نَفائِسُ الثَّمَراتِ - من ذا الذي من كأسه لـيس يشـرب
وہ دہر ہے تو صبر کرو، دہر پر کوئی اعتبار نہیں
وہ دہر ہے تو صبر کرو، دہر پر کوئی اعتبار نہیں
ارض مبارکہ: درس مسجد ﴿مَّا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍ مِّن رَّبِّكُمْ ۗ﴾
مجلہ الوعی: أبرز عناوین العدد (470)
جولانی کی ڈھٹائی انتہا کو پہنچ گئی!! اب اسے نہ اللہ سے حیا ہے، نہ اس کے رسول سے اور نہ مومنوں سے، بلکہ وہ حق بات کہنے والوں پر ظلم کرنے اور انہیں قید کرنے پر فخر کرتا ہے، اور اسے امریکہ اور اس کے مغرور آقا کے قدموں میں تحفے کے طور پر پیش کرتا ہے!
حزب التحریر سوڈان ولایہ کے میڈیا آفس نے آج پورٹ سوڈان میں واقع اپنے دفتر میں حزب التحریر کے رکن استاذ یعقوب ابراہیم کی ماہانہ سیاسی مباحثے کے ایک نئے پروگرام میں میزبانی کی، جس کا عنوان تھا: (یورپ اور سوڈان میں واقعات پر اس کا اثر)۔
ملک کو تقسیم کرنے کے مجرمانہ منصوبے کو ناکام بنانے کی سرگرمیوں کے ضمن میں حزب التحریر / ولایة سودان نے جامع السوق الکبیر بالعباسیة میں جمعہ کے روز بمطابق ٢٦/٩/٢٠٢٥ ایک لیکچر بعنوان: بالخلافة تتوحد الأمة کا انعقاد کیا
ارضِ مبارک: مسجد کا درس "کیا برطانیہ اپنے گناہ کا کفارہ ادا کرنا چاہتا ہے؟!"
[پروگرام شؤون الامہ]
زندگی کی ہلچل اور معاشروں کی غفلت میں، ایک کلمہ ایسا باقی رہتا ہے جو پہاڑوں کو ہلا دینے، وجدان کو پھاڑ دینے اور امت اسلامیہ کے دلوں میں جوابدہی کی روح پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ وہ کلمہ ہے جو ان لبوں سے نکلا جنھیں تشدد نے تھکا دیا تھا، اور ان جسموں سے نکلا جنہیں ظالموں کے تہہ خانوں میں ظلم نے پیس ڈالا تھا۔ "تم لوگ کب سے کہاں تھے؟!" یہ بات فرار بشار اسد کی جیلوں سے نکلنے والوں میں سے ایک نے کہی، جنہوں نے مصیبتیں جھیلیں، اور سلاخوں کے پیچھے ان کی عمریں بجھ گئیں۔ جب وہ ان لوگوں سے ملا جنہیں رہا کیا گیا تھا، تو اس نے اس سے جیل کے سالوں کی تعداد نہیں پوچھی، بلکہ اس کے چہرے پر چیخا: "تم کہاں تھے؟ تم لوگ کب سے کہاں ہو؟ تم نے ہمیں کیوں رہا نہیں کیا جب ہم زندہ دفن ہو رہے تھے؟"
ہر سال ستمبر میں یمن دو مواقع مناتا ہے۔ پہلا 26/9/1962 کو شمالی یمن میں بادشاہت کے خاتمے کی یاد ہے، اور دوسرا 21/9/2014 کو حوثیوں کے صنعاء میں داخل ہونے کی یاد ہے جس کی وجہ سے انہوں نے شمالی گورنریوں پر کنٹرول حاصل کر لیا۔