مع القرآن الكريم - سورۃ الأعراف
مع القرآن الكريم - سورۃ الأعراف
مع القرآن الكريم - سورۃ الأعراف
پاکستانی مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے 26 جولائی 2025 کو اعلان کیا کہ پاکستان نے آج اسلام آباد میں علاقائی چیفس آف ڈیفنس سٹاف کانفرنس کی میزبانی کی، جس میں امریکہ، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کے اعلیٰ فوجی رہنماؤں نے شرکت کی۔ آئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ "یہ کثیر الجہتی واقعہ علاقائی سلامتی کے تعاون، فوجی سفارت کاری اور شرکت کرنے والے ممالک کے درمیان اسٹریٹجک مذاکرات کو بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔" کانفرنس کا موضوع "تعلقات کو مضبوط بنانا، امن کو یقینی بنانا" تھا، جس کا مقصد سلامتی کے تعاون کو بڑھانا، تربیتی پروگراموں کو تیار کرنا، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دیگر دفاعی اور سلامتی کی کوششوں میں بہترین طریقوں کا تبادلہ کرنا تھا۔
خلافت عقیدہ میں سے ہے؟ اور کیا یہ دین اور شریعت کے اصولوں میں سے ہے؟
فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہر مرنے والے کے عمل پر مہر لگادی جاتی ہے، سوائے اس شخص کے جو اللہ کی راہ میں سرحد پر پہرہ دیتے ہوئے مر جائے،
زہری نے عمرو بن شعیب سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے اپنے دادا سے روایت کی، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو جھگڑتے ہوئے سنا تو فرمایا: "تم سے پہلے کے لوگ اسی وجہ سے ہلاک ہوئے کہ انہوں نے کتاب اللہ کے بعض حصے کو بعض سے ٹکرایا، حالانکہ کتاب اللہ اس لیے نازل ہوئی ہے کہ اس کا بعض حصہ بعض کی تصدیق کرے، لہذا تم اس کے بعض حصے کو بعض سے مت جھٹلاؤ، پس جس قدر تم جانتے ہو، وہ کہو اور جس قدر نہیں جانتے ہو، اسے جاننے والے کی طرف موقوف کر دو۔" اسے احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے۔
اسلام میں نظامِ حکومت نظامِ خلافت ہے، جس میں کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بیعت کے ذریعے خلیفہ نصب کیا جاتا ہے۔ تاکہ اللہ کے نازل کردہ احکامات کے مطابق حکومت کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (فَاحْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللّهُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَهْوَاءهُمْ عَمَّا جَاءكَ مِنَ الْحَقِّ)، پس ان کے درمیان اس چیز کے ساتھ فیصلہ کرو جو اللہ نے نازل کی ہے اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو اس حق سے جو تمہارے پاس آیا ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے خلیفہ کے نصب کرنے پر اجماع کیا اور ان کا یہ اجماع اس بات سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد دو راتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کرنے میں تاخیر کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خلیفہ نصب کرنے میں مشغول رہے، حالانکہ میت کو اس کی وفات کے فوراً بعد دفن کرنا فرض ہے، پس اس سے معلوم ہوا کہ خلیفہ کو نصب کرنا میت کو دفن کرنے سے زیادہ واجب ہے۔
null
ارضِ مبارک: مسجد کا خطاب "نہ فقیر ہیں نہ کمزور بلکہ بزدل ایجنٹ ہیں!"
واقیہ ٹی وی: خصوصیات اور صفات!