مع الحديث الشريف - الإسلام والرقيق
مع الحديث الشريف - الإسلام والرقيق

نحييكم جميعا أيها الأحبة في كل مكان في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته، ‏‏عَنْ ‏‏أَبِي هُرَيْرَةَ ‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏‏قَالَ: ‏"‏لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي وَلَا يَقُولَنَّ الْمَمْلُوكُ رَبِّي وَرَبَّتِي وَلْيَقُلْ الْمَالِكُ فَتَايَ وَفَتَاتِي وَلْيَقُلْ الْمَمْلُوكُ سَيِّدِي وَسَيِّدَتِي فَإِنَّكُمْ الْمَمْلُوكُونَ، وَالرَّبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ"

0:00 0:00
Speed:
September 13, 2015

مع الحديث الشريف - الإسلام والرقيق

 مع الحديث الشريف

الإسلام والرقيق


نحييكم جميعا أيها الأحبة في كل مكان في حلقة جديدة من برنامجكم "مع الحديث الشريف" ونبدأ بخير تحية فالسلام عليكم ورحمة الله وبركاته،


‏‏عَنْ ‏‏أَبِي هُرَيْرَةَ ‏‏أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ‏صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ‏‏قَالَ: ‏"‏لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي وَلَا يَقُولَنَّ الْمَمْلُوكُ رَبِّي وَرَبَّتِي وَلْيَقُلْ الْمَالِكُ فَتَايَ وَفَتَاتِي وَلْيَقُلْ الْمَمْلُوكُ سَيِّدِي وَسَيِّدَتِي فَإِنَّكُمْ الْمَمْلُوكُونَ، وَالرَّبُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ"


جاء في عون المعبود شرح سنن أبي داود


(لَا يَقُولَن أَحَدكُمْ عَبْدِي وَأَمَتِي): ‏


لِأَنَّ حَقِيقَة الْعُبُودِيَّة إِنَّمَا يَسْتَحِقّهَا اللَّه تَعَالَى فَكُلّكُمْ عَبِيد اللَّه وَكُلّ نِسَائِكُمْ إِمَاء اللَّه ‏


(وَلَا يَقُولَن الْمَمْلُوك: رَبِّي وَرَبَّتِي): ‏


لِأَنَّ الرُّبُوبِيَّة إِنَّمَا حَقِيقَتهَا لِلَّهِ تَعَالَى, لِأَنَّ الرَّبّ هُوَ الْمَالِك أَوْ الْقَائِم بِالشَّيْءِ وَلَا يُوجَد حَقِيقَةَ هَذَا إِلَّا فِي اللَّه تَعَالَى ‏


(وَلْيَقُلْ الْمَالِك فَتَايَ وَفَتَاتِي): ‏


هُمَا بِمَعْنَى الشَّابّ وَالشَّابَّة بِنَاء عَلَى الْغَالِب فِي الْخَدَم, أَوْ الْقَوِيّ وَالْقَوِيَّة وَلَوْ بِاعْتِبَارِ مَا كَانَ ‏


(وَلْيَقُلْ الْمَمْلُوك سَيِّدِي وَسَيِّدَتِي): ‏


لِأَنَّ لَفْظَة السَّيِّد غَيْر مُخْتَصَّة بِاَللَّهِ تَعَالَى اِخْتِصَاص الرَّبّ وَلَا مُسْتَعْمَلَة فِيهِ كَاسْتِعْمَالِهَا حَتَّى كَرِهَ مَالِك الدُّعَاء: سَيِّدِي, وَلَمْ يَأْتِ تَسْمِيَته تَعَالَى بِالسَّيِّدِ فِي الْقُرْآن وَلَا فِي حَدِيث مُتَوَاتِر قَالَهُ النَّوَوِيّ ‏

جاء الإسلام والرقيق موجود في جميع أنحاء العالم، والاسترقاق نظام شائع في جميع أنحاء الدنيا عند جميع الشعوب والأمم. وعالج الإسلام الرقيق معالجة تودي إلى تخفيف وضع الرق المضروب عليه، وتؤدي إلى عتقه جبراً واختياراً. وقد وضع أحكاماً كثيرة في هذا الشأن فصلها الفقهاء أتم تفصيل، وتتلخص هذه الأحكام في المسائل التالية:


1 - جعل الإسلام للرقيق حقوقاً، وحفظ عليه اعتبار كونه إنساناً كالحر من حيث الصفات الفطرية. وقد وصى الله تعالى في القرآن الكريم كما وصى الرسول في الحديث الشريف بالإحسان إلى الأرقاء وبحسن معاشرتهم. قال تعالى:


[ وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلاَ تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَى وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ]


ومعنى [وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ] : عبيدكم الأرقاء


وقال صلى الله عليه وسلم:


"اتقوا الله فيما ملكت أيمانكم، هم إخوانكم جعلهم الله تحت أيديكم فأطعموهم مما تأكلون، وألبسوهم مما تلبسون، ولا تكلفوهم ما يُغلبهم، فإن كلفتموهم فأعينوهم"
وقد رفع الشرع منـزلة الرقيق وجعله كالحر، إذ جعل دمه معصوماً يُقتل الحرّ به لأن الله تعالى يقول:


[يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمْ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى].


ويؤيد ذلك ما رواه ابن ماجة من طريق ابن عباس قوله صلى الله عليه وسلم:


"المسلمون تتكافأ دماؤهم"


فالحر والعبد متساويان في أن كلاً منهما معصوم الدم يحرم قتله، ويقتل قاتله أياً كان. وعلى ذلك جعل الإسلام نفس العبد الرقيق كنفس الحر سواء بسواء، ودمَه كدم الحر معصوماً، قال صلى الله عليه وسلم:


"من قتل عبده قتلناه"


2 - حث الإسلام على عَتق الأرقاء. فقد جعل عتق الرقبة يساعد الإنسـان على شـكـر نعـم الله الجليلة ويعـينه على اقتحام العقبة قال تعالى:


[فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ (11) وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ (12) فَكُّ رَقَبَةٍ (13)] .


وكذلك حث الرسول صلى الله عليه وسلم على عتق الأرقاء قال:


"أيما رجل أعتق امرأً مسلماً استنقذ اللهُ تعالى بكل عضو منه عضواً من النار "


3 - شرع الإسلام أحكاماً عملية توجب عتق الأرقاء، فقد شرع أحكاماً تجبر على العتق، إذ جعل عتق العبد المملوك للقريب المحرم يتم آلياً بمجرد الملك سواء رضي المالك أم لم يرض، أعتق أم لم يعتق. فكل إنسان يملك قريباً ذا رحم محرم بالشراء أو الإرث عُتِقَ عليه قريبه جبراً عنه بمجرد الملك دون حاجة إلى إعتاقه. روى أبو داود عن الحسن عن سمرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال:


"من ملك ذا رحم محرم فهو حر" وجعل تعذيب العبد من تحريق أو قطع عضو أو إفساده أو ضرب العبد ضرباً مبرحاً، جعل ذلك موجباً لعتقه، فإن لم يعتقه سيده عتقه الحاكم جبراً عن سيده، قال صلى الله عليه وسلم: "من لطم مملوكه أو ضربه فكفارته أن يُعتقه"


وجعل الإسلام عتق الرقبة كفارة لازمة لكثير من الذنوب. فمن قتل مؤمناً خطأ فكفارته تحرير رقبة مؤمنة


ومن حنث في يمينه فمما يكفر خطيئته تحرير رقبة


ومن أفسد صوم رمضان بالجماع فكفارته تحرير رقبة.


ولم يكتف الإسلام بذلك بل جعل للعبد نفسه طريقة لأن يعمل على عتق نفسه، كما جعل للمالك طريقة يعوض بها عن ثمن العبد. وذلك في بحث المُكاتَب. ورغب الإسـلام في هذا وأمر الله بالقرآن به فقال تعالى:


[وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتَابَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ].


وإذا كاتب المولى عبده بأن قال له: إن أتيتني بكذا في مدة كذا فأنت حرّ، كان واجباً علي السيد أن يطلق عبده ليعمل، حتى يحصل على المال الذي كاتبه عليه. وكان واجباً عليه أن يعتقه إذا أحضر المال. ولا يصح له أن يرجع عن هذه المكاتبة.


4 - لم يكتف الإسلام بالحث على العتق وإيجاد أحكام تجبر على العتق، بل جعل في بيت مال المسلمين باباً خاصاً لعتق الأرقاء. إذ جعل الزكاة تصرف لعتق الأرقاء، وجعله أحد الأبواب الثمانية، قال تعالى:


[ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاِبْنِ السَّبِيلِ) ] التوبة (60)


احبتنا الكرام وإلى حين أن نلقاكم مع حديث نبوي آخر نترككم في رعاية الله والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته .

More from فقہ

مع الحديث الشريف - أتدرون من المفلس

حدیث شریف کے ساتھ

کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟

حزب التحریر کے مرکزی میڈیا آفس کے ریڈیو کے معزز سامعین، اللہ آپ پر رحمت فرمائے، آپ کے ساتھ ہماری ملاقات اور ہمارا پروگرام "حدیث شریف کے ساتھ" تجدید ہوتا ہے، اور ہم اپنی قسط کا آغاز بہترین انداز میں اسلام کے سلام سے کرتے ہیں، تو السلام علیکم ورحمة الله وبركاته

مسند احمد - بَاقِي مُسْنَدِ الْمُكْثِرِينَ میں آیا ہے - میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزہ، نماز اور زکوٰة لے کر آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا۔

  ہمیں عبدالرحمن نے زہیر سے، انہوں نے العلاء سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ابوہریرہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا: "کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟" انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہوں اور نہ سامان۔ آپ نے فرمایا: "میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا اور اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کی عزت پر حملہ کیا، کسی پر تہمت لگائی اور کسی کا مال کھایا تو اسے بٹھایا جائے گا، پس یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا اور یہ اپنی نیکیوں سے بدلہ لے گا، پھر اگر اس کی نیکیاں اس پر واجب خطاؤں کو ادا کرنے سے پہلے ختم ہو گئیں تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔"

یہ حدیث دوسری اہم احادیث کی طرح ہے جس کا معنی سمجھنا اور ادراک کرنا ضروری ہے، تو لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو اپنی نماز، روزے اور زکوٰة کے باوجود مفلس ہے، کیونکہ اس نے کسی کو گالی دی، کسی پر تہمت لگائی، کسی کا مال کھایا، کسی کا خون بہایا اور کسی کو مارا۔

اور اس کا افلاس یہ ہوگا کہ اس کی نیکیاں جو اس کا سرمایہ ہیں لے لی جائیں گی اور اس کو دی جائیں گی اور اس کی گالی گلوچ، تہمت اور مار پیٹ کی قیمت اس سے ادا کی جائے گی، اور جب اس کی نیکیاں اس پر واجب حقوق ادا کرنے سے پہلے ختم ہو جائیں گی تو ان کی خطائیں لے کر اس پر ڈال دی جائیں گی، پھر اسے آگ میں پھینک دیا جائے گا۔

اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے پوچھا کیا تم جانتے ہو مفلس کون ہے؟ کیا تم جانتے ہو یعنی کیا تم امور کے باطن کا علم رکھتے ہو، کیا تم جانتے ہو کہ حقیقی مفلس کون ہے؟ یہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: "غنا اور فقر اللہ کے سامنے پیش ہونے کے بعد ہے" جب ان سے یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے اپنے تجربات کی بنیاد پر جواب دیا کہ ہم میں مفلس وہ ہے جس کے پاس نہ درہم ہے اور نہ سامان، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی نظر میں مفلس ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، .... آپ نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن روزے، نماز اور زکوٰة کے ساتھ آئے گا...

اور یہ سیدنا عمر کے اس قول کی تصدیق کرتا ہے: جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نماز پڑھے لیکن اہم چیز استقامت ہے، کیونکہ نماز، روزہ، حج اور زکوٰة یہ عبادات ہیں جنہیں انسان خلوص نیت سے بھی کر سکتا ہے اور دکھاوے کے لیے بھی، لیکن مرکز ثقل یہ ہے کہ اللہ کے حکم پر قائم رہا جائے۔

ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے، اور ہمیں اپنے متقی بندوں میں سے بنائے، اور ہماری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے، اور ہمیں پیشی کے دن رسوا نہ کرے، اے اللہ آمین

معزز سامعین، اور آپ سے ایک اور نبوی حدیث کے ساتھ ملاقات ہونے تک، ہم آپ کو اللہ کے سپرد کرتے ہیں جس کی امانتیں ضائع نہیں ہوتیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہ ریڈیو کے لیے لکھا گیا ہے

عفراء تراب

مع الحديث الشريف - المنافقون وأعمالهم الشريرة

مع الحديث الشريف

منافقین اور ان کے بُرے اعمال

ہم آپ سب کو خوش آمدید کہتے ہیں، اے پیارے لوگو ہر جگہ، آپ کے پروگرام "مع الحديث الشريف" کی ایک نئی قسط میں اور ہم بہترین سلام کے ساتھ آغاز کرتے ہیں، پس السلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کو سردار نہ کہو، کیونکہ اگر وہ سردار ہوا تو تم نے اپنے رب عزوجل کو ناراض کر دیا۔“ اسے ابو داؤد نے صحیح سند سے روایت کیا ہے۔

اے معزز سامعین

یقینا بہترین کلام اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، اور بہترین رہنمائی اس کے نبی محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی ہے، اس کے بعد،

یہ حدیث شریف ہمیں ان منافقوں سے نمٹنے کے طریقے کی طرف رہنمائی کرتی ہے جنہیں ہم جانتے ہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ واحد شخص تھے جو تمام منافقوں کو ان کے ناموں سے جانتے تھے، لیکن ہم ان میں سے کچھ کو ان کی صفات سے جان سکتے ہیں، جیسے وہ جن کی طرف قرآن نے اشارہ کیا کہ وہ فرائض کو سستی سے اور بادل ناخواستہ انجام دیتے ہیں، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہیں، فتنوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، زمین میں فساد پھیلاتے ہیں اور برائی کو پھیلانا پسند کرتے ہیں، اس کی دعوت دے کر، اس کی حفاظت کرکے اور اس کی نگہداشت کرکے، اور ان کی طرح جو اسلام اور مسلمانوں پر جھوٹ بولتے ہیں... اور ان کے علاوہ دیگر جنہوں نے نفاق سے اپنا تعلق جوڑا۔

لہذا ہمیں اس بات کو سمجھنا چاہیے جسے شریعت نے اچھا قرار دیا ہے اور جسے برا قرار دیا ہے، تاکہ ہم منافق کو مخلص سے پہچان سکیں، اور اس کے مطابق اس کے خلاف مناسب کارروائی کریں۔ ہمیں اس شخص کی جانب سے محفوظ نہیں ہونا چاہیے جو شریعت کی مخالفت کرتا ہے اور وہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کی خاطر یہ سب کچھ کر رہا ہے، اور ہمیں اس کے پیچھے نہیں چلنا چاہیے اور نہ ہی اس کی تائید کرنی چاہیے، اور نہ ہی اس سے کم یہ کہ ہم اسے سردار کہیں، بصورت دیگر اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہم سے ناراض ہو جائے گا۔

ہم مسلمانوں کو اسلام اور مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ فکر مند ہونا چاہیے، اور کسی منافق کو اپنے دین اور اپنے اہل و عیال پر داخل ہونے کا موقع نہیں دینا چاہیے، کیونکہ وہ ان خطرناک چیزوں میں سے ہیں جن کا ہمیں ان دنوں ان کی کثرت اور ان کے متعدد چہروں کی وجہ سے سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہمیں اسلام کا دعویٰ کرنے والوں کے اعمال کی پیمائش کرنے کے لیے شرعی میزان کو حاضر رکھنا چاہیے، کیونکہ اسلام ہمارے لیے ان جیسے شریروں سے حفاظت ہے۔

ہم اللہ سے دعا گو ہیں کہ وہ ہماری امت کو ان جیسے مجرموں سے محفوظ رکھے، اور ہمیں سیدھے راستے اور صحیح میزان کی طرف رہنمائی فرمائے جس کے ذریعے ہم لوگوں کے رویے کی پیمائش کریں اور ان سے دور رہیں جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا، آمین۔

اے ہمارے پیارے، اور جب تک ہم کسی اور نبوی حدیث کے ساتھ آپ سے ملتے ہیں، ہم آپ کو اللہ کی حفاظت میں چھوڑتے ہیں، والسلام عليكم ورحمة الله وبركاته۔

اسے ریڈیو کے لیے لکھا: ڈاکٹر ماہر صالح