نہ کہ صرف فلسطینیوں کی، جیسا کہ وہ ہمیں قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ صرف فلسطینیوں سے متعلق ہے؟!

خطرہ اس بات میں ہے کہ یہ معاملہ کبھی امن کے عنوان سے، کبھی صلح کے عنوان سے، اور کبھی علاقے میں سلامتی کے عنوان سے، یا اقتصادی، سیاحتی اور سیاسی خوشحالی کے عنوان سے پیش کیا جاتا ہے، اور اس بحبوحہ کے عنوان سے جس کا وہ مسلمانوں سے اس مسخ شدہ کیان کو تسلیم کرنے کی صورت میں وعدہ کرتے ہیں!

امریکہ اچھی طرح جانتا ہے کہ مسلمان کبھی بھی کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی نہیں ہو سکتے، اور اسی لیے آپ اسے دیگر امور کے ذریعے ان کی توجہ سب سے اہم اور فیصلہ کن معاملے سے ہٹانے کے لیے دراندازی کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ جی ہاں، امریکہ چاہتا ہے کہ ہم اسلحہ کے موضوع پر توجہ مرکوز کریں، لیکن وہ جانتا ہے کہ اسلحہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ کارآمد نہیں ہوگا اور اسے کیانِ یہود کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر سرکاری طور پر لبنان اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کر کے اسے تسلیم کر لے، اور اس طرح اس نے فلسطین کی مبارک سرزمین پر اس کے حق کو تسلیم کر لیا ہوگا، مسلم حکمرانوں اور فلسطینی اتھارٹی کا بہانہ بنا کر۔

کیانِ یہود کو تسلیم کرنا اللہ، اس کے رسول اور مومنین کے ساتھ غداری ہے، اور ان تمام شہداء کے خون کے ساتھ غداری ہے جو فلسطین کی آزادی کے لیے بہایا گیا اور اب بھی بہایا جا رہا ہے، اور اس سب کے باوجود ہم اب بھی اپنی امت میں خیر کی امید رکھتے ہیں جن میں سے کچھ غزہ ہاشم اور فلسطین میں لڑ رہے ہیں، اور وہ ہمیں اپنے خون سے کہہ رہے ہیں: ہم کیانِ یہود کو کبھی تسلیم نہیں کریں گے چاہے اس کی ہمیں کتنی ہی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے... تو کیا ہم لبنان میں کیانِ یہود کو تسلیم کرنے پر راضی ہو جائیں گے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں؟! اور کیا ہم اس کے ساتھ سرحدوں کی حد بندی کرنے پر راضی ہو جائیں گے، یعنی اسے تسلیم کرنا، چاہے ہمارے ساتھ اسلحہ باقی ہی کیوں نہ ہو؟! یہ وہ سوال ہے جس کا ہمیں وقت گزرنے سے پہلے جواب دینا چاہیے۔

یہ تحریر حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے لیے لکھی گئی ہے۔

ڈاکٹر محمد جابر

صدر مرکزی رابطہ کمیٹی، حزب التحریر، لبنان کی ریاست