تازہ ترین پوسٹس

نمایاں مضمون

null

null

مزید پڑھیں
"حجاب کی جنگ" پاپولزم یورپی نوآبادیات کی ایک جدید بازگشت ہے جو غزہ میں نسل کشی کو نظر انداز کرنے اور مسلمان خواتین کی اسلامی شناخت کو چھیننے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

"حجاب کی جنگ" پاپولزم یورپی نوآبادیات کی ایک جدید بازگشت ہے جو غزہ میں نسل کشی کو نظر انداز کرنے اور مسلمان خواتین کی اسلامی شناخت کو چھیننے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔

آج سیاسی میدان میں دائیں بازو کی جمہوری جماعتوں اور حکومتوں کی طرف سے حجاب پر پابندی کے لیے ایک نئی پاپولسٹ صلیبی جنگ دیکھنے میں آرہی ہے، اور آسٹریلیا، اٹلی اور پرتگال بھی اس لہر میں شامل ہو گئے ہیں۔ یہ ممالک مخالف یورپی ممالک کے اس وسیع تر گروپ کا حصہ ہیں جنہوں نے پہلے ہی حجاب پر پابندی عائد کر رکھی ہے، جہاں فرانس، بیلجیئم، ڈنمارک اور سوئٹزرلینڈ نے پہلے ہی تمام عوامی مقامات پر حجاب پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جب کہ نیدرلینڈز اور جرمنی نے تعلیمی اداروں اور سرکاری محکموں جیسے مخصوص مقامات پر جزوی پابندی عائد کر رکھی ہے۔

حکامِ پاکستان کو پاکستان میں بڑھتی ہوئی اسلامی بیداری کا خوف ہے اور "نیشنل ایکشن پلان" کے ذریعے وہ اس بیداری کا مقابلہ کرنے اور پاکستان کو مزید پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔

حکامِ پاکستان کو پاکستان میں بڑھتی ہوئی اسلامی بیداری کا خوف ہے اور "نیشنل ایکشن پلان" کے ذریعے وہ اس بیداری کا مقابلہ کرنے اور پاکستان کو مزید پولیس اسٹیٹ میں تبدیل کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔

حکامِ پاکستان کا تحریک لبیک (ٹی ایل پی) کے مارچ کے خلاف جارحانہ اور وحشیانہ رویہ نے پاکستانی مذہبی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے اور ہر باشعور مسلمان کو حیران کر دیا ہے۔ تاہم، ان کا یہ وحشیانہ طریقہ کار کوئی الگ تھلگ یا منفرد نہیں ہے؛ بلکہ یہ حالیہ عرصے میں اٹھائے گئے اقدامات کا ایک سلسلہ ہے، اور ان اقدامات میں اس وقت شدت آئی جب انہوں نے دیگر اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے ساتھ مل کر ٹرمپ کے اس منصوبے پر عمل درآمد کرنے پر اتفاق کیا، جس کا مقصد فلسطین کے یہودیوں کا تحفظ کرنا ہے۔ اور جب پاکستان کے مسلمانوں نے ٹرمپ کے منصوبے کو مسترد کر دیا،

ہالینڈ میں رابطہ الائمہ کے بیان پر تنقیدی غور و فکر

ہالینڈ میں رابطہ الائمہ کے بیان پر تنقیدی غور و فکر

ہالینڈ میں رابطہ الائمہ کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یورپی معاشروں کے اندر سیاسی شرکت "ایک جائز اور مباح ذریعہ" ہے، بلکہ یہ حالت کے لحاظ سے مستحب یا واجب بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم، اس موقف پر غور و فکر کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ ان مفروضوں پر مبنی ہے جو سیکولر نظام کی حقیقت کی درست عکاسی نہیں کرتے۔

40 / 10603