جان لو اے مسلمانو!
قسط نمبر اٹھارہ
کہ ابتدائی ادوار میں ولایت کی دو قسمیں تھیں: ولایت الصلاۃ اور ولایت الخراج، اسی لیے ہم تاریخ کی کتابوں میں امراء کی ولایت پر گفتگو کرتے ہوئے دو تعبیریں پاتے ہیں، پہلی: امارت علی الصلاۃ، اور دوسری: امارت علی الصلاۃ والخراج، یعنی امیر یا تو امیر الصلاۃ والخراج ہوگا، یا صرف امیر الصلاۃ ہوگا، یا صرف امیر الخراج ہوگا، اور ولایت یا امارت میں صلاۃ کے لفظ کا مطلب صرف لوگوں کی نماز میں امامت کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب مال کے علاوہ تمام معاملات میں ان پر ولایت کرنا ہے، چنانچہ صلاۃ کا لفظ مال کی وصولی کے علاوہ حکومت کے معنی میں استعمال ہوتا تھا، پس اگر والی صلاۃ اور خراج دونوں کو جمع کر لیتا تو اس کی ولایت عام ہوتی، اور اگر وہ اپنی ولایت کو صرف صلاۃ یا صرف خراج تک محدود کر دیتا تو اس کی ولایت خاص ہوتی۔
