ٹونی بلیئر کیوں؟
خبر:
خبر:
السیرۃ النبویۃ کا نواں سیمینار - طاقت کی طلب
رؤية سياسية في أشراط الساعة - 09
کہا عضد الدین الإیجی نے (في المواقف): "ہمارے نزدیک امام کو مقرر کرنا شرعاً واجب ہے... اور اس کے شرعاً واجب ہونے کی دو وجوہات ہیں: پہلی وجہ یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد صدر اول میں مسلمانوں کا اس بات پر اجماع تواتر سے ثابت ہے کہ وقت امام سے خالی نہیں رہ سکتا، یہاں تک کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: آگاہ رہو! محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں اور اس دین کے لیے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جو اس کا انتظام کرے، تو سب نے اسے قبول کرنے میں جلدی کی اور سب سے اہم چیز یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کو چھوڑ دیا اور لوگ ہر زمانے میں اس پر قائم رہے، یہاں تک کہ ہمارے اس زمانے تک کہ ہر زمانے میں ایک متبع امام مقرر کیا جاتا ہے...
غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض ایک جنگ یا عارضی جارحیت نہیں ہے، اور نہ ہی یہ ایک ایسا المناک منظر ہے جسے خبرنامے ختم ہونے کے بعد بھلا دیا جائے، بلکہ یہ مشرق و مغرب میں ہر مسلمان کے لیے ایک الٰہی ابتلاء اور شرعی امتحان ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ دیکھے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور کس راستے پر گامزن ہیں۔ غزہ میدان میں تنہا نہیں ہے، اس کے بچوں کے جسم میں ہر زخم، ہر غمزدہ ماں کی چیخ،
غزہ پر جنگ بندی کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے کے پہلے مرحلے کے مذاکرات مصر کے شرم الشیخ میں امریکی ایلچی سٹیو ویٹکوف اور جیرڈ کوشنر، قطری وزیر اعظم اور ترک اور مصری انٹیلی جنس کے سربراہوں کی موجودگی میں شروع ہوئے۔
9/10/2025 کو غزہ میں ٹرمپ پلان پر عمل درآمد کے پہلے مرحلے پر اتفاق کا اعلان کیا گیا، جس میں جنگ بندی اور یہودی قیدیوں کا فلسطینی قیدیوں سے تبادلہ شامل ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنا واجب ہے، قرآنی آیات جو آپ کی پیروی کرنے کا حکم دیتی ہیں بہت زیادہ ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول: ﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾ [الاحزاب: 21]، اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول: ﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ﴾ اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول: ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ [الحشر: 7]
امریکی صدر ٹرمپ نے جمعہ کی شام تین اکتوبر کو اپنی پروردہ یہودی ریاست کو ایک حکم جاری کیا جس میں کہا گیا: "(اسرائیل) غزہ کی بمباری فوری طور پر بند کرے تاکہ ہم یرغمالیوں کو بحفاظت اور تیزی سے نکال سکیں۔"
ایسے وقت میں جب امریکہ مشرقی عرب کے علاقے میں غنڈہ گردی کر رہا ہے، اور یہودی ریاست کے ذریعے اس میں قتل، تباہی اور زمین میں فساد پھیلا رہا ہے، مصر، سعودی عرب، امارات، اردن، قطر، ترکی، پاکستان اور انڈونیشیا کے آٹھ غدار حکمرانوں پر انحصار کرتے ہوئے، جنہوں نے مسئلہ فلسطین کو ختم کرنے کے لیے ٹرمپ کے شیطانی منصوبے کو مبارکباد دی، اور یہودی ریاست کو خطے کا آقا اور حکم دینے والا بنانے کے لیے، بالکل اسی وقت عرب ممالک کے دوسرے محاذ پر ایک نوجوان انقلاب پھوٹ رہا ہے، خاص طور پر مراکش کے علاقے میں، تاکہ وہاں قائم سب سے مضبوط پولیس نظام کے ستونوں کو ہلا کر رکھ دے اور سب سے زیادہ ظالم مطلق،