الحديث الشريف - التعاون على البر والتقوى
الحديث الشريف - التعاون على البر والتقوى

عن أبي موسى قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا» وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. (متفق عليه).

0:00 0:00
Speed:
February 27, 2016

الحديث الشريف - التعاون على البر والتقوى

الحديث الشريف


التعاون على البر والتقوى


عن أبي موسى قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا» وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ. (متفق عليه).


(الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ) فالمؤمن مبتدأ, وقوله كالبنيان خبره.


وقوله:(يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا) جملة استئنافية لبيان وجه الشبه, قال القرطبي: "هذا تمثيل يفيد الحض على معاونة المؤمن للمؤمن ونصرته, وأن ذلك أمر متأكد لا بد منه, فإن البناء لا يتم ولا تحصل فائدته إلا بأن يكون بعضه يمسك بعضا ويقويه. وإن لم يكن ذلك انحلت أجزاؤه وخرب بناؤه, وكذا المؤمن لا يشتغل بأمر دنياه ودينه إلا بمعاونة أخيه ومناصرته."


(وَشَبَّكَ) يحتمل أن يكون النبي وأن يكون الراوي.


(بَيْنَ أَصَابِعِهِ) وذلك تقريب لوجه التشبيه وبيان للتداخل.


(متفق عليه) أخرجه البخاري في الصلاة والأدب, ومسلم في الأدب, ورواه الترمذي في الزهد, والنسائي في الإيمان.


البيت مكون من جدران، والجدران مكونة من طوب أو حجارة، وهذه الجدران تسند بعضها البعض، بحيث يكون لها من القوة والمتانة ما يصعب تحريكها أو تكسيرها، فالجدار وحده ضعيف، وبأمثاله قوي شديد، وذلك مثل المؤمن للمؤمن، فهو معه كالبنيان يشد بعضه بعضًا، فالمؤمنون شأنهم التعاون والتناصر والتكاتف والتظاهر، ولقد مثل الرسول صلى الله عليه وسلم وحدة المسلمين ومعونة بعضهم لبعض بالتشبيك بين أصابعه.


وقد قال العلماء في هذا الحديث من الفقه أن المؤمن مع المؤمن كالنفس الواحدة فينبغي أن يحب له ما يحب لنفسه من حيث إنها نفس واحدة كما في الحديث «المسلمون كالجسد الواحد».


وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يُسْلِمُهُ، مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ، كَانَ اللهُ فِي حَاجَتِهِ، وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً، فَرَّجَ اللهُ عَنْهُ بِهَا كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» (متفق عليه).


(الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ) قال تعالى: (إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ) قال البيضاوي: أي من حيث أنهم منسوبون إلى أصل هو الإيمان.


(لَا يَظْلِمُهُ) بأن يأخذ من ماله أو حقه بغصب أو نحوه, ولا يسلمه إلى عدو متعد عليه عدوانا, بل ينصره ويدفع الظلم عنه ويدفعه عن الظلم.


(وَلَا يُسْلِمُهُ) إلى عدوه ونفسه التي هي أمارة بالسوء والشيطان, فيحول بينه وبين دواعي النفس من الشهوات, وبينه وبين الشيطان الذي يأمره بالسوء والفحشاء, وبينه وبين العدو الباغي عليه بالظلم والاعتداء.


(مَنْ كَانَ فِي حَاجَةِ أَخِيهِ، كَانَ اللهُ فِي حَاجَتِهِ) أي كل ما يحتاج إليه, كان الله فى حاجته جزاء له وثوابًا له، كما قال تعالى:

(هَلْ جَزَاء الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ). وروى الطبراني مرفوعًا «من سعى في حاجة أخيه المسلم قضيت له أو لم تقض غفر له ما تقدم من ذنبه وما تأخر, وكتب له براءتان: براءة من النار, وبراءة من النفاق» وأورده في الفتح المبين شرح الأربعين.


 (وَمَنْ فَرَّجَ عَنْ مُسْلِمٍ كُرْبَةً)، كربة بتشديد الراء وضم الكاف: الهمّ الذي يأخذ النفس.


(فَرَّجَ اللهُ عَنْهُ بِهَا) بتلك المرة من التفريج.


(كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ) جمع قربة كقربة وقرب.


(وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا) بأن علم منه معصية فيما مضى فلم يخبر بها حاكمًا وهذا للندب, إذ لو لم يستره ورفعه لحاكم لم يأثم إجماعًا بل ارتكب خلاف الأولى, أما كشفها لغير الحاكم كالتحدث بها فذلك غيبة شديدة الإثم والوزر, ويندب لمن جاءه تائب نادم أقر بحد ولم يفسره أن لا يستفسره بل يأمره بستر نفسه.


لهذا يجب على المسلمين أن يتعاونوا على فعل الخير والعمل على حثّ الذات والآخرين على فعل الخيرات صغرت أم كبرت فهي كلها تجمع يوم القيامة للعباد. وإن سر قوة هذه الأمة هو عقيدتها الدافعة إلى وحدة الفكر والشعور، فعلينا أن نحافظ على وحدتنا وكياننا.


فيا أيها المسلمون، ذلكم رسولكم وأسوتكم وإمامكم يرشدكم إلى سلاح ماضٍ، وجيشٍ غلّاب، وعدة عتيدة، تنفعكم في البأساء والضراء، وتدفع عنكم الأعداء وتزيل عنكم الاستعباد، وترد إليكم العزة الماضية، والكرامة الراحلة، وتبوّئكم المكانة العالية، ذلكم هو سلاح الوحدة وضم اليد إلى اليد. فاستمعوا لإرشاده واعملوا بنصحه، واذكروا قول الله سبحانه وتعالى: (وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعاً وَلا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْداءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْواناً)، وقوله تعالى:

(وَلا تَنازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَاصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ).

More from فقہ

مع الحديث الشريف - أتدرون من المفلس

حدیث شریف کے ساتھ

کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے معزز سامعین، اللہ آپ پر رحمت فرمائے، آپ کے ساتھ ہماری ملاقات اور ہمارا پروگرام "حدیث شریف کے ساتھ" تجدید ہوتا ہے، اور ہم اپنی قسط کا آغاز بہترین انداز میں اسلام کے سلام سے کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

مسند احمد - بَاقِي مُسْنَدِ الْمُكْثِرِينَ میں آیا ہے - میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکوٰة لے کر آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا۔

  ہمیں عبدالرحمن نے زہیر سے، انہوں نے العلاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ سامان۔ آپ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا تو اسے بٹھایا جائے گا، پس یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا اور یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا، پھر اگر اس کی نیکیاں اس پر واجب خطاؤں کو ادا کرنے سے پہلے ختم ہو گئیں تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔"

یہ حدیث دوسری اہم احادیث کی طرح ہے جس کا معنی سمجھنا اور ادراک کرنا ضروری ہے، تو لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی نماز، روزے اور زکوٰة کے باوجود مفلس ہے، کیونکہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔

اور اس کا افلاس یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں جو اس کا سرمایہ ہیں لے لی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اور اس کی گالی گلوچ، تہمت اور مار پیٹ کی قیمت اس سے ادا کی جائے گی، اور جب اس کی نیکیاں اس پر واجب حقوق ادا کرنے سے پہلے ختم ہو جائیں گی تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ کیا تم جانتے ہو یعنی کیا تم امور کے باطن کا علم رکھتے ہو، کیا تم جانتے ہو کہ حقیقی مفلس کون ہے؟ یہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: "غنا اور فقر اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہے" جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر جواب دیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہے اور نہ سامان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی نظر میں مفلس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، .... آپ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا...

اور یہ سیدنا عمر کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے لیکن اہم چیز استقامت ہے، کیونکہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة یہ عبادات ہیں جنہیں انسان خلوص نیت سے بھی کر سکتا ہے اور دکھاوے کے لیے بھی، لیکن مرکز ثقل یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر قائم رہا جائے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں سے بنائے، اور ہماری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے، اور ہمیں پیشی کے دن رسوا نہ کرے، اے اللہ آمین

معزز سامعین، اور آپ سے ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ ملاقات ہونے تک، ہم آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے

عفراء تراب

مع الحديث الشريف - المنافقون وأعمالهم الشريرة

مع الحديث الشريف

منافقین اور ان کے بُرے اعمال

ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، اے پیارے لوگو ہر جگہ، آپ کے پروگرام "مع الحديث الشريف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، پس السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کو سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ سردار ہوا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔“ اسے ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

اے معزز سامعین

یقینا بہترین کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور بہترین رہنمائی اس کے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے، اس کے بعد،

یہ حدیث شریف ہمیں ان منافقوں سے نمٹنے کے طریقے کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنہیں ہم جانتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ واحد شخص تھے جو تمام منافقوں کو ان کے ناموں سے جانتے تھے، لیکن ہم ان میں سے کچھ کو ان کی صفات سے جان سکتے ہیں، جیسے وہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا کہ وہ فرائض کو سستی سے اور بادل ناخواستہ انجام دیتے ہیں، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہیں، فتنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور برائی کو پھیلانا پسند کرتے ہیں، اس کی دعوت دے کر، اس کی حفاظت کرکے اور اس کی نگہداشت کرکے، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں پر جھوٹ بولتے ہیں... اور ان کے علاوہ دیگر جنہوں نے نفاق سے اپنا تعلق جوڑا۔

لہذا ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے جسے شریعت نے اچھا قرار دیا ہے اور جسے برا قرار دیا ہے، تاکہ ہم منافق کو مخلص سے پہچان سکیں، اور اس کے مطابق اس کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔ ہمیں اس شخص کی جانب سے محفوظ نہیں ہونا چاہیے جو شریعت کی مخالفت کرتا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے، اور ہمیں اس کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے اور نہ ہی اس کی تائید کرنی چاہیے، اور نہ ہی اس سے کم یہ کہ ہم اسے سردار کہیں، بصورت دیگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔

ہم مسلمانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے، اور کسی منافق کو اپنے دین اور اپنے اہل و عیال پر داخل ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے، کیونکہ وہ ان خطرناک چیزوں میں سے ہیں جن کا ہمیں ان دنوں ان کی کثرت اور ان کے متعدد چہروں کی وجہ سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کی پیمائش کرنے کے لیے شرعی میزان کو حاضر رکھنا چاہیے، کیونکہ اسلام ہمارے لیے ان جیسے شریروں سے حفاظت ہے۔

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری امت کو ان جیسے مجرموں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں سیدھے راستے اور صحیح میزان کی طرف رہنمائی فرمائے جس کے ذریعے ہم لوگوں کے رویے کی پیمائش کریں اور ان سے دور رہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا، آمین۔

اے ہمارے پیارے، اور جب تک ہم کسی اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملتے ہیں، ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

اسے ریڈیو کے لیے لکھا: ڈاکٹر ماہر صالح