مع الحديث الشريف - الإعلام
مع الحديث الشريف - الإعلام

نحييكم جميعا أيها الأحبة في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته ...

0:00 0:00
Speed:
February 04, 2024

مع الحديث الشريف - الإعلام

مع الحديث الشريف

الإعلام

نحييكم جميعا أيها الأحبة في كل مكان، في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية، فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

"اللهم أيده بروح القدس"

روى مسلم في صحيحه قال: حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: عَمْرٌو حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ عُمَرَ مَرَّ بِحَسَّانَ وَهُوَ يُنْشِدُ الشِّعْرَ فِي الْمَسْجِدِ فَلَحَظَ إِلَيْهِ فَقَالَ: قَدْ كُنْتُ أُنْشِدُ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَجِبْ عَنِّي اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ؟ قَالَ: اللَّهُمَّ نَعَمْ،

حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ حَسَّانَ قَالَ فِي حَلْقَةٍ فِيهِمْ أَبُو هُرَيْرَةَ أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ

جاء في شرح النووي على مسلم:

قَوْله: ( إِنَّ حَسَّان أَنْشَدَ الشِّعْر فِي الْمَسْجِد بِإِذْنِ النَّبِيّ صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ )

فِيهِ جَوَاز إِنْشَاد الشِّعْر فِي الْمَسْجِد إِذَا كَانَ مُبَاحًا، وَاسْتِحْبَابه إِذَا كَانَ فِي مَمَادِح الْإِسْلَامِ وَأَهْلِهِ، أَوْ فِي هِجَاء الْكُفَّار وَالتَّحْرِيض عَلَى قِتَالهمْ، أَوْ تَحْقِيرهمْ، وَنَحْو ذَلِكَ وَهَكَذَا كَانَ شِعْر حَسَّان. وَفِيهِ اِسْتِحْبَاب الدُّعَاء لِمَنْ قَالَ شِعْرًا مِنْ هَذَا النَّوْع. وَفِيهِ جَوَاز الِانْتِصَار مِنْ الْكُفَّار، وَيَجُوزُ أَيْضًا مِنْ غَيْرهمْ بِشَرْطِهِ. وَرُوح الْقُدُس جِبْرِيل صَلَّى اللَّه عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

أحبّتنا الكرام

إن الشعر من وسائل الإعلام المؤثرة في الرأي العام، وقد استغله الرسول صلى الله عليه وسلم للذب عن الإسلام والمسلمين، وفضح الكفر والكافرين 

روى أحمد في مسنده قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ فِي الشِّعْرِ مَا أَنْزَلَ فَقَالَ: "إِنَّ الْمُؤْمِنَ يُجَاهِدُ بِسَيْفِهِ وَلِسَانِهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَكَأَنَّ مَا تَرْمُونَهُمْ بِهِ نَضْحُ النَّبْلِ".

وجاء في سير أعلام النبلاء: قال ابن سيرين كان شعراء أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم حسان بن ثابت وعبد الله بن رواحة وكعب بن مالك. أما كعب فكان يذكر الحرب يقول فعلنا ونفعل ويتهددهم، وأما حسان فكان يذكر عيوبهم وأيامهم، وأما ابن رواحة فكان يعيرهم بالكفر، وقد أسلمت دوس فرقاً من بيت قاله كعب:

نخيرها ولو نطقت لقالت         قواطعهن دوساً أو ثقيفاً.

فالإعلام من الأمور المهمة للدعوة والدولة، إذ له دور كبير في التأثير على الناس، في صياغة أذواقهم وميولهم، وفي بناء معتقداتهم ومفاهيمهم وآرائهم، فقد كان كذلك في الماضي وهو اليوم أكثر تطوراً وأبعد أثرا ... فمسألة استعمال الإعلام للتأثير على الناس ومن ثم على الرأي العام في المجتمعات معروفة منذ القدم، وما تغير سوى وسائله، فبينما استعمل الإنسان قديماً المخاطبة بأساليبها المتنوعة للتواصل مع الغير، والتأثير فيهم، فتحدث وروى وخطب وحاور وناقش وناظر، وقرظ الشعر فافتخر ومدح وهجا ورثى وهدد وتحدى ...  فقد استغل هذه الأساليب من المخاطبة من أجل التأثير على الناس، وإيجاد رأي عام لديهم على ما يطرح من قضايا وما يحمل من أفكار.

لذا فإن الإعلام في دولة الخلافة القادمة سيكون له دائرة خاصة تتبع مباشرة للخليفة

ذلك أن دولة الخلافة وهي دولة حاملة دعوة تحتاج إلى سياسة إعلامية مميزة:

  1- تعرض الإسلام عرضاً قوياً مؤثراً من شأنه أن  يحرك عقول الناس للإقبال على الإسلام ودراسته والتفكر فيه، ويسهل ضم البلاد الإسلامية لدولة الخلافة.

2- إن الكثير من أمور الإعلام مرتبط بالدولة ارتباطاً وثيقاً ولا يجوز نشره دون أمر الخليفة، ويتمثل ذلك في

أ‌- كل ما يتعلق بالأمور العسكرية، وما يلحق بها، كتحركات الجيوش، وأخبار النصر أو الهزيمة، والصناعات العسكرية.

ب‌- أخبار المفاوضات والموادعات والمناظرات التي تجري بين الخليفة أو من يستنيبه وممثلي دول الكفر.

فهذه الأخبار يجب ربطها بالخليفة مباشرة ليقرر ما يجب كتمانه منها، وما يجب بثه وإعلانه. فالله تعالى يقول في سورة النساء: {وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَى أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ}

3- أما الأخبار التي ليست ذات مساس مباشر بالدولة كالأخبار اليومية والبرامج السياسية والثقافية والعلمية والحوادث العالمية، فهي تتداخل مع وجهة النظر في الحياة في بعض أجزائها، ومع نظرة الدولة للعلاقات الدولية، ومع هذا فإن إشراف الدولة عليها يختلف عن إشرافها على النوعين السابقين. 

وعليه فإن جهاز الإعلام يجب أن يحوي دائرتين رئيسيتين:

الدائرة الأولى: عملها المراقبة المباشرة للأخبار ذات المساس بالدولة كالأمور العسكرية والصناعة الحربية والعلاقات الدولية .... فلا تذاع في وسائل إعلام الدولة أو في وسائل الإعلام الخاصة إلا بعد عرضها على جهاز الإعلام.

الدائرة الثانية: مختصة بالأخبار الأخرى وتكون مراقبتها لها غير مباشرة, ولا تحتاج وسائل إعلام الدولة أو وسائل الإعلام الخاصة أي إذن في عرضها

ولا تحتاج وسائل الإعلام إلى ترخيص بل لكل من يحمل تابعية الدولة الإسلامية أن ينشئ أية وسيلة إعلامية: مقروءة أو مسموعة أو مرئية. ولا يحتاج إلا إلى "علم وخبر" يُعلم جهاز الإعلام عن وسيلة الإعلام التي أنشأها... وهو يحتاج كما بينا إلى إذن في نشر الأخبار ذات المساس بالدولة. وأما الأخبار الأخرى فينشرها دون إذن مسبق بها.

ويكون صاحب الوسيلة الإعلامية مسؤولاً عن كل مادة إعلامية ينشرها، ويحاسب على أية مخالفة شرعية كأي فرد من أفراد الرعية.

وحين تقوم دولة الخلافة فإنها ستصدر قانوناً يبين الخطوط العريضة للسياسة الإعلامية للدولة وفق الأحكام الشرعية، تسير بموجبه الدولة لخدمة مصلحة الإسلام والمسلمين، وبناء مجتمع إسلامي قوي متماسك، معتصم بحبل الله، يشع الخير منه وفيه، لا مكان فيه لأفكار فاسدة مفسدة، ولا لثقافات ضالة مضلة، مجتمع إسلامي ينفي خبثه، وينصع طيبه، ويسبح لله رب العالمين.

أحبّتنا الكرام، وإلى حين أن نلقاكم مع حديث نبوي آخر، نترككم في رعاية الله،

والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته.

More from فقہ

مع الحديث الشريف - أتدرون من المفلس

حدیث شریف کے ساتھ

کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے معزز سامعین، اللہ آپ پر رحمت فرمائے، آپ کے ساتھ ہماری ملاقات اور ہمارا پروگرام "حدیث شریف کے ساتھ" تجدید ہوتا ہے، اور ہم اپنی قسط کا آغاز بہترین انداز میں اسلام کے سلام سے کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

مسند احمد - بَاقِي مُسْنَدِ الْمُكْثِرِينَ میں آیا ہے - میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکوٰة لے کر آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا۔

  ہمیں عبدالرحمن نے زہیر سے، انہوں نے العلاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ سامان۔ آپ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا تو اسے بٹھایا جائے گا، پس یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا اور یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا، پھر اگر اس کی نیکیاں اس پر واجب خطاؤں کو ادا کرنے سے پہلے ختم ہو گئیں تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔"

یہ حدیث دوسری اہم احادیث کی طرح ہے جس کا معنی سمجھنا اور ادراک کرنا ضروری ہے، تو لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی نماز، روزے اور زکوٰة کے باوجود مفلس ہے، کیونکہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔

اور اس کا افلاس یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں جو اس کا سرمایہ ہیں لے لی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اور اس کی گالی گلوچ، تہمت اور مار پیٹ کی قیمت اس سے ادا کی جائے گی، اور جب اس کی نیکیاں اس پر واجب حقوق ادا کرنے سے پہلے ختم ہو جائیں گی تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ کیا تم جانتے ہو یعنی کیا تم امور کے باطن کا علم رکھتے ہو، کیا تم جانتے ہو کہ حقیقی مفلس کون ہے؟ یہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: "غنا اور فقر اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہے" جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر جواب دیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہے اور نہ سامان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی نظر میں مفلس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، .... آپ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا...

اور یہ سیدنا عمر کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے لیکن اہم چیز استقامت ہے، کیونکہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة یہ عبادات ہیں جنہیں انسان خلوص نیت سے بھی کر سکتا ہے اور دکھاوے کے لیے بھی، لیکن مرکز ثقل یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر قائم رہا جائے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں سے بنائے، اور ہماری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے، اور ہمیں پیشی کے دن رسوا نہ کرے، اے اللہ آمین

معزز سامعین، اور آپ سے ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ ملاقات ہونے تک، ہم آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے

عفراء تراب

مع الحديث الشريف - المنافقون وأعمالهم الشريرة

مع الحديث الشريف

منافقین اور ان کے بُرے اعمال

ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، اے پیارے لوگو ہر جگہ، آپ کے پروگرام "مع الحديث الشريف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، پس السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کو سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ سردار ہوا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔“ اسے ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

اے معزز سامعین

یقینا بہترین کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور بہترین رہنمائی اس کے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے، اس کے بعد،

یہ حدیث شریف ہمیں ان منافقوں سے نمٹنے کے طریقے کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنہیں ہم جانتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ واحد شخص تھے جو تمام منافقوں کو ان کے ناموں سے جانتے تھے، لیکن ہم ان میں سے کچھ کو ان کی صفات سے جان سکتے ہیں، جیسے وہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا کہ وہ فرائض کو سستی سے اور بادل ناخواستہ انجام دیتے ہیں، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہیں، فتنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور برائی کو پھیلانا پسند کرتے ہیں، اس کی دعوت دے کر، اس کی حفاظت کرکے اور اس کی نگہداشت کرکے، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں پر جھوٹ بولتے ہیں... اور ان کے علاوہ دیگر جنہوں نے نفاق سے اپنا تعلق جوڑا۔

لہذا ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے جسے شریعت نے اچھا قرار دیا ہے اور جسے برا قرار دیا ہے، تاکہ ہم منافق کو مخلص سے پہچان سکیں، اور اس کے مطابق اس کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔ ہمیں اس شخص کی جانب سے محفوظ نہیں ہونا چاہیے جو شریعت کی مخالفت کرتا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے، اور ہمیں اس کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے اور نہ ہی اس کی تائید کرنی چاہیے، اور نہ ہی اس سے کم یہ کہ ہم اسے سردار کہیں، بصورت دیگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔

ہم مسلمانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے، اور کسی منافق کو اپنے دین اور اپنے اہل و عیال پر داخل ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے، کیونکہ وہ ان خطرناک چیزوں میں سے ہیں جن کا ہمیں ان دنوں ان کی کثرت اور ان کے متعدد چہروں کی وجہ سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کی پیمائش کرنے کے لیے شرعی میزان کو حاضر رکھنا چاہیے، کیونکہ اسلام ہمارے لیے ان جیسے شریروں سے حفاظت ہے۔

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری امت کو ان جیسے مجرموں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں سیدھے راستے اور صحیح میزان کی طرف رہنمائی فرمائے جس کے ذریعے ہم لوگوں کے رویے کی پیمائش کریں اور ان سے دور رہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا، آمین۔

اے ہمارے پیارے، اور جب تک ہم کسی اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملتے ہیں، ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

اسے ریڈیو کے لیے لکھا: ڈاکٹر ماہر صالح